یونس خان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ غلط ہے، عامرسہیل

a

لاہور: سابق کپتان عامر سہیل نے یونس خان کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ریٹائرمنٹ سے ٹیم کو نقصان پہنچے گا لہذا ٹیم کے مفاد میں وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر عامر سہیل کا کہنا تھا کہ یونس کی کرکٹ ابھی باقی ہے اور وہ مزید 3،2 سال کھیل سکتے ہیں تاہم یونس خان کے اس طرح ٹیم کو چھوڑ کر چلے جانے سے ٹیسٹ ٹیم متاثر ہوگی۔ انہوں  نے کہا کہ 115 ٹیسٹ میچوں میں 34 سنچریوں  کیساتھ 9977 رنز کسی کارنامے سے کم نہیں  یہی وجہ ہے کہ یونس پاکستان کا اب نمبرون بیٹسمین ہے لہذا ہمیں ایسے کرکٹر کو یوں ہی رخصت کر نے کے بجائے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

عامر سہیل نے کہا کہ گزشتہ 4 سال کے عرصے میں یونس خان کا 14سنچریاں  بنانا بتا رہا ہے کہ ابھی اس میں  کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے، درست فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یونس خان سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کیلئے کہے اور پاکستان کرکٹ کے بہتر مفاد میں اسے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونس خان کی ریٹائرمنٹ سے پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کو دھچکا پہنچے گا اس لئے بہتر ہے کہ ٹیم کے مفاد میں  یونس خان اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیں۔

عامر سہیل کا کہنا تھا کہ دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد مصباح الحق کی جگہ قیادت یونس خان کے سپرد کر کے وکٹ کیپر سرفراز احمد پر ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کا اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے اسے بہتر انداز میں  تیار کرنا چاہیے تھا اور کامیابیوں  کے اعتبار سے ضرور مصباح کو سراہا جانا چاہیے لیکن ٹیم بنانے میں  مصباح الحق کا کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ  2015 میں  مصباح نے ون ڈے ٹیم کی قیادت چھوڑی تو ٹیم ساتویں  نمبر پر تھی اب وہ ٹیسٹ ٹیم کو چھٹے نمبر پر چھوڑ کر جا رہے ہیں جب کہ موجودہ ٹیم میں نہ اوپنرز کے مستقبل کا پتہ ہے نہ بولنگ اٹیک موثر ہاتھوں  میں  ہے۔

Scroll To Top