پانامہ کیس جے آئی ٹی: اداروں نے انصاف نہ کیا تو قوم معاف نہیں کریگی، عمران خان

  • ایسے شخص کو کہ جس کو ججوں نے کرپٹ اور جھوٹا قرار دیدیا ہو اس کو وزیر اعظم کے باوقار عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں، ٹوئٹر پیغام
  • ایک پارٹی اپنے لیڈر کے کرپٹ اور جھوٹا ثابت ہونے پر جشن منار ہی ہے جبکہ ہم ملک کی طاقتور شخصیت کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں،میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

اسلام آباد، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پانامہ لیکس فیصلے کے بعد اپنے پہلے ٹوئیٹر پیغام میں قوم سے کہا ہے کہ وہ آئندہ جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں جوق در جوق شرکت کریں اور اس کو ایک تاریخی جلسہ بنانے میں کردار اد کریں، عمران خان نے کہا ہے کہ اس جلسے کا مقصد کرپٹ وزیر اعظم کو جس کو دو ججوں نے اپنی ججمنٹ میں کرپٹ اور جھوٹا قرار دیا ہے بتانا ہے کہ وہ اس عہدے کے لئے نااہل ہو چکا ہے انہوں نے کہا اس جلسے میں ہم نے یہ مطالبہ رکھنا ہے کہ ایسا شخص ملک کا وزیر اعظم نہیں ہو سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ باقی تین ججز نے بھی قطری خط کو رد کر دیا ہے عمران خان نے مزید کہا کہ جلسے کا مقصد ان اداروں کو جو آئندہ دو ماہ میں پانامہ کیس کی تحقیقات کریں گے ان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ ہی ہے اگر آپ نے انصاف نہ کیا تو قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ ہماری محنت رنگ لا رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جلد اپنی منزل پا لیں گے انہوں نے اس موقع پر اس شعر کا بھی سہارا لیا ’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘ دریں اثناء اس سے پہلے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعمران خان نے کہا کہ ایک پارٹی اپنے لیڈر کے کرپٹ اور جھوٹا ثابت ہونے پر جشن منار ہی ہے جب کہ ہم ملک کی طاقتور شخصیت کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف سپریم کورٹ اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 5 ججز نے جو فیصلہ دیا انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں یہ فیصلہ پاکستان کی نئی تاریخ بن گیا ہے ججز نے نیب چئیرمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جب کہ اس فیصلے پر بھی ایک پارٹی اس لئے جشن منا رہی ہے کہ ان کا لیڈر جھوٹا اور کرپٹ ثابت ہوا اور ہم اس لئے جشن منارہے ہیں کہ ایک طویل جدوجہد کے بعد ہم نے ملک کی طاقتور ترین شخصیت کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بنی گالا میں 5 مرلے کی جگہ پر اپارٹمنٹس اور پلازے بنائے جارہے ہیں جب کہ سیوریج کا گندا پانی راول ڈیم میں بہا دیا جاتا ہے اور اسی راول ڈیم سے راولپنڈی کے عوام پانی پیتے ہیں سیوریج کا پانی پینے سے متعدد بچے مررہے ہیں جب کہ درخت کٹنے سے آلودگی پھیل رہی ہے۔ میں نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان کو بنی گالامیں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے خط لکھا تھا جس کا مقصد عوامی مفاد تھا اگر عدالت نے مداخلت نہ کی تو 5 سال تک کچھ نہیں بچے گا اور آج بھی چیف جسٹس سے اسی حوالے سے بات کی جس مثبت جواب آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف بنی گالا کا نہیں بلکہ پورے ملک میں درخت کاٹے جارہے ہیں جو آنے والے چند برسوں میں پاکستان کے نقصان دہ ثابت ہوگا جب کہ کراچی کے بہت سے پارکس کو قبضہ مافیا نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے میدانوں پر قبضے کرکے نئے ٹیلنٹ کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے چیف جسٹس سے بھی کہا ہے کہ عوام کو عدلیہ پر بہت امیدیں ہیں اور اب عوام کو صرف عدالت عظمیٰ پر ہی اعتماد رہ گیا ہے ہم سپریم کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک اداروں پر چلتے ہیں اور یہی بات میں گزشتہ کئی برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ سپریم کورٹ کے علاوہ تمام ملکی ادارے تباہ کردیئے گئے ہیں اگر ادارے مضبوط ہوں گے تو وزیراعظم سمیت کوئی بھی کرپشن نہیں کرے گا۔

Scroll To Top