ان پر مقدمہ توہین رسالتﷺ کا چلایا جائے اور انہیں نشانِ عبرت بنادیا جائے

kuch-khabrian-new-copy

مشال خان کو اس لئے وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کے قاتلوں کے خیال میں اس بدقسمت نوجوان نے رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ اب تک جو شواہد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق مقتول نے گستاخی رسول اکرمﷺ کی شان میں نہیں عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی شان میں کی تھی ۔ اس سفاکانہ قتل کی واردات سے دور روز قبل مشال خان نے یونیورسٹی کی پالیسیوں اور بد عملیوں پر ایک ٹی وی انٹرویوں میں تنقید کی تھی۔ میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیوں کہ اصل حقائق ابھی تک حتمی طور پر سامنے نہیں آئے۔ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ کسی شخص نے کچھ دوسرے چند اشخاص کے ساتھ مل کر مقتول پر رسول اکرمﷺ کی اہانت کرنے کا الزام لگایا اور اس الزام کو آگ کی طرح پھیلا کر ایک مشتعل جنونی ہجوم تیار کیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہر پاکستانی کا سرشرم سے جھکا دینے کے لئے کافی ہے۔ مقتول مشال خان نے ایسا کوئی کام کیا تھا جسے توہینِ رسالتﷺ کے زمرے میں لایا جاسکے، اس کے بارے میں مکمل تفتیش ہونی چاہئے۔ لیکن جن جنونی قاتلوں نے توہینِ رسالتﷺ کا ارتکاب کیا ان کے بارے میں زیادہ تحقیقات بھی ضروری نہیں۔ اس طرح کا وحشیانہ جرم ویسے بھی بدترین سزا کا مستحق ہے۔ ان مجرموں نے تو تعلیمات رسولﷺ کی دھجیاں آپﷺ سے عقیدت کی آڑ لے کر بکھیریں انہیں کیسے معاف کیا جا سکتا ہے۔؟ ُاُن پر اصل مقدمہ توہینِ رسالتﷺ کا چلنا چاہیے اور انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جانا چاہئے۔

Scroll To Top