بات اس بد صورتی کی جو خبث باطن سے پیدا ہوتی ہے

kuch-khabrian-new-copyپاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا مرحلہ

یہ انتظار کہ نواز شریف کب ڈان نیوز گیٹ کی رپورٹ کو منظرِ عام پر لاتے ہیں۔ لاتے بھی ہیں یا کوشش کرتے ہیں کہ کوئی مُک مُکا ہو جائے۔
عمران خان کا انکشاف کہ انہیں خاموش رہنے کے لئے دس ارب کی آفر کی گئی تھی۔
اس انکشاف سے آنے والا بھونچال۔۔
شہباز شریف کی طرف سے پنجاب حکومت کا اعلان کہ عمران خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
رات کے اندھیرے میں بھارتی وزیر اعظم کے ایلچی اور بڑے بھارتی صنعتکار و تاجر سجن جندال کی اسلام آباد آمد اور مری کے ”محفوظ“ ماحول میں وزیر اعظم سے ملاقات
محترمہ مریم نواز شریف کی چھتیس گھنٹے بعد وضاحت کہ دورہ نجی تھا اور ملاقات دو دوستوں کے درمیان تھی۔
اسلام آباد میں عمران خان کا شاندار پاور شو اور دس ارب کی آفر کے بارے میں مزید گفتگو ۔۔
اور آخر میں رانا ثناءاللہ کا یہ بیان کہ عمران خان کو دس ارب کی آفر کون کرے گا وہ تو دس روپے کے قابل بھی نہیں۔
یہ ہے وہ منظر نامہ جس میں مجھے آج کا تبصرہ لکھنا ہے۔
میری چشمِ تصور کے سامنے رانا ثناءاللہ کی صورت گھوم رہی ہے۔ اور میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ رہا کہ یہ رانا ثناءاللہ کا اپنا چہرہ نہیں۔ میاں نواز شریف کی حکومت کا چہر ہ ہے۔
بد صورتی آدمی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی مگر جو بد صورتی خبث باطن کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اس کا ذمہ دار انسان خود ہوتا ہے۔
میں یہاں وزیر برائے کھیل ریاض پیر زادہ کے استعفےٰ کا ذکر کرنا بھول گیا۔ انہوں نے نہایت غصے کی حالت میں اپنے ضمیر کی آواز سنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں میاںصاحب کے دستِ راست فواد حسن فواد کی کرپشن مزید برداشت نہیں کر سکتا۔
میاں صاحب کے آدمی ریاض پیرزادہ صاحب کو منانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر وہ مان گئے تو کیاا نہیں آئینے میں اپنا چہرہ اچھا نہیں لگے گا۔؟

Scroll To Top