بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے خیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

kuch-khabrian-new-copy


وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے سچ مچ فرماں روائی کا انداز اختیار کر لیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے نورتن انہیں شب وروز رموز شہنشاہی سکھاتے رہتے ہیں۔ آج وہ جیکب آباد ایک شہنشاہ کے انداز میں ہی گئے اور بقول اُن کے ”ابو الفضل“ خواجہ سعد رفیق کے، انہوں نے اپنی ایک جھلک دکھا کر جیکب آباد کے مظلوم عوام کے دل باغ باغ کر دیئے۔ اگر چہ رعایا کو شرفِ باریابی بڑی محدود تعداد میں بخشا گیا لیکن خواجہ سعد رفیق کا جوش و ولولہ قابل دید تھا۔ میاں صاحب نے جب اعلان کیا کہ میںجیبیں بھر کر لایا ہوں تو ایک لمحے کے لئے تاثر میرے ذہن میں ابھرا کہ کہیں ”حُبّ ِ رعایا“ سے مغلوب ہو کر شہنشاہ نے اپنے لندن کے محلات فروخت تو نہیں کر دیئے تا کہ جیکب آباد کی تمام محرومیاںفوری طور پر دور کی جا سکیں لیکن میاں صاحب نے اعلان یہ کیا کہ میں سو کروڑ جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ ناظم کو دوں گا تا کہ وہ وہاں کے لوگوں کی تقدیر سنوار دے۔ قریب کھڑے نون لیگی لیڈر نے فوراً میاں صاحب کو ٹوک دیا۔ ”حضور ڈسٹرکٹ ناظم پی پی پی کا ہے۔“ اس پر میاں صاحب نے الفاظ فوراً واپس لے لئے اور کہا” یہ سوکروڑ میں تم پر نچھاور کرتا ہوں“۔
نون لیگی لیڈر ابھی خوشی سے نہال ہونے کا موڈ بنا ہی رہا تھا کہ میاں صاحب نے کہہ دیا۔”میں تمہارا ہاتھ بٹانے کے لئے اپنے آدمی بھی بھیجوں گا۔“
سو کروڑ کا صوتی اثر خاصا گہرا پڑتا ہے۔ اگر ایک ارب کہا جائے تو ہوگا تو ایک ہی ناں؟ کسی کو چاہئے کہ شہنشاہ معظم کو مشورہ دے کہ حضور آپ کے پیش رو ”پنج ہزاری اور ”دس ہزاری“ کی زبان بولا کرتے تھے۔ آپ بھی سو کروڑ کی بجائے آئندہ دس ہزار لاکھ کہا کریں۔ رعایا خوشی سے پاگل ہو جائے گی۔
لیکن رعایا میں سے کوئی منچلا اٹھ کر علامہ اقبال(رحمتہ اللہ علیہ)کا یہ شعر بھی پڑھ سکتا تھا۔
سمندر سے ملے پیا سے شبنم
بخیلی ہے ، یہ رزاقی نہیں ہے۔
”آپ تو کہہ رہے تھے کہ جیبیں بھر کر لائے ہیں؟“

Scroll To Top