آئی ایس آئی کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج

kuch-khabrian-new-copyبھارتی صنعتکار اور تاجر جندال کی پُر اسرار آمد اور مری کی پہاڑیوں میں وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ان کی معنی خیز اور اِسرار انگیز ملاقات جن حالات میں ہوئی ہے وہ نہایت غیر یقینی اور پریشان کن ہیں۔ بھارت تو پاکستان کا دشمن ہے ہی بھارت کا موجودہ وزیر اعظم مودی گجرات کا وہ خونخوار درندہ ہے جس کی پیاس صرف مسلمانوں کے خون سے بجھتی ہے۔ جندال نے مودی اور نواز کے درمیان ایک بروکر کا کردار ادا کیا ہے۔ نواز شریف نے مودی کی کون کون سی شرائط مان رکھی ہیں، مودی کے لئے پاکستان کا موجودہ حکومتی تسلسل کس قدر ضروری ہے اور نواز شریف کو مودی کے ساتھ ”معاملات“ ٹھیک رکھنے کے عوض بھارت کیا مراعات دے گا اس کا علم جندال کو تو ضرور ہوگا مگر میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے آئی ایس آئی چیف کو بھی ہونا چاہئے۔
لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کور کمانڈر کراچی کی حیثیت سے کار ہائے نمایاں انجام دیئے مگر آئی ایس آئی کا سربراہ بننا ایک مختلف نوعیت کا چیلنج ہے۔ اِ ن سے پہلے کئی برس سے آئی ایس آئی کا شمار دنیا کی بہترین انٹیلی جنس سروس کے طور پر ہوتا رہا ہے۔
آئی ایس آئی کا یہ امتیاز قائم رکھنا جنرل نوید مختار کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ ان کا پہلا امتحان ہی بڑا سخت اور کڑا ہے۔
مری کی پہاڑیوں میں۔۔بگنگ(Bugging) کے خوف سے بے نیاز ہو کر میاں نواز شریف نے اپنے بیٹے کے بزنس پارٹنر کے ساتھ کیا کیا معاملات طے کئے، اس کا سراغ رکھنا جنرل صاحب کی اولین ذمہ داری ہے۔

Scroll To Top