با کمال حکومت کے لاجواب انداز

kuch-khabrian-new-copy

پاکستان میں شاید ہی کوئی ذی نفس ہو جسے پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار نہیں ہوگا۔ اور انتظار ان لوگوں کو بھی ہے جن کے مفادات کی جڑیں اس نظام میں اور پاناما لیگ کی حکومت میں بہت گہری ہیں۔ یہ پاناما لیگ کی ترکیب میری نہیں ہے۔ ایک دل جلے کرم فرما نے گذشتہ شب فون پر مجھ سے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاناماکیس کے فیصلے کے معاملے میں پاناما لیگ قوم کے ساتھ کوئی بہت بڑا کھیل کھیل رہی ہو۔پہلے تو میں نے موصوف کے خدشات کی سختی سے تردید کی پھر پوچھا کہ یہ پاناما لیگ کا نام انہیں کیسے سوجھا۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ کا تقریباً ہر قابلِ ذکر لیڈر پاناما کیس میں میاں نواز شریف کے دفاع میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے اُن کے ذہن میں پارٹی کا نام جب بھی آتا ہے پاناما لیگ آتا ہے۔
آج وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے بعد وزیر مملکت محترمہ مریم اورنگزیب سے اخباری نمائندوں نے جب یہ پوچھا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارتی حکومت نے پاکستان کو جو خوفناک دھمکیاں دی ہیں ان کے بارے میں کابینہ نے کیا گفتگو کی۔
محترمہ نے فوراً جواب دیا۔ ”یہ معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔“
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر خدانخواستہ بھارت نے واقعی پاکستان پر حملہ کر دیا اور کابینہ کے اجلاس کے بعد محترمہ سے پوچھا گیا کہ ”حکومت اس حملے کا جواب کیسے دے گی“ تو کیا وہ قوم کو یہی بتائیں گی کہ یہ معاملہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔۔۔؟

Scroll To Top