’فنکاروں کی موت کے بعد مکمل ہونے والی فلمیں‘

فلم حنا

بالی وڈ فلم ’حنا‘ کی شوٹنگ کا وقت تھا، فلم کے ڈائریکٹر راج کپور ’دادا صاحب پھالكے‘ ایوارڈ وصول کرنے گئے ہوئے تھے جہاں دمہ کے کے باعث ان کی موت ہو گئی۔

بعد میں راج کپور کی ڈائریکشن میں بننے والی یہ فلم 1991 میں راج کپور کے بیٹے رندھیر کپور کی ڈائریکشن میں مکمل ہونے کے بعد ریلیز ہوئی۔
پروفیسر کی پڑوسنتصویر کے کاپی رائٹKANT KUMAR

1993 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پروفیسر کی پڑوسن‘ کے اہم اداکار سنجیو کمار کا انتقال 1985 میں اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ہو گیا تھا۔

چونکہ فلم 75 فیصد سنجیو کمار کے ساتھ شوٹ ہو چکی تھی تو ان کی موت کے بعد سکرپٹ کو تبدیل کرنا پڑا اور اس فلم میں سنجیو کمار کو غائب کر کے ان کی آواز سدیش بھوسلے سے ڈب کرائی گئی۔

پروڈیوسر اور ہدایتکار کے طور پر ونود مہرا کی واحد فلم ’گرودیو‘ 1993 میں ان کی موت کے تین سال بعد ریلیز ہوئی۔ ونود اس فلم کو مکمل کیے بغیر ہی چل بسے۔ تاہم بعد میں راج سپی نے اس فلم کی ڈائریکشن کی۔

لاڈلاتصویر کے کاپی رائٹVINOD MEHRA

اسی طرح 1994 میں ریلیز ہونے والی فلم ’لاڈلا‘ میں سری دیوی سے پہلے دیویا بھارتی فلم میں لیڈنگ رول کر رہی تھیں۔ 1993 میں دیویا بھارتی کے انتقال سے پہلے وہ فلم کا ایک بڑا حصہ شوٹ کر چکی تھیں۔ اسی وجہ سے ان کے مرنے کے بعد سری دیوی کے ساتھ دوبارہ شوٹنگ کی گئی۔

دیویا بھارتی کے انتقال سے قبل فلم میں ادا کیے گئے کردار شیتل کی فوٹیج انٹرنیٹ پر اب بھی دستیاب ہے۔

1966 کی فلم ’بہاریں پھر بھی آئیں گی‘ میں پہلے گرودت مرکزی کردار ادا کر رہے تھے جو کہ اس فلم کے پروڈیوسر بھی تھے۔ تاہم 1964 میں ان کے انتقال کے بعد دھرمیندر نے اس کردار کو آغاز سے شوٹ کیا۔

گرودتتصویر کے کاپی رائٹGURU DUTT

اسی طرح 1996 میں ریلیز ہونے والی فلم ’آتنگ‘ میں امجد خان کی آواز ڈب کرائی گئی تھی۔ ان کا انتقال 1992 میں ہو گیا تھا۔

ہندی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر سٹار راجیش کھنہ کے 2012 میں گزرنے کے دو سال بعد ان کی فلم ’ریاست‘ ریلیز ہوئی۔

فلمتصویر کے کاپی رائٹS. WARIS ALI

Scroll To Top