ہم اس جمہوریت کو مانتے ہیں جو اللّٰہ اور اسکے رسولﷺ کی مطیع و فرمانبردار ہو، سراج الحق

  •  ملک میں نظام مصطفےٰ کا نفاذ چاہتے ہیں ، مارشل لاءاور جمہوریت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ‘امیر جماعت اسلامی پاکستان
  • عدالتوں سے غریب کو انصاف نہیں ملتا کیونکہ اس کے پاس سونے کی چابی نہیں ہوتی ،عوامی مسائل پرتمام ریاستی اداروں نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں

sabah-16-02

اسلام آباد (یوا ین پی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں نظام مصطفےٰ کا نفاذ چاہتے ہیں ، مارشل لاءاور جمہوریت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ ہم اس جمہوریت کو مانتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مطیع و فرمانبردار ہواور ایسی جمہوریت کے باغی ہیں جو حرام کو حلا ل قرا ر دے ۔ عوامی مسائل کے بارے میں تمام ریاستی اداروں نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں ۔ عدالتوں سے غریب کو انصاف نہیں ملتا کیونکہ اس کے پاس سونے کی چابی نہیں ہوتی ۔ حکمران مال چھپانے کے لیے پانامہ، دبئی اور قطر کا رخ کرتے ہیں ۔ غریب آدمی الیکشن میں صرف اس لیے حصہ نہیں لے سکتا کہ اس کے پاس کرپشن کے کروڑوں اور اربوں نہیں ہوتے ۔ حکمرانوںکے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کہاں گئے ؟۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے یوا ین پی کے مطابق اسلام آباد میں کارکنان کے تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، ضلعی امیر زبیر فاروق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ (باقی صفحہ نمبر 7بقیہ5
ہم اس موجودہ نظام سے آزادی چاہتے ہیں جہاں پر ہم اپنے عقیدے اور دین کے مطابق زندگی گزار سکیں آزادی کا مطلب عدالتی نظام ، سماجی سیاسی نظام اور حکومتی نظام اسلام کے دیے ہوئے نظام کے مطابق ہونے کے ہیں جس نظام میں دانہ پانی دیا جائے مگر وہ اپنے نظریے کے مطابق زندگی نہ گزار سکے وہ جیل خانہ ہے دانہ پانی تو جیل میں بھی ملتا ہے اور بغیر محنت کے ملتا ہے مگر قید اگر پرندہ بھی ہو تو وہ آزادی کی کوشش کرتا ہے مغرب چاہتا ہے کہ وہ اپنا کلچر ہمارے اوپر مسلط کرے اور دانہ پانی دے کر ہمیں غلام بنایا جائے آزادی کا ایک دن غلامی کے سو سالہ زندگی سے بہتر ہے انہوں نے کہا کہ انگریز ہندوستان کو تو چھوڑ گیا مگر اس نے ایسٹ انڈین کمپنی کے ذریعے اتنے غلام بنائے کہ 70سال ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا نظام ہمارے اوپر مسلط کیا ہوا ہے جن لوگوں نے اس دھرتی اور عوام سے غداری کی انگریزوں نے انھی کو نوازا اور جاتے ہوئے حکومت بھی ان کو دے کر گیا اسی لیے قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم کی رحلت کے بعد یہ بحث ایوان میں ہوئی کہ ملک سیکولر ہو گا یا مذہبی ؟ جماعت اسلامی کسی انسان کی ذات کی طرف نہیں بلاتی بلکہ خالق کی طرف بلاتی ہے پوری امت پر ایک یہ فرض ہے کہ انہیں نبی کی امتی ہونے کی جو ذمہ داری ہے وہ ادا کریں اور اسلام کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچائیں ہم لوگوں کو خیر کیطرف بلا رہے ہیں اور تقسیم در تقسیم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں اسلام ہی ہمارے روحانی، معاشی، سماجی مسائل کا حل ہے اگر مسائل حل ہونے ہوں تو وہ صرف ایک گھر کے طواف کرنے سے حل ہوں گے اور وہ صرف خانہ کعبہ ہے وڈیروں اور خانوں کے گھروں کے طواف کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے جماعت اسلامی کی جمہوریت دیگر جماعتوں کی جمہوریت سے الگ ہے اگر ساری اسمبلیاں ایسا قانون بنائیں جس میں اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کرے تو ہم اس جمہوریت کے خلاف بھی بغاوت کریں اللہ ایک ہے اور اسکا نظام بھی ایک ہے اگر اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اسکا نظام بھی ہمارے لیے کافی ہے اور اللہ کا حکم ہے کہ دین میں پورے پورے داخل ہو جاﺅ مگر آج مغرب یہ چاہتاہے کہ اسلام صرف مسجد کی چار دیواری تک رہے اور اسلام کی نظام معیشت، سیاست، اور نظام حکومت ہمیں قبول نہیں ہے مغرب چاہتا ہے کہ کچھ ہمارا نظام قبول کرو اور کچھ اپنا نظام قبول کرو مگر اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام کی مثال دودھ کے خالص گلاس جیسی ہے اگر اس میں پیشاب کے چند قطرے ہی گر جائیں تو یہ پاک نہیں رہتا سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان میں شریعت محمدی ، خلافت اسلامی چاہتی ہے ہم نظریاتی لوگ ہیں بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں جماعت اسلامی میں ایک نظریے کے تحت ہم آئے ہیں 20کروڑ عوام کے مسائل کا حل نظام مصطفی ہے مارشل لاءفوجی حکومتیں اور جمہوری حکومتوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا جمہوری حکومتوں میں بھی ایسٹ انڈین کمپنی کے غلاموں کی حکومت ہوتی ہے غریب کے پاس سر چھپانے کے لیے بھی جگہ نہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس اتنی زمین ہے کہ انکے پاس اسکا حساب نہیں یہ زمین ان جاگیرداروں نے انگریزوں نے دھرتی سے غداری کے طور پر انکو دی ہے اگر جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو ان سے یہ زمین لیکر غریبوں میں تقسیم کر دیں گے ہمارا ایجنڈا وہ ہے جو اللہ نے دیا ہے لوگ کہتے ہیں کہ اپنا ایجنڈا نہ بتاﺅ تو بڑے بڑے لوگ آپ سے بھاگ جائیں گے لیکن میں اپنا ایجنڈا عوام کو بتاتا رہوں گا سراج الحق نے کہا کہ 70سال سے موجودہ عدالتوں اور عدالتی نظام نے غریب کو انصاف نہیں دیا کیونکہ غریبوں کے پاس سونے کی چابی نہیں ہوتی پاکستان کے تمام ادارے غریبوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں جماعت اسلامی کے دور میں مظلوم کی مدد ریاست کرے گی اس نظام میں ہمارے بچوں کو بھی تقسیم کر دیا ہے غریب کا بچہ اس سکول میں جاتا ہے جہاں کوئی سہولیات نہیں اور امیر کا بچہ جس سکول میں جاتا ہے وہاں اسکو دودھ دیا جاتا ہے ہماری حکومت آئی تو تمام بچوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب دیں گے جماعت اسلامی دفاع کے بعد سب سے زیادہ بجٹ تعلیم پر خرچ کرے گی لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور غریب کا بچہ آج بھی ہوٹلوں پر کام کر رہا ہے جماعت اسلامی خواتین کو انکے حقوق دے گی آج بھی جنوبی پنجاب میں مائیں اپنے بچوں کو ساتھ لیکر تپتی دھوپ میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف امیروں کے کتے مکھن کھا رہے ہیں اور انکے گھوڑے اے سی میں پل رہے ہیں حکمران ملک کو لوٹ کر پاناما ، قطر اور دوبئی میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اور نوجوان چوکوں ، چوراہوں پر روزگار کے لیے کھڑے ہیں جو لوگ اس گندے نظام سے بغاوت نہیں کرتے وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں خواتین کے لیے غیر سودی بینکاری کا نظام شروع کروں گا تا کہ وہ قرض لیکر گھر میں کام کر سکیں اور جماعت اسلامی ایسے ممبر کو اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اہل قرار دے گی جو اپنی جائیداد میں بہن اور بیٹی کو حصہ دیتا ہو جو اپنی بہن اور بیٹی کو حصہ نہ دے وہ پاکستان کے لیے کیا کرے گا سراج الحق نے کہا کہ اسلام آباد میںاپنی زندگی کی پہلی رات قصائی کی دکان کے باہر گزاری ملک کے صدراور وزیراعظم کو بھی ایک رات فٹ پاتھوں پر گزارنی چاہیے تا کہ ان کو بھی غریبوں کا احساس ہو غریبوں کوگھردینا حکومت کی ذمہ داری ہے یہ موجودہ نظام گندگی کا ڈھیرہے اس گند کوصاف کرناہے اورملک میں اسلامی انقلاب لیکرآنا ہے اس نظام کے ذریعے ایوان میں سانپ ،بچھو اور اژدھاآتے ہیں پہاڑوںمیں رہنے والے دہشتگردوں سے ایوانوں میں بیٹھنے والے دہشتگرد زیادہ خطرناک ہیں ایوانوںمیں بیٹھے ہوئے دہشتگردوںکی وجہ سے مغربی پاکستان بنگلہ دیش بنا سراج الحق نے کہا کہ ہمارے حکمران جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں عوام سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کاوعدہ کیاگیا تھا مگر آج بھی جنوبی پنجاب میں 8گھنٹے سے زائدلوڈ شیڈنگ ہورہی ہے حکمرانوں نے عوام سے وعدہ خلافی کی اور عوام کے دیے ہوئے ووٹوںکواپنے ذاتی مفاد اور سات نسلوں کے لیے سرمایہ محفوظ کیا اس نظام میں غریب الیکشن تک لڑ نہیں سکتا پارٹیاں ان سے ٹکٹ کے نام پر کروڑوںروپے لیتی ہیںاور اسطرح جولوگ الیکشن میںاربوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ ایوانوںمیں جاکر پہلے اپنے پیسے پورے کرتے ہیں اس نظام سے بغاوت اور اسلامی پاکستان کے لیے عوام کو اٹھناہو گا سراج الحق نے کہا کہ امریکہ نے بموںکی ماں کے ذریعے افغانستان میں حملہ کیا اور ہمارے حکمرانوں نے اس پرایک لفظ نہیںکہامیںسمجھتاہوں کہ یہ ہمارے ایٹمی صلاحیت کے لیے امریکہ پاکستان کو خالاں جی کا گھرسمجھتاہے اور ہماری سرحدکے قریب اتنا بڑاحملہ افغٓانستان کے خلاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی ایک پیغام دیا ہے انہوں نے کہاکہ 22ویںآئینی ترمیم کے بعد جن لوگوںپرکرپشن اوردیگرسنگین الزامات تھے انکو رہا کر دیا گیا حکومت 20کروڑعوام کو ڈیفالٹر قرار دے کران کے ٹیکس ختم کردے جیسے امیرسرمایہ داروں کے قرض اور ٹیکس معاف کرتے ہیں ان سب مسائل کاعلاج عوام کے ہاتھ میںہے کہ وہ ووٹ کااستعمال کرکے کرپٹ اشرافیہ کو اقتدار سے ہٹائیں عوام ایسے لوگوںکوووٹ دیں جسکے قول و فعل میںتضادنہ ہو جماعت اسلامی کے کارکنان جماعت اسلامی کامنشور گھر گھرپہنچائیں کیونکہ غیرملکی اور پاکستان کی اعلٰی عدلیہ نے بھی اقرار کیا ہے کہ جماعت اسلامی ہی ایماندار جماعت ہے۔

Scroll To Top