ریلوے کو ہنگامی بنیادوں پر درست کیا جائے

بلوچستان اور کراچی ملک دشمن عناصر کی کاروائیوں کا کئی دہائیوں سے ہدف ہیں۔ بندرگاہ کراچی کی ہو یا گوادر کی پاکستان کے بدخواہوں کو کسی طور پر ان علاقوں میں امن وامان کی بہتری گوارہ نہیں۔لسانی اور مذہبی دہشت گردی کی کاروائیاں ان علاقوں میں حٰیران کن نہیں رہیں مگر سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیوں کے نتیجے میں امن وامان کی صورت حال میں یقینا بہتری آئی ہے مگر کوئٹہ میں چند روز ہزارہ برداری کی چار خواتین دہشت گردی کا نشانہ بنی۔ ہزارہ برادری ماضی میں ملک وملت کے لیے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کرتی رہی مگر محرم الحرام کے مقدس دنون میں ایسے واقعات کسی طور پر نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔
دراصل مقبوضہ وادی میں کشمیری حریت پسندوں کی بھرپور کاروائیوں کے نتیجے میں نئی دہلی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ نریندر مودی نے تو اعلانیہ طور پر بلوچستان میں امن وامان کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ درست کہ کشمیر اور بلوچستان کا کوئی مقابلہ نہیں مگر بی جے پی حکومت کے پاس اب مایوسی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ رقبے کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں ملک دشمنوں کی تازہ کاروائی ریلوے ٹریک کو اڈنے کی صورت میں سامنے آئی ۔جعفر ایکسپریس کے ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جان بحق اور21 زخمی ہوگے ۔ حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے مچھ کے قریب ریلوے ٹریک کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا جو اس وقت پھٹا جب کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والے ٹرین جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی۔ ادھر ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثہ میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت نازک ہے۔ دہشت گرد ماضی میں بھی جعفر ایکسپریس کو کئی بار نشانہ بنا چکے جس میں متعدد معصوم شہری جان بحق اور زخمی ہوئے ۔ دوسری جانب پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ریلوے پھاٹک کھلا رہ جانے کے باعث مال گاڈی اور مسافر بس میں تصادم کے باعث 3 افرادجان بحق اور 13 زخمی ہوگے۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے لاپرواہی برتنے والے ریلوے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ جان بحق ہونے والوں کے لیے دس دس لاکھ اور زخمیوں کے لیے تین تین لاکھ دینے کا اعلان کیا گیا۔
ایک زمانہ تھا جب ملک میں ٹرین کا سفر سستا ہونے کے علاوہ محفوظ بھی تصور کیا جاتا تھا چنانچہ عام شہریوں سمیت اہم شخصیات بھی ٹرین کے زریعہ ہی آمدورفت کو ترجیح دیتی تھیں۔ریلوے کے خسارہ میں جانے کا ایک سبب پرائیوٹ بس سروس بھی بتایا جاتا ہے۔ تاثر یہی ہے کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بس مالکان بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر حکومتوں سے رابطہ میں رہتے ہیں جس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ پاکستان ریلوے کی کارکردگی بد سے بدتر ہوگی ۔ ایک طرف ریلوے اسٹشنیوں پر سہولیات کا فقدان ہے تو دوسری جانب بروقت آمد یا روانگی کی روایات کا ختم ہونا بھی مسافروں کو بے زاری کرنے کا باعث بنا۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ ریلوے بڑی حد تک عام شہریوں کی سواری بن چکی لہذا خواص اس کی بہتری کے لیے ٹھوس اقدمات اٹھانے کو تیار نہیں۔
بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں شرپسندوں کی طرف سے ریلوے کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات ہوچکے۔ دہشت گردوں کے لیے نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنانا اس لیے بھی مشکل نہیں رہا کہ ریلوے ٹریک ایسے علاقوں سے بھی گزرتا ہے جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلاشبہ وزرات ریلوے کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے ایک طرف اسے محمکہ ریلوے کو خسارے سے نکالنا ہے تو دوسری طرف گاڈیوں کی بروقت آمد ورفت کو یقینی بناتے ہوئے مسافروں کو بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی بھی ممکن بنانی ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بارے عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنے کی بجا طور پر اہلیت رکھتے ہیں۔ ریلوے کی وزرات کا قلمدان سنھبالنے کے بعد بہتری کے لیے کچھ نہ کچھ اقدمات ضرور اٹھائے گے مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔پنجاب اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ المناک واقعات وزرات ریلوے کو مذید موثر اقدمات اٹھانے کی ضرورت پر زور دے رہے۔ بدانتظامی اور دہشت گردی دونوں سے ھنگامی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ حکام کو جان لینا چاہے کہ درپیش صورت حال میںمعاملہ محض ریلوے کی بدنامی تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے دشمن ہر تخریبی کاری کو اب اپنی کامیابی سے تعبیر کررہے۔حالیہ پاک بھارت کشیدیگی کے پس منظر میں یہ خارج ازمکان نہیں رہا کہ لسانی، سیاسی اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کی ہمارا روایتی حریف اس انداز میں سرپرستی کرے کہ وہ بدامنی کی تازہ لہر کو مذید پرتشدد بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔
یہ بدقسمتی ہے کہ ایک طرف ہمیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو دوسری طرف قومی سطح پر ہم ایسی لاپرواہی کے مرتکب ہورہے ہیں جو ہمیںمسلسل نقصان پہنچا رہی۔ موجودہ بحرانوں سے نکلنے جہاں سب ہی سرکاری محکموں کو ترجیح بنیادوں پر خود کو بہتر بنانا ہوگا وہی سیاسی ومذہبی قیادت کو بھی اپنی بنیادی ترجیحات ازسر نو ترتیب دینا ہونگی ۔ بادی النظر میں پاکستانیوں کے مسائل کو اہمیت یا اولیت دیئے بغیر ایسا ممکن نہیں کہ قومی سطح پر مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہوجائے۔عوامی حلقے کا ریلوے ہی نہیں سب ہی محکموں کا قبلہ درست کرنے کا مطالبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا۔

Scroll To Top