وہ عوام کا سامنا کرنے سے کیوں گھبرا رہے ہیں؟ 01-03-2011

kal-ki-baat
فروری2008ءمیں انتخابات کا انعقاد ملک میں دہشت گردی کی خوفناک لہر کے پیش نظر بے حد مشکل نظرآرہاتھا۔ یہ خیال عام تھا کہ لوگ دھماکوں وغیرہ کے خوف کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں نکلیں گے۔ اور ” ٹرن آﺅٹ“ بہت معمولی ہوگا۔ لیکن ووٹروں نے تمام اندیشے غلط ثابت کردیئے۔ لوگ کافی بڑی تعداد میںووٹ ڈالنے کے لئے نکلے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عوام کی غالب اکثریت جنرل پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کو مسترد کرنے کا یہ موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ ان کے پیش نظر یہ بات نہیں تھی کہ کس نئی قیادت پر اظہار اعتماد کیا جائے۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے والے حکمرانوں سے جان چھوٹ جائے۔
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ جنرل پرویز مشرف کو مسترد کرنے میں تو عوام کامیاب ہوگئے ` مگر ان کے جو متبادل قائدین تھے ` انہو ں نے عوام کے مینڈیٹ کا نہ صرف یہ کہ احترام نہیں کیا بلکہ اس کی دھجیاں بکھیرکر رکھ دیں۔ عوام پر یہ خوفناک حقیقت آشکار ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ جنرل پرویز مشرف امریکہ نواز ضرور تھے مگر امریکہ کے پٹھو نہیں تھے۔ ان کی جگہ جو لوگ آئے انہیں امریکی حکومت بجار طور پر ” اپنے آدمی“ کہہ سکتی تھی۔
تین سال کے بعد ریمنڈ ڈیوس کیس نے عوام میں یہ احساس بڑی شدت کے ساتھ پیدا کیاہے کہ ان کے مینڈیٹ کی جس انداز میں بے حرمتی ہوئی ہے اس کے پیش نظر حکمرانوں پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کی عدالت میں پیش کرکے نیا مینڈیٹ لیں۔
مڈٹرم انتخابات سے فرار کے حق میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ ملک موجودہ حالات میں اس کا متحمل نہیںہوسکتا۔ میں اس دلیل کے خالقوں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ دو سال بعد ایسا کون سا معجزہ ہوگا کہ ملک انتخابات کا متحمل ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کی ” لاٹری “ نکلی ہوئی ہے وہ عوام کا سامنا کرنے کو اپنے لئے خودکشی سمجھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے عوام کو جو دھوکہ دیا ہے اس کا خمیازہ انہیں ضرور بھگتنا پڑے گا۔ اور ان کی خواہش ہے کہ دو سال مزید وہ اقتدار کے مزے لوٹ لیں۔
اگروہ واقعی جمہوریت کی سربلندی چاہتے ہیں تو انتخابات سے گھبرانے کی بجائے اپنے آپ میں عوام کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

Scroll To Top