آخری آپشن آپ کا نہیں ہوگا میاں صاحب!

kuch-khabrian-new-copy


جاتی امرا میں نون لیگی قیادت کا جو اجلاس ہوا اس میں ایک اطلاع کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نہایت ”غضب ناک“ موقف اختیار کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ضروت پڑنے پر 1998ءکی تاریخ دہرانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ میاں نواز شریف پر غیظ وغضب کے غلبے کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فوج کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ان کے حکم نامے کو مسترد کر کے ان کے ”اختیار“ کو چیلنج کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ متذکرہ اجلاس کے شرکاءمیں کسی نے انہیں یہ احساس دلا یا ہوگا کہ معاملہ صرف ان کے اختیار کا نہیں۔ قومی مفاد کا بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ 1998ءمیں جنرل کرامت فوری طور پر مستعفی ہونے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ یہ1998ءنہیں 2017ہے۔ اور میاں صاحب کا ”اختیار“ سمندر کی طوفانی لہروں میں پھنسی کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہا ہے ۔۔ انہیں اپنی صاحبزادی کو اپنے ”اختیار“ کا تحفظ فراہم کرنے کا پورا حق ہے مگر جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل کرامت کا آپشن استعمال کرنے کی بجائے جنرل عبدالوحید کاکڑ کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اور یہ بات پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آخری آپشن بہرحال پاکستان کے آرمی چیف کے ہاتھوں میں ہی ہوا کرتا ہے۔
پاکستان کے بے بس عوام کو اپنی فوج سے شکایت ہی یہی ہے کہ اس نے بھی عوام کی ہی طرح وطنِ عزیز کو کرپشن کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے دیکھا ہے اور کچھ نہیںکیا۔ اور ڈان نیوز گیٹ کا معاملہ تو پاکستان کی قومی سلامتی سے جُڑا ہوا ہے۔

Scroll To Top