پاناما کے سمندر میں غوطے کھاتی قوم کیا غوطے ہی کھاتی رہے گی؟

kuch-khabrian-new-copyجے آئی ٹی کا معاملہ ملک بھر میں موضوعِ گفتگو بنا ہوا ہے اس جے آئی ٹی کے سربراہ کا انتخاب چوہدری نثار علی کریں گے۔ دو ارکان کا انتخاب اسحق ڈار کریں گے۔ ایک کا قمرالزمان چوہدری کریں گے اور چوہدری اعتزاز احسن کے مطابق ایک کا مریم نواز بھی کر سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک کا انتخاب جنرل قمر جاوید باجوہ کریں گے۔

حقیقی صورتحال یہی ہے۔
اس صورتحال کی وجہ سے سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ”کیا جے آئی ٹی کے اِ ن اراکین کے پاس اسقدر جرا¿ت ہوگی کہ وہ وزیر اعظم سے بے لاگ سوالات پوچھ سکیں۔؟“
اس سوال کے جواب میں دلیل کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جسٹس اعجازا فضل کے تحریر کردہ فیصلے میں ان سوالات کا واضح تعین کر دیا گیا ہے جن کا جواب عدالت کو دیا جانا چاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سوالات کا جواب خود جج صاحبان اپنے فیصلے میں دے چکے ہیں۔ اگر میاں صاحب اور ان کے بیٹے اتنے اعلیٰ ججوں کو مطمئن نہیں کر سکے تو جو جواب وہ جے آئی ٹی کو دیں گے اُن کے لئے کیا وہ خط نمبر تین اور چار سامنے لائیں گے۔؟
یہاں ایک رائے یہ ہے کہ جج صاحبان خود تحقیقات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اس لئے تحقیقات کے اہل افسروں کی ضرورت ناگزیر ہوتی ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ متذکرہ اراکین ججوں کے فیصلے کے خلاف جائیں۔ چنانچہ جے آئی ٹی کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔
اور دوسری رائے یہ ہے کہ جس نتیجے پر جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار پہنچے اس نتیجے پر پہنچنادوسرے ججوں کے لئے ممکن کیوں نہیں تھا جبکہ تمام جج ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ مد عا علیہان نے حقائق چھپائے ہیں یا جھوٹ بولا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل اپنے فیصلے میں جس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیئے اس سے مختلف فیصلہ آخر میں انہوں نے کیوں تحریر کیا۔ ؟
حقائق اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود کے اِس ”سنسنی خیز‘ انکشاف نے قوم کو عجب شش وپنج میں ڈال دیا ہے کہ میاں صاحب کو فیصلے کا علم 20اپریل سے پہلے ہو چکا تھا۔
گویا کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے جس کی توقع گاڈ فادر سے رکھی جا سکتی ہے۔
اللہ بہتر جانتا ہے ۔ مگر ڈان کی خبر والے معاملے کا فیصلہ بھی سامنے آنے والا ہے۔ اس سے بہت سارے حقائق سامنے آجائیں گے۔ اگر اُس فیصلے میں بھی ”حقیقی ذمہ دران“ کو بچانے کا راستہ نکالا گیا تو قوم کا اعتماد اُن اداروں پر سے بھی اٹھ جائے گا جن سے اِس نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

Scroll To Top