یہ دین کا معاملہ ہے کوئی چاہے توریفرنڈم کرالے!

kuch-khabrian-new-copyبھارتی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے یک زبان ہو کر کل بھوشن یادیو کو بھارت کا بیٹا قرار دیتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے بھارتی جاسوس کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا تو اُسے اُس کے بڑے خوفناک نتائج بھگتنے ہوں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کسی بھی قسم کے خوفناک نتائج بھگت سکتا ہے تو وہ یہ ہیں کہ وہ اپنے اندر دائیں بائیں اوپر نیچے موجود ”کلبھوشنوں“ کی سرگرمیوں سے بے خبر رہے اور اگر خوش قسمتی سے کوئی ایک ”کلبھوشن “ ہتھے چڑھ بھی جائے تو اسے سزا دیتے وقت وہ بھارتی نیتاو¿ں کی دھمکیاں یاد کر کے کپکپا جائے۔(یہ خطرہ ہمیں اپنے وزیر اعظم سے ہے)
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے جز وقتی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی نیتاو¿ں کو خاصا معقول جواب دیا ہے مگر جنرل راحیل شریف سعودی عرب، ایران اور مجوزہ اسلامی فوج کے معاملے پر بات کرتے وقت وہ ایک نہایت نامعقول بات کہہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کسی فرقے یا کسی مذہب کا ملک نہیں۔ اگر ایسا ہے تو انہیں یہ بتانا ہوگا کہ ”وطن عزیز کا نام“ اسلامی جمہوریہ پاکستان ”کیوں ہے؟“ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ ”اگر پاکستان کسی مذہب کا ملک نہیں تو کیا ہم اپنے آپ کو محمدﷺ کی امت کہنا چھوڑ دیں۔؟“
ایران یقینا ہمارا برادر اسلامی ملک ہے مگر پاکستان بھی ایک اسلامی ملک بننے کے لئے ہی قائم ہوا تھا۔
جہاں تک فرقے کی بات ہے تو ہمارا فرقہ وہی ہے جو ہمارے نبیﷺ کا تھا ہم ہر اس بطلِ جلیل کو اپنی عقیدتوں میں بٹھاتے ہیں جسے آنحضرتﷺ نے اپنے قرب سے نوازا اور جس نے صحابی رسول کا بلند مقام ومرتبہ حاصل کیا۔
اگر کسی کو اس معاملے میں کوئی شبہ ہے تو وہ ریفرنڈم کر الے۔
دین کے معاملے میں منافقت سے کام نہیں لیا جانا چایئے۔پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جس میں تمام دیگر مذاہب اور فرقوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاص ہے۔

Scroll To Top