قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ مودی ہو یا ”را“ہم دشمن کی چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ جمعرات کو گلگت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دو روزہ اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملکی سلامتی کے لیے کسی بھی حدسے آگے تک جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ہر قیمت اور ہر سطح پر توڑیں گے۔“
وطن عزیز کو جس دشمن کا سامنا ہے کہ وہ مختلف روپ دھارے ہمارے اردگرد موجود ہے۔سیاسی ، لسانی اور مذہبی دہشت گردوں کو روایتی حریف نے اس انداز میں مٹھی میں کرلیاہے کہ چاہنے کے باوجود وہ آزاد نہیں ہو پا رہے ۔ قیام امن بارے ہونے والی پیش رفت کا جنرل راحیل شریف کو بجا طور پر کریڈٹ جاتا ہے ۔ ضرب عضب کی شکل میں انہوں نے ملک بھر میں انتہاپسند گروپوں کے خلاف ایسی لڑائی شروع کی جو آج بڑی حد تک کامیابی سے جاری وساری ہے۔ یقینا حتمی کامیابی کا دعویٰ کرنا قبل ازوقت ہے مگر یہ بھی کم اہم نہیں کہ کراچی تا خبیر دہشت گردوں کا خوف بڑی حد تک کم ہوچکاہے۔
اسی پس منظر میں آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ دولت اسلامیہ کے تین سو اراکین جن میں پاکستان کا امیر بھی شامل ہے گرفتار ہوچکے ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ داعش نے پاکستان میں جگہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر اسے ناکام بنا دیا گیا تاہم اس کے خاتمے کا کام مکمل نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق اس دہشت گرد تنظیم کا سربراہ حافظ عمر تھا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پرحملوں کے علاوہ فیصل آباد میں میڈیا کے دفاتر پر حملوں میں بھی ملوث تھا۔ داعش کے حراست میں لیے جانے والے افراد میں پاکستانیوں کے علاوہ 25غیر ملکی بھی ہیں ۔جن کا تعلق افغانستان ، عراق اور شام سے ہے۔
وطن عزیز میں دہشت گردی کے خلاف سیکورٹی فورسز جس طرح کامیابیاں سمیٹ رہیں وہ بلاشبہ حوصلہ افزاءہے۔ ملک میں دہشت گرد کاروائیوں میں نمایاں کمی ہوچکی ہے۔ تسلیم کہ انتہاپسندی کا جن پوری طرح بوتل میں بند نہیں ہوا مگر عام پاکستانی میں یہ اُمید ضرور بیدار ہوئی کہ آج نہیں تو کل امن وامان مکمل طور پر بحال ہوگا۔ درست کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے لیے وفاق اور صوبے وہ تیزی سے نہیںدِکھا رہے جس کی بجا طور پرضرورت ہے مگر ہم یہ اُمید کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آنے والے دنوں میں سیاسی قیادت کے لیے پورے اخلاص کا مظاہرہ کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں بچے گا۔
عاصم سلیم باجوہ نے درست کہا کہ ہزاروں افسران اور اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں ،وہیں قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر مبہم الفاظ میں بتایا کہ پاکستانی قوم نے داعش کو قبول نہیں کیا چنانچہ عالمی دہشت گرد تنظیم ہمارے ہاں جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی ہے۔
اس رائے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پاک فوج میدان جنگ میں دشمن کا صفایا کررہی مگر نظریاتی محاذ پر بھی انتہاپسندی کو شکست دینے کے لیے تاحال بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انتہاپسندی کو ایسے ایسے تناور درخت سے تشبیہ دی جاتی ہے جس کی شاخیں کاٹنے سے کی بجائے جڑوں سے نکال باہر کرنا ہوگا۔ جنگ فوج نہیں قوم لڑا کرتی ہے لہٰذا مسلح افواج اپنی ہر کامیابی قوم سے منسوب کرنے میں پل بھر کی تاخیر نہیں کرتی ہیں۔ ملک کی سیاسی ومذہبی قیادت کو یہ ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے وہ وقتی مصلحتوں سے کام لینے کی بجائے دل وجان سے اس عظیم مشن میں تعاون کرے۔وطن عزیز میں جاری موجودہ جنگ کسی صورت غیر سنجیدگی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کے لیے بنیادی شرط امن وامان ہے۔ دائمی امن ہی بہتری کے ہر منصوبہ کی اوّلین ضرورت ہے یعنی ایسا ماحول کا قیام ہے جہاں ہر کسی کی جان محفوظ ہو۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی افادیت میں شبہ نہیں مگر اس عظیم منصوبہ کے لیے دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ لازمی ہے۔
محض دوسال قبل تک علاقائی یا عالمی طاقتیں اس پر یقین کرنے کو تیار نہ تھیں کہ پاکستان اپنی سرزمین سے ان درجنوں مسلح گروہوں کا خاتمہ کرلے گا جو سیکورٹی فورسز اور عام شہری ہر کسی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے تھے۔ حزب ِاقتدار وحزبِ اختلاف کے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرت ہمارے ہاں ہی ہوتے رہے ہیںمگر پھر جنر ل راحیل شریف پورے عزم کے ساتھ میدان میں اُتر ے اور بڑی حد تک ملک بھر میں ریاست کی رِٹ قائم کرڈالی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے طرزِعمل سے اپنوں اور غیروں دونوں کو بتا ڈالا ہے کہ پاک فوج محض کہنے کی حد تک نہیںعملا ًدنیا کی بہترین سپاہ ہے جو ہرقسم کے دشمن کا کامیابی سے خاتمہ کرنے کی پر اہلیت رکھتی ہے۔ ملکی سیکورٹی فورسز کی کامیابیاں یقینا عارضی نہیںہیں۔ دفاعی ادارے دہشت گردوں کے خلاف جس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اس سے واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوچکی ہے۔ بفضل اللہ امن پاکستان کا مقدر بن چکا ہے جس کے لیے پاکستانی قوم مزید قربانیاں بھی دینے کا تیار ہے۔ اس کے لیے ملک کے طول وعرض میں جس اتفاق اور یکہجتی کی ضرورت ہے وہ اگر مگرکے باوجود مسلسل فروغ پذیر ہے۔

Scroll To Top