بھرا پیٹ ` خالی دل (حامد میر غور کریں) 29-10-2009

اے دل
تجھے کہوں سمندر
یا کہوں کشکول
اگر بھر جائے
تو ہے سمندر
خالی رہے تو کشکول
یہ صوفیانہ سچائی مجھے برادرم حامد میر کا کالم پڑھ کر یاد آئی۔ صوفیانہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ مولانا رومی ؒ کو صوفیانہ دانش کا ہی سمندر سمجھا جاتا ہے۔
26اکتوبر2009ءکو شائع ہونے والے اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا ہے۔
” لندن میں ایک انتہائی قابل اعتماد شخصیت نے مجھے بتایا کہ پچھلے دنوں ایک عرب ملک کی فضائی کمپنی نے پاکستان میں اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش کی۔ جب کامیابی نہ ہوئی تو مذکورہ کمپنی نے ایک مقتدر شخصیت کو تین ملین ڈالر دے کراپنا کام کروالیا۔یہ مقتدر شخصیت صرف خود کھانے کی شوقین ہے اور بدقسمتی سے صرف ڈالر کھانے کی شوقین ہے۔ اس شخصیت کو نجانے کیوں یہ احساس نہیں ہو پا رہا کہ زیادہ کھانے سے بدہضمی ہوجایا کرتی ہے۔“
حامد میر نے بات یہاں ” کھانے “ کی کی ہے۔کھانے سے پیٹ تو بھر سکتا ہے مگر قدرت نے کچھ ” دل “ ایسے بنائے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ان کی بھوک کا منہ خالی کشکول کی طرح کھلا رہتاہے۔
پاکستان میں ایساکون ہے جس کی بھوک کا منہ خالی کشکول کی طرح کھلا رہتا ہے ؟ میرے خیال میں ہماری حکومت کے لئے اپنی صفوں میں ایسے شخص کو تلاش کرنا مشکل نہیں ہوناچاہئے۔اگر ایسا کوئی بدبخت شخص ہے تو اس کی بھوک پوری حکومت ` بلکہ پوری قوم کے لئے بدنامی کا باعث کہلا سکتی ہے ۔ یعنی اگر حامد میر کی معلومات مصدقہ ہیں اور متذکرہ فضائی کمپنی کا تعلق ہمارے کسی برادر عرب ملک سے ہے تو یہ بات ڈھکی چھپی کیسے رہ سکتی ہے ؟ ہمارے وہ کرم فرما عرب حکمران جو ہمیں مشکلات سے نکالنے کے لئے مختلف حیلوں بہانوں سے ہماری امداد کرتے رہتے ہیں ` وہ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔
خدا کرے کہ کسی غلط آدمی نے یہ غلط اطلاع برادرم حامد میر کو دی ہو۔ اور اگر حامد میر کو اپنی اطلاع کے مصدقہ ہونے کا پورا یقین ہے تو انہیں چاہئے کہ صدر مملکت کو اس کی اطلاع دیں ` انہیں اس مقتدر شخصیت کا نام بھی بتائیں تاکہ صدر مملکت اس بدبخت کو قرار واقعی سزا دے سکیں!

Scroll To Top