امریکہ ہم پر فرد جرم عائد کرچکا ہے 31-10-2009

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ` اپنی دلکش باتوں دلنواز مسکراہٹوں ` اور امداد کے ” پرخلوص“ اعلانات سے اہل پاکستان کے ذہنوں میں ابلتے خدشات کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوئیں یا نہیں ` میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ۔ لیکن جو کچھ کہنے وہ آئی تھیں وہ ضرور کہہ گئیں۔
پاکستان کو تنہا نہ چھوڑنے کے عہد کی بار بار تجدید ` اور پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے عفریت کا قلع قمع کرنے کے عزم کو کئی مرتبہ دہرانے کے بعد محترمہ نے فرمایا۔
” سنہ 2002ءکے بعد القاعدہ نے اپنی پناہ گاہیں اور کمین گاہیں یہاں پاکستان میں ہی بنا رکھی ہیں۔ میں اس بات کو خلاف عقل سمجھتی ہوں کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے اس حقیقت سے آگہی نہیں رکھتے ہوں گے۔۔۔“
یہ الفاظ درحقیقت ان الزامات کا اعادہ کرتے ہیں جو کیری لوگر بل میں شامل کئے گئے ہیں۔
کیری لوگر بل میں تو متذکرہ پناہ گاہوں اور کمین گاہوں کا ذکر کوئٹہ اور مرید کے کانام لے کرکیا گیا ہے۔
کیری لوگر بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امداد لینے کے بعد پاکستان کی حکومت اور فوج اس بات کی پابند ہو گی کہ اسے القاعدہ کے ٹھکانوں کے بارے میں جب بھی معلومات دی جائیں تو وہ ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔
ہمیں القاعدہ کی پاکستان میں موجودگی جس انداز میں بتائی جاتی ہے اس سے ” کہے بغیر“ یہ ہم پر یہ واضح کرنا مقصود ہوتا ہے کہ القاعدہ ہمارے اداروں کی ہی پناہ میں ہے۔
اگر ہم معصوم بنے رہیں یہ الزام نہ سمجھ پائیں تو یہ ہماری سادگی ہے۔۔۔ ورنہ امریکہ تو فرد جرم عائد کرچکا ہے۔۔۔
کیری لوگر بل کے مدح سراﺅ۔۔۔آج بھی وقت ہے اپنی آنکھیں کھول لو۔۔۔ ہمارے ” دوست “ ہمارے پورے ملک کو میدان جنگ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں !

Scroll To Top