لبرل اور کنزرویٹوسوچ کا اصل مفہوم 13-03-2011

kal-ki-baatغیر ملکی اخبارات جرائد اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ تاثر آج کل بڑی باقاعدگی کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں لبرل اور کنزرویٹو قوتوں ے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہاں اگر محاذ آرائی کا کوئی وجود ہے تو وہ اسلام کو پاکستان کی معاشرت اور سیاست سے خارج کرانے کا ایجنڈا رکھنے والی قوتوں اور ایسے طبقوں کے درمیان ہے جو اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں میں فکر و عمل کی اساس بنانا چاہتے ہیں۔
اس فکری محاذ آرائی کو لبرل اور کنزرویٹو قوتوں کے درمیان محاذ آرائی قرار دینا میری سمجھ سے اس لئے بالاتر ہے کہ میں ” اسلام “ کو کنزرویٹو یعنی قدامت پسندی کے کھاتے میں ڈالنا قبول نہیں کرسکتا۔ اس قسم کی درجہ بندی یا فکری تقسیم کرنے سے پہلے یہ طے کرلیناچاہئے کہ یہ دونوں اصطلاحیں یعنی لبرلزم اور کنزرویٹوزم کیا مفہوم ادا کرتی ہیں۔ لبرل کا ایک مفہوم مثبت اور ایک منفی ہے ۔ مثبت مفہوم ” لبرل“ کا ” کشادہ نظر “ ہے جو ” تنگ نظر “ کی ضد ہے۔ منفی مفہوم اس اصطلاح کا ” آزاد خیال “ ہے۔ یعنی ایسی فکر یا ایسا فرد جو ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہو۔ ہمارے ملک کے ” آزاد خیال “ دانشور اس اصطلاح کو ہمیشہ اس سوچ کی تعریف یا تشریح کے لئے استعمال کرتے ہیں جو ” جائز “ اور ناجائز ‘ ‘ یا ” صحیح“ اور ”غلط “ کے فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی۔
لبرل کی اصطلاح کو کسی بھی سمت میں کسی بھی حد تک کھینچا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر مغربی ممالک میں غیر شادی شدہ جوڑوں کا ساتھ رہنا اب ” جائز اور ناجائز “ کی حد بندی میں نہیں آتا۔ اور ایسے جوڑوں کو لبرل قرار دے کر ان کی طرز معاشرت پر مہر تصدیق و قبولیت ثبت کردی جاتی ہے۔
اسی طرح مغرب میں اب ایک ہی جنس کے افراد شادیاں کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس روش کو ہنوز مکمل قبولیت مغرب میں بھی حاصل نہیں ہوئی مگر جس تیزی کے ساتھ اخلاقی اقدار کا جنازہ لبرلزم کی آڑ میں نکل رہا ہے اس کے پیش نظر وہ وقت دور نہیں جب مغرب کی لبرل ڈکشنریوں میں شادی کا مطلب عورت اور مرد کا معاشرتی معاہدہ کرکے ایک ساتھ رہنا اور بچے پیدا کرنا نہیں ہوگا ¾ بلکہ جنس کے فرق سے بالاتر ہو کر محض سفلی جذبات کی تسکین کے لئے افراد کا آپس میں تعلق قائم کرنا ہوگا۔
یہ وہ لبرلزم ہے جو مغربی معاشرے کو تو اپنے شکنجے میں جکڑہی چکا ہے مگر اب اس کی یلغار کا رخ دنیائے اسلام کی طرف ہے۔ اہل پاکستان میرے خیال میں بڑی تیزی کے ساتھ اس یلغار کی زد میں آرہے ہیں۔ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ جس میڈیا نے عوام کا سیاسی شعور بیدا ر کرنے میں اس قدر قابل تحسین اور تاریخی کردار ادا کیا ہے ¾ وہی میڈیا ہمارے معاشرے میں لبرلزم کا زہر داخل کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔اگرکوئی قوت اس یلغار کو روکنے میں کامیاب ہوسکتی ہے اور انشاءاللہ ضرور ہوگی تو وہ اسلام کا نظام معاشرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ثناءخوانانِ عظمت مغرب اور لبرل فکر و عمل کے علمبردار اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اسلام کو سمجھتے ہیں۔ اگرچہ وہ اسلام کا نام کھل کر تو نہیں لیتے ¾ لیکن اس کی پہچان جن اصطلاحوں اور ترکیبوں کے ذریعے کراتے ہیں وہ اس ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں جس کے نزدیک ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے۔ آپ ان اصطلاحوں سے بخوبی واقف ہوں گے۔ اسلامی انتہا پسندی ان میں ایک ہے۔ انگریزی میں ” فنڈامنیٹلزم“ اور پولیٹیکل اسلام “ کا ذکر آپ نے بڑی کثرت سے سنا ہوگا۔ میں یہاں جس اصطلاح کا ذکر بطور خاص کرنا چاہتا ہوں وہ کنزرویٹو زم یا قدامت پسندی ہے۔
کیا کوئی مسلمان اپنی ذات پر ” قدامت پسندی“ کا الزام برداشت کرسکتا ہے۔؟
میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی قدامت پسند وہ لوگ ہیں جو بڑے جارحانہ انداز میں اپنے آپ کو ” لبرل“ قرار دیتے ہیں۔ کرہ ارض پر ” ننگ “ پہلے وارد ہوا تھا۔ جس کا ننگ بھی اور فکر و عمل کا ننگ بھی۔ حقیقی قدامت یہی تھی۔ اگر انسان لباس ایجاد نہ کرتا اور اپنے فکر و عمل کو قواعد و ضوابط کے تابع نہ بناتا تو اس میں اور ایک جانور میں کیا فرق باقی رہ جاتا۔؟ ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ قدامت سے جدیدیت کی طرف سفر میں انسان کی رہنمائی قدرت یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے کی۔ اس رہنمائی کا نقطہ عروج آنحضرت کا ورودِ مسعود تھا۔ آسمان میں طے پا گیا کہ آپ کے بعد کوئی ہدایت زمین والوں کی رہنمائی کے لئے نہیں بھیجی جائے گی۔ آپ کا پیغام آخری پیغام ہوگا۔ اور اس پیغام پر عمل کرنا ہی انسانی ترقی ’ انسانی اور عظمت کی معراج ہوگی۔
اپنے اسی ایمان اور اسی یقین کی وجہ سے میں اپنے آپ کو کنزرویٹو یعنی قدامت پسند ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ قدامت پسندی اور کنزرویٹوزم کا الزام میں واپس ان دانشوروں کی طرف لوٹا نا چاہتا ہوں جو قو نوح ’ قوم عاد ’ قوم ثمود ’ اور قوم صدوم کی ثقافت اور معاشرت کو واپس لانا چاہتے ہیں۔
پاکستان آج نہیں تو کل ’ اسلام کا قلعہ ضرور بنے گا۔ یہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا ’ مگر تین چوتھائی صدی قبل کون جانتا تھا کہ انگریزوں کی غلامی میں بے بسی اور کس مپرسی کی زندگی بسر کرنے والے مسلمان ایک ایسی مملکت قائم کریں گے جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا ’ جس میں سطوت ہلال کا کا سبز پرچم لہرائے گا ’ جس کے ترانے میں خدائے بزرگ و برتر کی عظمت پر مرمٹنے کا جذبہ پنہاں ہوگا اور جو دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی طاقت بن جائے گا۔؟
یہ صرف میری ہی سوچ نہیں مجھ جیسے کروڑوں ” قدامت پسندوں“ کی سوچ بھی ہے جن کی روزمرہ کی زندگی کے بہترین لمحات وہ ہوتے ہیں جب ان کے کانوں سے منبرسے اٹھنے والی صدائے ” اللہ اکبر“ ٹکراتی ہے۔
میں اپنے لبرل بھائیوں کو مشورہ دوں گا کہ اگر ان کے کانوں کو یہ صدا گراں گزرتی ہے تو وہ کسی ایسے ملک کو تلاش کرلیں جسے ان کا لبرلزم قبول ہو۔
یہ ملک اس لئے نہیں بنا تھا کہ یہاں ہم شہباز بھٹی کو شہید قرار دے کر ” شہادت“ کے اس تصور کا مذاق اڑائیں جسے علامہ اقبال ؒ نے مطلوب و مقصودمومن قرار دیا تھا۔
مجھے تو ڈر ہے کہ ہمارے آزاد خیال دانشور اور لیڈر کسی روز کسی رام چند کو رحمت اللہ علیہ بھی بناڈالیں گے۔!

Scroll To Top