کاش کہ ہمیں بھی کوئی ایسی آفر کرتا!

kuch-khabrian-new-copy


کہا جاتا ہے کہ آدمی کا اندر آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر آئے بغیر نہیں رہتا۔ آج میں نے خان اسفندیارولی کو اپنی حسرتوں کا اظہار کرتے سنا تو میں نے مان لیا کہ واقعی آدمی کا چہرہ آہستہ آہستہ اس کے اندر کی شخصیت کا عکاس بن جایا کرتا ہے۔ خان صاحب نے پہلے تو بے یقینی سے کہا کہ عمران خان نے 10ارب کی بات کی ہے یا دس عرب کی۔ پھر اس طنز کو چار چاند لگانے کے لئے فرما دیا کہ کاش ہمیں بھی کوئی ایسی آفر کرتا۔

آپ کو آفر کرنے کی لوگوں کو ضرورت ہی نہیں پڑتی خان اسفندیارولی خان صاحب۔ خاموشی سے سب کچھ آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے تواب تک کالا باغ ڈیم نہیں بن سکا۔ ویسے ”را“ وغیرہ میں اتنے فیاض لوگ نہیں ہیں کہ آپ کو اس کام کے دس ارب آفر کریں جو آپ دوچار کروڑ میں کر دیتے ہیں۔
عمران خان پر حملے اب دائیں بائیں اور اوپر نیچے سے ہو رہے ہیں۔خان صاحب پشاور سے گولہ باری کر رہے تھے اور مریم اونگزیب صاحبہ اسلام آباد میں میدان سجائے بیٹھی تھیں۔ محترمہ کی راتیں یہ سوچ سوچ کر گزرتی ہیں کہ کل میں نے عمران خان پر کس زاویے سے حملہ آور ہونا ہے۔ اور دن بھر وہ پریس کانفرنس کی تیاری کرتی رہتی ہیں۔
آج بھی انہوں نے حسبِ معمول عمران خان کو جھوٹا قرار دیا اور ”دس ارب والی پیشکش“ کا ثبوت طلب کیا۔ ساتھ ہی انہوںنے ان تین ججوں کی شان میں قصیدے بھی پڑھے جنہوں نے میاں نواز شریف کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کاش کہ مریم صاحبہ کی سمجھ میں یہ بات آ سکتی کہ دو ججوں نے میاں نواز شریف کو باعزت طور پر سبکدوش کرنے کا کہا ہے اور تین نے کہا ہے کہ میاں صاحب ”باعزیت برآت“ کے مستحق نہیں ہیں۔ انہیں کچھ اور رگڑا ملنا چاہئے۔

Scroll To Top