کیا یہ قوم بھکاریوں کی ہے اور آپ ان داتا ہیں میاں صاحب ؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilمحترم وزیراعظم۔۔۔۔ آپ عوامی رابطہ مہم پر نکلے ہیں۔ ضرور نکلیں۔ آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ پر جو الزامات لگ رہے ہیں ان کا جواب آپ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے دیں گے ۔ ضرور دیں۔ آپ پر الزام یہ نہیں کہ آپ کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے جو ہزار ہا ایسے مالداروں کا اعمال نامہ ہے جنہوں نے ٹیکس سے بچنے یا اپنے ذرائع آمدنی چھپانے کے لئے آف شور کمپنیاں بنایا خرید رکھی ہیں۔ آپ پر الزام یہ ہے کہ آپ حسن نواز ¾ حسین نواز اور مریم نواز کے والد ہیں جن کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے۔ والد ہونا واقعی کوئی الزام نہیںمگر دنیا میں کتنے ایسے والد ہیں یا ہوں گے جو کسی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوں گے اور جن کے دستخطوںسے اربوں کھربوںسودے یا معاہدے ہوتے ہوں گے ؟ آپ کی اولاد کی خوش نصیبی ہے کہ اُن کے والد 1992ءمیں بھی اپنے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور 2016ءمیں بھی انپے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔اور آپ کی خوش نصیبی یہ ہے کہ آپ کی اولاد نے ہوش سنبھالتے ہی ایسے کاروباری کارنامے انجام دیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئی۔ آپ کو اُس وقت کتنی خوشی ملی ہوگی جب حسین نواز نے آپ کی مالی مشکلات دور کرنے کے لئے آپ کو بیس کروڑ کا چیک بھیجا تھا۔! میں سوچ رہا ہوں کہ اُس وقت مریم صاحبہ نے یہ ٹویٹ کیوں نہ پوسٹ کیا ” ویل ڈن حسین!“ لیکن شاید تب وہ ٹویٹر کا مطلب ہی نہیں جانتی ہوں گی یا ٹویٹر کاوجود ہی نہیں ہوگا۔
یہاں آپ کو حضرت عمر ؓ کاایک واقعہ سنانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ آپ ؓ کا ایک بیٹا روزگار کی تلاش میں عراق گیا۔ ایک سال کے بعدواپس آیا تو مال سے لد ے ہوئے اونٹوں کے ساتھ آیا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ بیٹے اتنا مال کہاں سے ملا۔ بیٹے نے جواب دیا کہ تجارت کی۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ تجارت کے لئے پیسہ کہاں سے آیا ۔ بیٹے نے جواب دیا کہ چچا نے قرض دیا جو لوٹا چکا ہوں۔ چچا سے مراد کوفہ کا گورنر تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فوراً گورنر کو مدینہ طلب کیا جو صحابی ءرسول بھی تھے۔ اُن سے حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ ” کیا وہاں بیت المال میں اتنی دولت آگئی ہے کہ ہرشہری کو قرض دے سکتے ہو۔ ؟“ گورنر نے جواب دیا کہ” نہیں ۔ ایساتو نہیں۔“ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ ” پھر تم نے میرے بیٹے کو قرض کیوں دیا ؟ اس لئے ناں کہ وہ میرا بیٹا ہے؟ میں تمہیں معزول کرتا ہوں کیوں کہ تم امانت داری کے اہل نہیں ہو “ پھر حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ ” سارا مال بیت المال میں جمع کرادو۔ اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔“
یہ واقعہ جناب ِ وزیراعظم میں نے آپ کو اس لئے نہیں سنایا کہ آپ بھی اپنی اولاد کوایسا ہی حکم دیں۔ مگر آپ پر یہ الزام ضرور ہے کہ جب آپ کے بیٹوں نے بائیس تیئس برس قبل لندن میں اتنی مہنگی پراپرٹی خریدی تو آپ نے ان سے پوچھا نہیں کہ ” اتنی ساری دولت تمہارے پاس کیسے آئی اور کہاں سے آئی ۔“
اور یہ دورِ فاروقی ؓ بھی نہیں کہ جس میں حاکمِ وقت کو یہ فکر ہوتی تھی کہ اُن کے زیر انتظام علاقے میں کہیںکوئی کتا بھی بھوکا نہ سو جائے۔
آپ کہیں گے کہ فکر تو غریبوں کی آپ کو بھی ہے ورنہ آپ لوگوں میں عوامی رابطہ مہم کے تحت چیک تقسیم کرنے کیوں نکلتے۔؟
مگر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ پاکستان کے غریبوں میں خوداری نام کی کوئی چیز نہیں۔؟
نہیں وزیراعظم صاحب نہیں۔۔۔ یہ بھکاریوں کی قوم نہیں۔ آپ کو ایک مخیر وزیراعظم نظر آنے کے لئے اس قوم کی عزت نفس سے کھیلنے کا اختیار کس نے دیا ہے ؟
اگر یہ چیک آپ اپنی دولت سے دے رہے ہیں تو بھی آپ ضرورتمندوں کی عزتِ نفس سے کھیلنے سے احتراز کرتے تو خدا آپ سے زیادہ خوش ہوتا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ چیک آپ قومی خزانے سے دے رہے ہیں؟
اگر حقیقت یہی ہے تو کیا یہ چیک پردے سے مستحقین کو نہیں دیئے جاسکتے تھے۔؟ کیا اس قوم کو بھکاریوں کی قوم ظاہر کرنا ضروری ہے ؟
کیا آپ واقعی اپنے آپ کو ان داتا سمجھتے ہیں ؟
یہ کالم گزشتہ سال 27اپریل 2016ءکو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔

Scroll To Top