غدار غداری کیوں کرتے ہیں؟ (کچھ خفیہ اداروں کے بارے میں)

آج میں ایک انتہائی نازک موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں۔ اور اس موضوع کا آغاز میں تخلیق آدم ؑسے کروں گا۔ اس کرشمہ ساز گھڑی سے جب قادرِ مطلق اور خالقِ کائنات نے اشرف المخلوقات یعنی آدم ؑ کو معرض وجود میں لاکر ابلیس سے کہا کہ اسے سجدہ کرو۔ ابلیس نے اِس بناءپر حکمِ خداوندی ماننے سے انکار کردیا کہ وہ آگ سے بناہوا ہے اور افضل ہے ` وہ حقیر مٹی سے بنے ہوئے آدم ؑ کے سامنے کیوں جھکے۔۔۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ وہ چاہتا تو ابلیس بغاوت اور نافرمانی نہ کرتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب تھا ` ایک ایسی دنیا کو معرض ِ وجود میں لانا جہاں حق و باطل ہمیشہ برسرپیکار رہیں۔۔۔
جو بات میں یہاں بتا نا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس طرح ابلیس نے نافرمانی کی ` اسی طرح حضرت آدم ؑ نے بھی ابلیس کے بہکاوے میں آکر شجر ممنوعہ کا پھل کھایا اور یوں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے۔۔۔
مطلب یہ ہے کہ اشرف المخلوقات بھی تقصیرسے بالاتر نہیں ` اور نفس کے بہکاوے میں آکر گناہ کا ارتکاب کرسکتا ہے۔
یہ وضاحت میں نے اس حقیقت پر زور دینے کے لئے کی ہے کہ ریاستی معاملات میں آئی ایس آئی ` ملٹری انٹیلی جنس اور آئی بی جیسے خفیہ سراغ رساں اداروں کا کردار سمجھا جاسکے۔
ان اداروں کا مقصد جہاں ریاست اور معاشرے کے دشمنوں کے بارے میں حقائق جاننا اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے ` وہاں ان فرزندان و دختران آدم ؑ کے معاملات اور روز و شب کے بارے میں بھی آگہی رکھنا ہے جو ریاستی معاملات میں فیصلہ ساز کلیدی حیثیت کے حامل ہوں۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ غرناطہ کے آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ نے فرڈی ننڈ اور ازبیلا کے ساتھ خفیہ ساز باز کی تھی اور اس ساز باز کے نتیجے میں غرناطہ کے دروازے عیسائی لشکر پر کھول دیئے گئے تھے اور الحمرا کی چابیاں فرڈی ننڈ کے حوالے کردی گئی تھیں ؟
اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ سطلنت عباسیہ کے آخری وزیراعظم ابن علمقی نے کسی بہت بڑے لالچ میں آکر ہلاکو خان کے ساتھ جنگ کے بغیر ہتھیار ڈالنے کا خفیہ معاہدہ کیا تھا۔۔۔؟
اگر اُس دور میں خفیہ اداروں کا کوئی نظام ہوتا تو ملت کے ساتھ اتنی بڑی غداری کا ارتکاب آسان نہ ہوتا۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ پاکستان کے کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے فرائض کی ادائیگی یہ سوچے بغیر کرتے ہیں کہ جس شخص کے بارے میں وہ معلومات حاصل کررہے ہیں وہ کتنے بڑے حکومتی عہدے پر فائز ہے۔۔۔
میں نے اس کالم کا آغاز جس مثال سے کیا ہے اس کا مقصد ہی یہ بات واضح کرناہے کہ کوئی بھی انسان خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہو ` اور حب الوطنی کے کتنے ہی بڑے دعوے کیوں نہ کرتا ہو ان کمزوریوں سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتاجو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کا حصہ بنائی ہیں۔۔۔
میر جعفر نے غداری اس وجہ سے نہیں کی تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا وہ حشر ہو جو ہوا۔۔۔ وہ تو صرف یہ چاہتا تھا کہ انگیریز اقتدار سراج الدولہ سے چھین کر اس کے حوالے کردیں۔۔۔
میر صادق نے غداری کا ارتکاب اس وجہ سے نہیں کیا تھاکہ میسور اور ہندوستان مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے۔۔۔ اس نے تو انگریزوں سے ساز باز صرف سلطان ٹیپو ؒ کی جگہ لینے کے لئے کی تھی۔
غداروں کو کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں اس کا اختتام کہاں ہوتاہے۔۔۔ ان کے سامنے تو صرف وہ ” فوائد“ ہوتے ہیں جن کی خاطر وہ اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں۔۔۔
میری خواہش ہے کہ میری بات لوگوں کی سمجھ میں آجائے اور مجھے زیادہ تفصیلات میں نہ جانا پڑے۔
لیکن ایک بات کا ذکر میں یہاں ضرور کروں گا۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ کیا صرف اقتدار کے تحفظ کے لئے ” دشمن کی میراث “ کو قبول کرنا درست ہوگا۔؟ کیا ایم کیو ایم کے نام سے ذہن فوری طور پر الطاف حسین کی طرف نہیں جاتا۔۔۔؟ جوا صحاب ” پاکستان زندہ “ کے نعرے لگاکر اپنی حب الوطنی پر مہر تصدیق ثبت کرانا چاہتے ہیں وہ اُس نام سے کیوں چمٹے رہنا چاہتے ہیں جو صرف اور صرف الطاف حسین کی سوچ کا عکاس ہے۔۔۔؟

Scroll To Top