”دنیا میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوتا جس کی قیمت نہ ہو“ ابرہیم لَنکَن

kuch-khabrian-new-copy

چوہدری نثار علی خان نے درست کہا ہے کہ پاناما کیس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا اور فریقین میں سے کسی کے پاس بھی مٹھائیاں بانٹنے کا جواز موجود نہیں۔ لیکن چوہدری صاحب کو یہ یاد کرانا ضروری ہے کہ جیسے ہی کورٹ روم سے یہ فیصلہ سنایا جانا شروع ہوا کہ بینچ نے تین دو کی اکثریت سے میاں نواز شریف کی نااہلی موخرکر دی ہے، نون لیگ کے تمام وزراءچھلانگیں مارتے باہر آئے اور خواجہ آصف نے مائیک کے سامنے پہنچ کر بڑے جوشیلے انداز میں اعلان کیا۔ ”مسلم لیگیو مبارک ہو ۔ مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میاں نواز شریف کو پھر سرخرو کر دیا ہے۔ مٹھائیاں بانٹو۔ خوشیاں مناﺅ۔“
اس کے جواب میں اپوزیشن کے سامنے بھی کوئی چارہ نہ رہا سوائے اس کے کہ میاں نواز شریف کے خائن اور دروغ گو قرار پانے پر خوشیاں منائیں۔
میرے خیال میں اب اصل امتحان چیف جسٹس کا ہوگا کہ وہ کیسے اِس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جے آئی ٹی میں شامل درمیانے درجہ کے سرکاری ملازمین اپنے وزیر اعظم کی تلاشی جرات اور دیانت داری سے لیں گے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ اِس جے آئی ٹی کا حقیقی سربراہ چوہدری نثار علی کو روزانہ سیلوٹ مارنے والا کوئی اہلکار ہوگا۔
میری حقیر رائے یہ ہے کہ فاضل ججوں نے سوچا ہوگا کہ ججمنٹ پڑھ کر وزیر اعظم خود ہی استعفیٰ دے دیں گے اور جے آئی ٹی کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
میاں نواز شریف نے ان تمام لوگوں کو غلط ثابت کر دیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سیاسی لیڈر کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی خود داری اور غیرت ہے۔ میاں صاحب کا پورا وجود اقتدار پر قائم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر اقتدار گیا تو اُن کا وجود بھی بوسیدہ مکان کی طرح منہدم ہو جائے گا۔
دولت اُن کے پاس اتنی ہے کہ اپنے اقتدار کی بقاءکے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ بات ابراہم لنکن نے کہی تھی کہ دنیا میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوتا جس کی قیمت نہ ہو۔

Scroll To Top