غیر ریاستی عناصر اور مسلم لیگ ن

وطن عزیز میں ان عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کے مطالبہ میں شدت آرہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص مبینہ طور پر مجروع کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔سرکاری سطح پر بدلتی ہوئی صورت حال کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ایوان کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور میں حکمران جماعت کے رکن پارلیمان رانا محمد افضل نے جماعت الدعوتہ کے سربراہ کا نام کے کر کہا کہ انھیں آخر کیونکر اس قدر آزادی دے گی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ” بھارت نے جماعت الدعوتہ کے امیر بارے دنیا بھر میں ایسا تاثر قائم کررکھا ہے کہ اگر مسلہ کشمیر بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے پاکستانی وفد جہاں کہیں بھی جائیگا تو وہاں کے زمہ داران یہ کہتے ہیں کہ حافظ سعید کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب ہیں۔ رانا افضل کا کہنا تھا کہ ایسی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے دنیا ہمیں تنہاکرکے شدت پسند قرار دینے کی کوشیش کرتی ہے۔“
مسلہ کشمیر پر پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے بھی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہے کیونکہ یہاں غیر ریاستی عناصر آزاد پھرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں غیر ریاستی عناصر کی پاکستان میں موجودگی کی وجہ سے عالمی برداری کی انگلیاں پاکستان کی جانب اٹھتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے تنازعہ کشمیر کو نمایاں انداز میں پیش کرنے پر اعتراز احسن نے وزیراعظم پاکستان کی تعریف کرنے کے ساتھ یہ اعتراض بھی کیا کہ بھارتی جاسوس کلبوشھن یادیو کا نام نہ لے کر نوازشریف نے زیادتی کی ہے۔انھوں نے کہا اگر کوئی پاکستانی افسر بھارت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو نریندر مودی اس کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جاتے اور ہمارے خلاف عالمی سطح پر مہم چلاتے۔“
ملکی خارجہ پالیسی بارے میں اعتراضات ہرگز نئی بات نہیں۔ اہم تو یہ ہے کہ گذشتہ ساڈھے تین سالوں سے ایک مکمل وزیر خارجہ تک موجود نہیں تو خارجہ امور کے لیے درکار سنجیدیگی کا باخوبی اندازہ کیا جاسکتاہے۔ اس میں شک نہیں کہ درپیش مسائل بے شمار ہیں مگر جو بات تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ اہل اقتدار کسی طور پر اپنی ان زمہ داریوں کی ادائیگی کو تیار نہیںجو آئینی ، قانونی اور اخلاقی طور پر ان پر عائد ہیں۔
ان حالات میں جب بھارت کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہوچکے قومی افق پر یہ کمزوری پوری طرح نمایاں ہوچکی کہ پاکستان بدستور اپنی خارجہ پالیسی کو موثر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ وطن عزیز کا محل وقوع آج نہیں ستر سال سے اس بات کا متقاضی ہے کہ خارجہ امور کو قومی مفادات کے اس طرح تابع کیا جائے کہ وہ قوم کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے ان میں کمی لانے کا باعث بن سکیں۔ قومی تاریخ کا ہر طالب علم باخوبی آگاہ ہے کہ یہاں برسر اقتدار آنے والی بیشتر شخصیات نے ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر ایسی پالیساں ترتیب دیں جس کا فائدہ ملک کو تو نہ ہو البتہ ان کے مخصوص مفادات فروغ پذیر رہے۔ اس سلسلے میں نمایاں مثال امریکہ کی پیش کی جاسکتی ہے جس کے ساتھ حکمران طبقہ کے تعلقات ملکی سے کہیں بڑھ کر ذاتی اور گروہی مفادات کے اسیر رہے۔ انکل سام ملکی سیاست میں اب اس انداز میں نمایاں ہے کہ طویل عرصے سے یہ تاثر عام ہے کہ سات سمندر پار امریکہ حصول اقتدار میں بڑی حد تک معاون ٹھرا۔ چلیں ماضی میں جو ہوا سو ہوا سوال تو یہ ہے کہ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ برسر اقتدار افراد خالصتا اس سرزمین کا مفاد ملحوظ خاطر رکھیں۔
پاکستان پیلزپارٹی کا غیر ریاستی عناصر کو کنڑول کرنے کا مطالبہ سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا افضل کھل کر اس معاملہ کو اٹھانا یقینا حیران کن ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ پی ایم ایل این کے ممبر پارلمینٹ کی حافظ سعید بارے رائے ذاتی ہے یا کہیں نہ کہیں حکمران جماعت میں بھی اس پر سوچ وبچار جاری ہے ۔ بادی النظر میں کہ یہ اعتراض غیر متعلقہ نہیں کہ حافظ سعید کی شکل میں بھارت کو آخر کیونکر موقعہ دیا جائے کہ وہ پاکستان کو دنیا بھر میں غیر ریاستی عناصر کی جنت قرار دے کر بدنام کرتا پھرے۔ واضح رہے کہ رانا افضل اس وفد میں شامل تھے جو مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم وستم کا پردہ چاک کرنے کے لیے حال ہی میں فرانس کا دورہ کرکے آیا ہے۔
گلوبل ویلج کہلانی والی اس دنیا کے تقاضے یقینا بدل چکے۔ داعش کی کاروائیوں کی شکل میں مغربی ملکوں میں دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے بین الاقوامی سطح پر شدت پسندی کے خلاف رائے عامہ ہموار ہوچکی۔ اس پس منظر میں روایتی حریف بھارت نے اس ماحول کو اپنے حق میں کرنے کے لیے بھرپور سفارتی مہم چلائی۔ حافظ سعید اور مسعود اظہر کا نام لے لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشیش کی گی کہ وادی میں جاری تحریک سے مقامی کشمیریوں کا کچھ لینا دینا نہیں بلکہ یہ سب کچھ سرحد پار سے آنے والے عناصر کا کیا دھرا ہے۔ بطور قوم ہمیں کشمیر بارے اپنے مقدمہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر نائن الیون کے بعد آنے والی تبدیلیوں کو سلسلہ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری وساری ہے۔ امید کرنی چاہے کہ ملک کو درپیش پچیدہ مسائل کے پیش نظر ارباب اختیار اپنے ہاں ایسی تبدلیاں لانے میں کامیاب ٹھریں گے جو بین الاقوامی برداری میں ملک وملت کا وقار بلند کرنے میں معاون ٹھریں۔

Scroll To Top