پنجاب میں بھی دہشتگردوں کےخلاف سخت اقدامات کیے جائیں

  • تجزیہ کاروں کے بقول مسلم لیگ نون کو ڈر ہے کہ قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والے صوبہ پنجاب پر اگر حکمران جماعت کا کنٹرول کم ہوگیا تو اس کو آنے والے دنوں میں سیاسی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ahmed-salman-anwer

گزشتہ دنوں لاہور او رپاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی خود کش حملوں کے سانحے پیش آئے۔ ان واقعات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والو ں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ گذشتہ صبح دشمن نے لاہور میں ایک اور بزدلانہ وار کیا۔ علاقے بیدیاں روڈ پر خود کش دھماکے سے مردم شماری کے لیے خدمات سرانجام دینے والے پاک فوج کے 4 جوانوں سمیت 6 اہلکار شہید ہوئے۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا کہنا ہے کہ جوانوں اورشہریوں کی قیمتی جانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ، مردم شماری کا عمل ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔
حال ہی میں دہشت گردی کی نئی لہر نے سب کو چونکا دیا کیونکہ عمومی طور پر یہ سوچ پختہ ہوچکی تھی کہ دہشت گردوں کا قریب قریب خاتمہ کردیا گیا ہے لیکن دہشت گردوں کی طرف سے نئے حملوں کے بعد عوام کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ ایک بار پھر عدم تحفظ سے دو چار نظر آئے۔ دہشت گردوں کی طرف سے اہم مقامات کو نشانہ بنایاجارہا ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس کیلئے ضروری تھا کہ ازسرنوسیکیورٹی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پنجاب میں ملٹری آپریشن کی اشد ضرورت تھی اور اسے بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا اور اسے کسی بھی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔
پنجاب میں آپریشن ردالفساد کے تحت فوجی کارروائیاں شروع کی گئیں ہیں مگر پنجاب میںحکومتی ہٹ دھرمی اور رویہ کی وجہ سے بہت سے سوالات جنم لینے لگے ہیں ۔یہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے جس طرح بلوچستان اور کے پی کے میں حکومت اور عسکری قیادت ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما ہے اسی طرح پنجاب اور سندھ میں بھی اس کی اشد ضرورت ہے۔تجزیہ کاروں کے بقول مسلم لیگ نون کو ڈر ہے کہ قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والے صوبہ پنجاب پر اگر حکمران جماعت کا کنٹرول کم ہوگیا تو اس کو آنے والے دنوں میں سیاسی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پنجاب اور سندھ میں رینجرز کے اختیارات کا معاملہ ہر وقت کٹھائی میں پڑتا ہے حالانکہ عوام اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کراچی جو کہ بدامنی اور دہشتگردی کا شکا ر تھا وہاں اب حالات یکسر بدل گئے ہیں اور اس کا کریڈیٹ رینجرز کو جاتا ہے جس نے کراچی کی رونقیں بحال کیں اور کراچی ایک بارپھر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ۔ بیرون ملک سے بھی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے لگے ہیں۔ مگر اب تک یہ نہیں کہاجاسکتا کہ سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں دشمن چھپ کر اور موقع پاکروار کرتا ہے۔دہشت گردوں، ان کی کمین گاہوں سمیت ان کے سہولت کاروں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی جس کیلئے ضروری ہے کہ بلاتفریق کارروائی کی جائے اور اس میں روڑے نہ اٹکانے جائیں تاکہ ملک سے بدامنی کا خاتمہ ہوسکے۔یہی ہم سب کا عزم ہونا چائیے کیونکہ جب تک سول وعسکری قیادت ایک پیج پر ہوکر دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما نہیں ہونگے اس میں خامیاں پیدا ہونگی اور اس کا نقصان ملک کو ہوگا۔

Scroll To Top