احسن اقبال مارشل لا کے فیوض بھی یاد کریں !

kuch-khabrian-new-copyآج خبروں کی بھر مار ہے۔ اِدھر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کابینہ کے اجلاس میں اپنے ممکنہ ووٹروں پر قومی خزانے کے منہ کھولے اور اُدھر وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وفاق کو الٹی میٹم دے دیا کہ اگر سندھ کی گیس سے سندھ کے عوام کو محروم رکھنے کی پالیسی جاری رہی اور حکومت گیس کی ترسیل میں پنجاب کو غیر منصفانہ ترجیح دیتی رہی تو سندھ حکومت انتہائی اقدام کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی یعنی سوئی سدرن کا کنٹرول بھی سنبھالا جائے گا اور گیس کی لائن بھی بند کر دی جائے گی۔

بات قومی خزانے کا منہ کھولنے کی ہوئی ہے تو یہاں قرضے حاصل کرنے کی کامیاب کوششوں پر جناب اسحق ڈار مبارکبارد کے مستحق ہیں۔ ہمارا قومی خزانہ ستر ارب ڈالر کا مقروض ہے۔
جناب اسحق ڈار نے آج ہی کہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کی کوئی تیاری نہیں ہو رہی۔حتمی فیصلہ بہر حال وزیر اعظم کریں گے اور پاناماکیس کے فیصلے کے بعد ہی کر پائیں گے۔
فیصلے کی بات ہوئی ہے تو جسٹس اعجاز افضل نے گذشتہ دنوں جو یہ فرمایا تھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا اس کے جواب میں جناب اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ہر فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔
بات صحیح ہے۔ میاں صاحب بچ نکلے تب بھی فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا اور دھر لئے گئے تو بھی فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ صرف یاد رکھنے کا انداز مختلف ہوگا۔
اصل خبر جس پر میں لکھنا چاہتا تھا وہ احسن اقبال کا یہ بیان ہے کہ مارشل لا کے ہر دور نے ادارے تباہ کئے۔ اس بیان پر مجھے یاد آیا کہ احسن اقبال سے میری پہلی ملاقات 1987ءمیں ہوئی تھی جب آپا فاطمہ کے فرزند کی حیثیت سے انہیں گھی کارپوریشن آف پاکستان میں ڈپٹی منیجر کی براہِ راست ملازمت ملی تھی۔یہ ملازمت ، مجھے یاد ہے کہ براہِ راست جنرل ضیا الحق مرحوم کے احکامات پر انہیں دی گئی تھی۔
مارشل لا نے لاکھ برائیوں کو جنم دیا ہوگا مگر ی یہ بھی تو حقیقت ہے کہ اس کی بدولت بہت سارے خاندانوں کی تقدیر بدل گئی ۔ ورنہ کون جانتا کہ میاںنواز شریف کون ہیں اور احسن اقبال کون ہیں۔؟

Scroll To Top