میری اور آپ کی یہ جنگ کس کے خلاف ہے ؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیاں نوازشریف سے میری پہلی ملاقات1979ءکی گرمیوں میں ہوئی تھی۔۔۔ مجھے گرمیاں اس لئے یاد ہیں کہ جب میاں صاحب میرے منیجنگ ڈائریکٹر اور دوست ایس ایچ ہاشمی کی معیت میں میرے دفتر تشریف لائے تو اتفاق سے بجلی غائب تھی۔۔۔ وہ چند ہی منٹوں میں پسینے سے شرابور ہوگئے۔۔۔ انہیں ایئر مارشل اصغر خان نے میرے پاس بھیجا تھا۔۔۔ ایئر مارشل اصغر خان اُن انتخابات کی تیاریاں کررہے تھے جو نہیں ہوئے۔۔۔ او ر میاں صاحب نے تازہ تازہ تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی تھی۔۔۔ میں1972ءسے تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کا رکن تھا۔۔۔ میاں نوازشریف سے میری ملاقات کرانے کا مقصد یہ تھا کہ ایئر مارشل صاحب نے ایک اخبار خریدا تھا۔۔۔ ” آزاد“۔۔۔ اور اس کے پانچ رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں میں بھی تھا اور میاں صاحب بھی تھے۔۔۔ میری ذمہ داری یہ لگائی گئی تھی کہ اخبار کو جن مالی وسائل کی ضرورت تھی ان کے بندوبست کے لئے میاں صاحب کو آمادہ کروں۔۔۔ میں اِس ٹاسک کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہوا۔۔۔
دوسری ملاقات تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں ہوئی جو میاں صاحب کی رہائش گاہ پر ہوا جو اُس زمانے میں ماڈل ٹاﺅن میں واقع تھی۔۔۔ وہاں اب پی ایم ایل این کا دفتر ہے۔۔۔
1981ءمیں جب میں نے میڈاس کی بنیاد رکھی تو اس کا افتتاح میاں صاحب نے کیا۔۔۔
1984ءمیں جب میاں صاحب نے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا تو تشہیری ذمہ داریوں کے لئے انہوں نے مجھے منتخب کیا۔۔۔
میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا ۔۔۔ صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ اگر اہمیت ذاتی تعلق کی ہوتی تو1988ءکے انتخابات میں ` میں محترمہ بے نظیربھٹو کے کیمپ میں ہونے کی بجائے میاں صاحب کے کیمپ میں ہوتا۔۔۔اُس زمانے میں میری وجہ ءشہرت ” جھوٹ کا پیغمبر“ تھی جس میں میں نے بھٹو مرحوم کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ولن کے طور پر پیش کیا تھا۔۔۔ میں نے میاں نوازشریف سے اپنے تعلق کو اپنی کامیابیوں کا زینہ کیوں نہ بنایا۔۔۔؟ میں عطاءالحق قاسمی اور مجیب الرحمان شامی کیوں نہ بنا؟ میں نے نذیر ناجی کی جگہ کیوں نہ لی۔۔۔؟ میاں صاحب اہلِ قلم کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔ جس کا تازہ ترین ثبوت عرفان صدیقی ہیں۔۔۔ یہ مغل شہنشاہ اکبر کی صفت ہے۔۔۔ میں نے اس صفت سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔۔۔؟ میاں صاحب سے میری آخری ملاقات 2008ءمیں ہوئی تھی۔۔۔ اور وہ بڑے تپاک سے ملے تھے۔۔۔
میں نے وہ راستہ کیوں اختیار کیا جو میں نے کیا۔۔۔؟ میں نے 1988ءمیں ۔۔۔ اور پھر 1990ءاور1993ءمیں محترمہ بے نظیربھٹو کے کیمپ میں بیٹھ کر وہ جنگ کیوں لڑی جو میں نے لڑی۔۔۔؟
اور اب وہی جنگ میں عمران خان کے کیمپ سے کیوں لڑرہا ہوں۔۔۔؟
میں ایک معمولی قلمکار ہوں۔۔۔ میرے قلم سے نکلا ہوا کوئی لفظ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ میرے لئے یہ سعیءلاحاصل ہے۔۔۔
پھرکیوں کیوں کیوں یہ جنگ لڑرہا ہوں۔۔۔؟ یہ جنگ میرے کس جذبے کی تسکین کرتی ہے ؟
مجھے کیا ملے گا اگر میاں نوازشریف وزیراعظم نہیں ہوں گے ؟
مجھے کیا ملے گا اگر عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے ۔۔۔؟
مجھے کیا ملے گا اگر ملک کی فضاﺅں میں ایک روز یہ آواز گونجے گی : ” میرے عزیز ہم وطنو!“ ؟
میں کیوں یہ جنگ لڑتا چلا آرہا ہوں ؟ اس لئے کہ میری یہ جنگ کسی فرد کے خلاف نہیں ۔۔۔ کسی فرد کے حق میں بھی نہیں۔۔۔
یہ جنگ صرف میری ہے بھی نہیں۔۔۔ یہ جنگ آپ کی بھی ہے۔۔۔ یہ جنگ ہر اُس شخص کی ہے جو اس فاسد اور فاجر نظام سے نجات چاہتا ہے۔۔۔
وہ نظام جو صرف امیر کو یہ حق دیتا ہو کہ وہ بیمار پڑے تو اگلی فلائٹ پکڑ کر لندن پہنچ جائے وہاں سے صحتیاب ہو کر آئے اور لاکھوں کا میڈیکل بل قومی خزانے سے وصول کرلے۔۔۔
وہ نظام جس میں اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق صرف امراءکے بچوں کو ہو اور جس میں غریب بچے سرکاری سکولوں کی شکستہ دیواروں کو بھی حسرت سے دیکھا کریں۔۔۔
وہ نظام جس میں ایک طبقہ ہمیشہ حکومت کرے اور دوسرا طبقہ ہمیشہ محروم رہے۔۔۔وہ نظام جس میں دس روپے کا چور تو دھر لیا جائے کہ ڈاکو ہے۔۔۔
اور دس ارب کی چوری کرنے والا آپ کی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر کہے کہ میرے دشمن میری کامیابیوں سے جلتے ہیں۔۔۔
وہ نظام جس میں کرپشن کا اُردو ترجمہ چوری نہ ہو۔۔۔!

Scroll To Top