پنجاب اسمبلی میں گو نواز گو کے نعرے، ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی

  • وزیر اعظم کے خلاف قراداد پیش کرنیکی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں

downloadلاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں وزیراعظم کے استعفی سے متعلق قرارداد جمع کرانے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج بن گئی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور حکومت کیخلاف خوب نعرے بازی کی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بھی آج گونواز گو کی بازگشت سنائی دی، اسمبلی گونواز گو کے نعروں سے گونج اٹھی، اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں گلی گلی میں شور ہے کے نعرے لگادئیے۔اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے اسمبلی میں کہا کہ وزیراعظم استعفی دیں جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے انہیں اپنے دفتر میں آنے کہہ دیا، اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ججوں نے وزیراعظم کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔اسپیکرپنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے مو¿قف اختیار کیا کہ قراداد لانے کے لئے 14 دن پہلے بتانا ہوتا ہے، اس پر اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے کہا کہ یہ ہمارا استحقاق ہے مگر اسپیکر صوبائی اسمبلی نے اس کی اجازت نہیں دی۔احتجاج کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا قبال با بار اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے اور آڈر پلیز اور اپوزیشن اراکین سے نشستوں پر بیٹھنے کی گذارش کرتے رہے۔حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہنگامہ آرائی کے بعد دونوں جانب سے گو نواز گو اور رو عمران رو کے نعرے بلند ہوگئے۔ وزیر اعظم کے خلاف قراداد کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کے استعفیٰ سے متعلق قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

Scroll To Top