بہت ہو گئی! 12-9-2008

گزشتہ دنوں امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے بڑے معنی خیز انداز میں یہ بیان دیا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ( اور پاک افغان سرحد کے معاملات) کو جس قدر بہتر انداز میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمجھتے ہیں، کوئی اور نہیں سمجھتا۔ (چنانچہ ہمیں ان کی ججمنٹ پر بھروسہ کرنا چاہئے)۔
ہمارے بعض حلقوں میں ایڈمرل مائیک ملن کے اس ریمارک کا جو مفہوم لیا گیا وہ ہمارے لئے خوش آئند نہیں تھا۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی مذمت میں جو سخت بیان دیا ہے وہ اس تاثر کو زائل کرنے کےلئے کافی ہونا چاہئے کہ امریکہ کی فوجی حکمت عملیوں کو پاک فوج کی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔
اپنے بیان میں جنرل کیانی نے بڑے واضح انداز میں امریکہ کو پیغام دیدیا ہے کہ وطن عزیز کی خود مختار حیثیت کی لگاتار بے حرمتی پر آنکھیں بند کئے رکھنا پاک سرحدوں کے محافظوں کےلئے ممکن نہیں ہوگا، اور اس سے پہلے کہ صبر کا پیمانہ کسی مرحلے پر لبریز ہو جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ”پاک امریکہ پارٹنر شپ“ میں کوئی بڑی دراڑ پڑ جائے، امریکیوں کو اپنے رویے میں ضروری تبدیلی لے آنی چاہئے۔
جنرل کیانی نے اپنے بیان میں یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ چند روز قبل امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن میں امریکی اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ پاک اعلیٰ فوجی قیادت کی جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں امریکیوں پر یہی بات واضح کی گئی تھی۔
مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ امریکہ کو ہمارے کسی بھی احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں، خواہ وہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ کیاجائے۔
اس صورتحال میں ہماری فوجی قیادت نے تو اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کب سنجیدگی سے واشنگٹن پر یہ بات واضح کرے گی کہ ہم بے حس ضرور ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ کسی بھی تھپڑ کے جواب میں اپنے آقا کو گھور کر بھی نہ دیکھیں۔؟

Scroll To Top