سورج کی روشنی سے براہِ راست کھاد بنانے والا بایونک پتّا

ہارورڈ یونیورسٹی میں بنایا گیا مصنوعی نظام فصلوں کی زرخیزی بڑھا کر غربت اور بھوک کا خاتمہ کرسکتا ہے، فوٹو؛ فائل

میسا چیوسیٹس: دنیا کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک ایسا ’’بایونک پتّا‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جو سورج کی روشنی کو فرٹیلائزر میں تبدیل کرکے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس ’بایونک لیف‘ میں ایک مصنوعی نظام موجود ہے جوعین ضیائی تالیف (فوٹو سنھتے سز) کی نقل کرتا ہے۔ اس عمل سے پودے سورج کی روشنی سے توانائی بناتے ہیں جب کہ یہ نظام اسی روشنی سے مصنوعی کھاد تیار کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں اسے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور غریب ممالک میں بھوک اور غربت کے خاتمے میں استعمال کیا جاسکے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی ایجاد بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے عین اسی مٹی میں فرٹیلائزر بنا کر اگلے سبز انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔ مصنوعی پتّا بایوکیمسٹری کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایسا مصنوعی پتّا بناچکے ہیں جو اصل پتے سے زیادہ اور بہتر انداز میں ضیائی تالیف کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

اس پتے کو جانچنے کے لیے ماہرین نے اس مٹی میں امونیا کی مقدار کو نوٹ کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے صرف بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے بنے فرٹیلائزر پر مولی اُگانے کا تجربہ کیا ۔ مصنوعی پتے سے بنے فرٹیلائزر سے مولیوں کے وزن میں 150 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں شاید بھارت، پاکستان اور افریقی ممالک کے کسان خود اپنی زرخیز کھاد تیار کرسکیں گے۔

اس تحقیق کی تفصیلات جلد ہی امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یہ مشینی پتّا باغ میں لگے پتے کی طرح کام کرتا ہے اور سورج کی روشنی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن خارج کرتا ہے۔ اس کے بعد بایونک پتے میں ایک قسم کا بیکٹیریا ’رالسٹونیا یوٹروفا‘ شامل کیا جاتا ہے جو ہائیڈروجن استعمال کرتے ہوئے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرکے مائع فرٹیلائزر تیار کرتا ہے۔ اب یہ ٹیم ایک اور بیکٹیریا استعمال کرتے ہوئے فضا سے نائٹروجن کشید کرکے فرٹیلائزر تیار کرنے پر کام کررہی ہے۔

Scroll To Top