میڈاس اور محترمہ 30-03-2011

kal-ki-baat


28مارچ کی شب کو ایوان صدارت میں اکیسویں اے پی این ایس ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب تھی۔ یہ تقریب اخباری صنعت سے منسلک شعبوں میں امتیا ز حاصل کرنے والے افراد اور اداروں کو اعلیٰ کارکردگی کے اعزازات دینے کے لئے منعقد کی جاتی ہے۔
یہ بات کہے بغیر ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایڈورٹائزنگ کو اخباری صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے پی این ایس ایوارڈز میں مرکزی اہمیت شعبہءاشتہارات میں اولیت حاصل کرنے والے ایوارڈ کو حاصل ہوتی ہے۔
گزشتہ برس کی طرح اس مرتبہ بھی یہ ایوارڈ میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈنے حاصل کیا جس کے چیف ایگزیکٹو انعام اکبر میرے صاحبزادے ہیں۔ میرے دوسرے دونوں بیٹے آفتاب اکبر اور ندیم اکبر بھی میڈاس گروپ کے معماروں میں ہیں۔ اس گروپ کا ایک ستون آصف الطاف بھی ہے جو میرا بھانجا اور داماد ہے۔ ان سب کی اپنی اپنی کمپنیاں ہیں اور سب نے ایڈورٹائزنگ مارکیٹنگ اور آڈیو وژوئل کے شعبوں میں نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں۔ ان سب کی کامیابیوں پر مجھے بجا طور پر فخر ہونا چاہئے اور ہے۔
29مارچ کی شب کو متذکرہ تقریب میں میری ملاقات جناب فرحت اللہ بابر سے ہوئی تو انہوں نے بڑے پرُخلوص انداز میں مبارک باد دی اور ساتھ ہی ماضی کی یادوں کو بھی تازہ کیا جب ہم ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔ یعنی دونوں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ٹیم کا حصہ تھے۔
پی پی پی کا بدترین مخالف اور ناقد بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گا کہ فرحت اللہ بابر نہایت شریف النفس آدمی ہیں جن کی سب سے بڑی خوبی ان کی آدمیّت ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جو مبارکباد آپ مجھے دے رہے ہیں اس کے حقیقی حقدار میرے بیٹے ہیں ، جنہوں نے میڈاس گروپ کو موجود ہ مقام تک پہنچایا ہے۔ میں تو ایڈورٹائزنگ کو کب کا چھوڑ چکا ہوں۔
” آپ سے بہت سارے اختلافات ہوسکتے ہیں“ جناب فرحت اللہ بابر نے مسکرا کر کہا ۔ ” مگر آپ کے سب دوست آپ کو پسند کرتے ہیں اور اتفاق سے میں بھی خو د کو آپ کا دوست سمجھتا ہوں۔“
میں نے فرحت اللہ بابر کا ذکر یہاں اس لئے کیا ہے کہ ان کے ذکر کے ساتھ میرا ذہن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرف جاتا ہے۔ اور یہ بات صرف میں جانتا ہوں کہ میڈاس کو دوسری زندگی دینے میں کلیدی کردار محترمہ کا تھا۔
آپ کے ذہن میں فوراً یہ سوال آئے گا کہ کیسے تو اس کا جواب میں آئندہ کبھی دوں گا۔

Scroll To Top