خلقِ خدا کی حکمرانی اور ہمارے ووٹ بنک 27-03-2011

kal-ki-baat

تصورِ جمہوریت کے بارے میں ایک طرف علامہ اقبال ؒ نے یہ کہا تھا کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تو لا نہیں جاتا ’ اور دوسری طرف یہ کہ ۔
” سلطانی ءجمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تجھ کو نظر آئے مٹا دو “
یہ دونوں نقطہ ہائے نظر اپنی اپنی جگہ بڑا وزن رکھتے ہیں۔ اگر صرف ” گنتی “ اور ” عددی“ برتری کے تصور کو سامنے رکھا جائے تو جمہوریت ویسا ہی نقشہ پیش کرے گی جیسا نقشہ ہم پاکستان میں دیکھتے چلے آئے ہیں۔ لیکن بات اگر ” حقِ حکمرانی “ کی کی جائے تو خدا کی حاکمیت کے بعد حق ِحکمرانی ‘ خلقِ خدا کو ہی ملنا چاہئے ۔ خلقِ خدا کی حکمرانی کے اس تصور کو ہی علامہ اقبال ؒ نے ” سلطانی ءجمہور “ کہا ہے۔ اور ” سلطانی ءجمہور “ کے اس تصور کو انہوں نے تمام ”نقوش ِ ِ کہن “ کو مٹا ڈالنے کی ضرورت کا پابند بنا دیا ہے۔مغربی جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ اس میں عوام کے حقِ حکمرانی کو صرف ” عددی برتری“ پر کھڑا کیاگیا ہے اور اسے نقوشِ کہن مٹا ڈالنے کے اخلاقی ہدف کا پابند نہیں بنایا گیا۔
عددی برتری کے حصول کے لئے انتخابی مہم چلائی جاتی ہے۔ اس مہم پر کثیر مالی وسائل خرچ کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نسلی لسانی اور علاقائی عصبیتوں کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ اگر امریکہ کے صدارتی نظام کو لے لیں تو وہاں صدارتی امیدوار بننے کے لئے ضروری ہے کہ انتخابی مہم پر سرمایہ کاری کرنے کے لئے مطلوبہ مالی وسائل ہوں۔ جن امیدواروں کے پاس یہ وسائل نہیں ہوتے یا تو وہ کھڑے ہی نہیں ہوسکتے ‘ یا پھر انہیں ” مفادات کے گروہ “ سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ یہی صورتحال پارلیمانی نظام میں پائی جاتی ہے۔ صرف وہی امیدوار ” میدانِ انتخاب“ میں کود سکتے ہیں جن کی رسائی مطلوبہ وسائل تک ہو۔
مغرب میں تو یہ نظام کسی لحاظ سے کامیاب بھی رہا ہے کیوں کہ وہاں غربت اور امارت کے درمیان اتنے خوفناک فاصلے نہیں جتنے خوفناک فاصلے ایسے ممالک میں ہیں جنہیں صدیوں تک نو آبادیاتی غلامی میں رہ کر سامراجی استحصال کا نشانہ بننا پڑا۔پاکستان ایسے ہی ممالک میں ایک ہے۔ یہاں سے جب غیر ملکی آقا رخصت ہوئے یا رخصت کئے گئے تو وہ اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے دیسی آقاﺅں کا گروہ چھوڑ گئے جو اب تک یہاںکبھی عددی برتری کے نظام کی آڑ میں اور کبھی شخصی آمریت کے زور پر حکومت کرتا رہا ہے۔ ان دیسی آقاﺅں کی نشاندہی اور شناخت کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ لوگ اپنے وسائل کے زور پر ہمارے پورے سیاسی نظام کو اپنے ” قبضہ ءقدرت“ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے ۔ صرف ” ضیائی آمریت “ کے بعد کے دور کو سامنے رکھتے ہیں۔ اس دور میں ایک ” آٹھ سالہ “ عہد ” مشرفی آمریت “ کا بھی ملے گا مگر جو سیاسی اکابرین تقریباً ربع صدی کے اس دور میں سیاست کی سٹیج پر اقتدار کے کھیل میں حصہ لیتے رہے ان کے چہرے تبدیل نہیں ہوئے۔ اور اب تو ان کی دوسری نسل اپنے ” حقِ اقتدار “ کو منوانے کے لئے تیار ہورہی ہے۔ خلقِ خدا کی حکمرانی یا سلطانی ءجمہور کا حسین تصور ایسے ” امرائ“ کی حکمرانی کے سانچے میں ڈھلا نظر آتا ہے جو عام آدمی کو محض ایک ووٹ کا درجہ دیتے ہیں اور اسے عددی برتری حاصل کرنے کا ایک پرزہ سمجھتے ہیں۔
میں نے یہ لمبی چوڑی تمہید ان ارشادات کا جواب دینے کے لئے باندھی ہے جن میں معروف دانشور اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا تھا کہ پاکستان کے مقدر میں لکھا جاچکا ہے کہ ” سندھ زرداری صاحب کی پی پی پی کی ملکیت رہے گا ’ کراچی پر الطاف بھائی کی ایم کیو ایم قابض رہے گی اور پنجاب دوتہائی میاں نوازشریف کی مسلم لیگ کے حصے میں آتا رہے گا اور ایک تہائی زرداری صاحب کی پی پی پی کے حصے میں۔“
یہ فیصلہ نجم سیٹھی صاحب نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں ارشاد فرمایا۔ نقطہ نظر ان کا یہ ہے کہ ” یہی وہ جماعتیں ہیں ’ اور یہی وہ شخصیات ہیں جو دورِ حاضر کی روشن خیال سوچ کی مظہر اور عوامی امنگوں کی ترجمان ہیں ’ جہاں تک نظریہ پاکستان اور اسلام کی بات کرنے والے لوگوں اور گروہوں کا تعلق ہے ان کی قسمت میں شور شرابہ تو لکھا ہے ’ ووٹ نہیں لکھے۔“
جناب نجم سیٹھی کے نقطہ نظر سے ” روشن خیال “ سوچ کا ایک تو امریکہ کی طرف مائل ہونا ضروری ہے ’اور دوسری طرف ” سیاست اور دین “ کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کی تمنا رکھنے والوں سے متصادم ہونا بھی۔ ایک بات جو نجم سیٹھی صاحب یاد رکھنا نہیں چاہتے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے ووٹ بنکوں کا حقیقی نقشہ 1977ءمیں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران کھینچا گیا تھا۔ ایک طرف ” نظامِ مصطفی “ کا ووٹ بنک تھا اور دوسری طرف بھٹو مرحوم کی پی پی پی کا۔ المیہ یہ ہوا کہ ” نظامِ مصطفی “ کے ووٹ بنک کو جنرل ضیاءالحق نے ہائی جیک کرلیا جو بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے میاں نوازشریف کی جھولی میں آگرا۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ وطن ِعزیز میں جب بھی خلقِ خدا کی حاکمیت یا ” سلطانی ءجمہور“ کے تصور کو اپنے قدم جمانے کا موقع دیا جائے گا ¾ نظامِ مصطفی کا وو ٹ بنک اپنی قوت ضرور دکھائے گا۔ ” روشن خیال سوچ “ صر ف ایک صورت میں بالادستی حاصل کرسکتی ہے کہ ” نظامِ مصطفی “ کے نقیب اور علمبردار تقسیم و تفریق کا شکار ہوجائیں۔
یہاں یہ سوال ابھرے بغیر نہیں رہتا کہ نظامِ مصطفی سے میری مراد کیا ہے۔
میں بہت لمبی چوڑی تشریح میں جائے بغیر یہ کہوں گا کہ اس کے لئے ہمیں ایک تو ابن خلدون کے مقدمے میں موجزن سوچ سے استفادہ کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ فاروقِ اعظم ؓ کی اس خط و کتابت کا بغور مطالعہ کرناچاہئے جو انہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمروالعاصؓ سے کی تھی۔ابن خلدون نے اپنے ’ ’ مقدمہ “ میں یہ بات بہت زور دے کر لکھی تھی کہ جس قوم کی حکمرانی اس کے تاجروں کے ہاتھوں چلی جائے گی وہ اپنے آپ کوتباہی سے نہیں بچا سکے گی کیوں کہ تجارتی مفادات اور حکومتی اختیارات کا ایک ہاتھ میں ہونا اور رہنا ملک اور معاشرے پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔
جہاں تک حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عمرو العاص ؓ کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا تعلق ہے وہ سکندریہ سے مدینہ پہنچنے والی اِن اطلاعات کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی کہ مصر کے گورنر حضرت عمر و العاص ؓ نے اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح امارت وآسائش بھری بودو باش اختیار کرلی ہے اور ان کے پاس دولت کے انبار جمع ہوگئے ہیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت عمرو العاص ؓ سے ان اطلاعات کی وضاحت طلب کی ۔ جو وضاحت حضرت عمرو العاص ؓ نے بھیجی اس سے خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلا۔ حضرت عمرو العاص ؓ کے پاس حضرت عمر ؓ کے ہر اعتراض کا مدلّل جواب تھا۔ انہوں نے بنیادی موقف یہ اختیار کیا کہ محل میں رہنا سکیورٹی کی بناءپر ان کی مجبوری تھی ’ اور دولت انہوں نے تجارت کرکے کمائی تھی۔
حضرت عمر ؓ کسی بھی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے حضرت عمر و العاص ؓ کو لکھا۔
” میرا ذہن یہ تسلیم ہی نہیں کرسکتا کہ رسول اکرم کا کوئی پیروکار اپنے پاس اتنی دولت رکھ سکتا ہے ۔ یا اتنے بڑے پیمانے پر دولت کما سکتا ہے۔ اگر یہ دولت تم نے تجارت کرکے کمائی ہے ’ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم گورنر ہو اور تمہارا کام تجارت کرنا نہیں ’ اپنے منصب کی ذمہ داریاں دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا ہے ۔ اگر تم چاہتے ہو کہ پابہ ءزنجیرمدینہ نہ لایا جائے تو تجارت کے ذریعے کمائی ہوئی تمام دولت بیت المال میں جمع کرادو۔‘ ‘

LikeShow more reactions

Comment

Scroll To Top