کرپشن کے خلاف جیت کےلئے اتحاد ناگزیر ہے

salman-anwerعلامہ اقبال ؒ کا خواب اور قائد اعظم ؒ کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزا د اسلامی مملکت کا قیام تھا جو خود مختار ہو، جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو؛ معاشی مساوات، عدل و انصاف، حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کا احترام اور اَمانت و دیانت جس کے معاشرتی امتیازات ہوں؛ جہاں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ہ اس ریاست کو قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق چلانا چاہتے تھے۔
بلاشبہ وطن عزیز پاکستان کو قدرت نے ہر نعمت سے سرفراز کر رکھا ہے۔ قوم نے اندر تعمیری جذبات کی کمی بھی نہیں تھی نہ ہے۔ لیکن قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ عوام پینسٹھ 68 سال سے لوٹنے والوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ اشرافیہ اور سیاست دانوں نے کرپشن لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کرپشن کے حوالے سے اگر آپ نے کسی ملک کو پرکھنا ہوتو اس کے لیے آپ کو کسی انجینئرنگ کی ضرورت نہیں بلکہ وہاں کے سیاستدانوں و بیوروکریسی کی شاہانہ طرز زندگی دیکھ لیں، آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ وہاں کی اشرافیہ اور عوام کے درمیان فاصلہ نمایاں ہوگا۔
یہاں جناب زرداری صاحب اور نوازشریف صاحب کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ جن کے پرتعیش انداز ِزندگی اور بے پناہ مال و متاع چیخ چیخ کر ان کی کرپشن کو آشکار کر رہے ہیں۔ سوئس بینک ، پانامہ ، حدیبیہ کیس، اصغر خان کیس جیسے سیکنڈلز اس لوٹ مار اور کرپشن کی قلعی پوری طرح عوام سامنے کھول کر رکھ دی ہے ۔جس کو دونوں شخصیات نے ”میثاق جمہوریت“ کی چھتری تلے باہم جاری رکھا ہوا ہے۔
یہاں المیہ یہ ہے کہ لوگ پانچ سال تک اِس کرپٹ نظام اور اس کے ظلم کےخلاف شعور و آگاہی غضب کو پالتے رہتے ہیں اور اپنے دشمن کو پہچاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ آئندہ ان سے نجات حاصل کریں ۔مگر بدقسمتی سے جوں ہی چار یا پانچ سال پورے ہوتے ہیں، ا±ن کا وہی دشمن نئے انداز سے دوستی، ہم دردی، برادری، علاقائی فریب محبت کا لباس اوڑھ کر اور یہی رہزن ان کی عزت و آبرو اور جان و مال کے محافظ کا روپ دھار کر سامنے آجاتے ہیں۔ قوم پھر ا±نہی رہزنوں کو دوست اور مسیحا سمجھ کر اگلے پانچ سال کے لیے منتخب کرلیتی ہے۔ سب بے کار چلا جاتا ہے اور شعور کا چراغ پھر بجھ جاتا ہے۔-
پاکستان میں جن حلقوں پر حالات سدھارنے اور انصاف و احتساب کی ذمے داری عاید ہوتی ہے، ان کے رویے سے ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ انھیں کرپشن سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کی کوئی پروا ہے،چونکہ ان کی مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں اور معاشرے کے ناسور یونہی رستے رہتے ہیں۔ آج ڈاکٹر عاصم ، حامد سعید کاظمی ، شرجیل میمن جیسے کرداروں کی رہائی جن پر کرپشن کے بڑے بڑے ناقابل ترید الزامات تھے ،اب وہ بھی رہا ہوگئے ہیں ۔شرجیل میمن کو کرپشن کے بڑے بڑے الزامات کے بعد تاج پہنائے جا رہے ہیں۔ ایان علی سیر و تفریح میں مگن ہے۔ یہی صورتحال تخت حکمرانی پر برجمان دو بڑیی ارٹیزکے کرپٹ افراد کی ہے۔ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ ایک بار پھرہ میچ فکسنگ کے ماہر کھلاڑیوں میں نوراکشتی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
کرپشن ایک ایسا مرض ہے جوا چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے- ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے-کرپشن کا یہ اتحاد ایک نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو کر خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ جان و مال کی ہلاکت اور دہشت گردی، قتل وغارت اور لوٹ مار اِن کا مقدر بن چکا ہے۔
یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے کہ کرپشن کے حواری تو متحد ہیں ۔ لیکن وطن کی محبت کے متلاشی، کرپشن مخالف ۔۔ انقلاب، تبدیلی اور احتساب کے دعویداروں میں ہم آہنگی اور اتحاد کا فقدان ہے۔ اس کی بہترین مثال جناب طاہر القادری اور عمران خان کو ہی لے لی جیئے۔ان دونوں اصحاب کا ذکر میں اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ عمران خان صاحب اور طاہر القادری صاحب وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جو دوسرے بہت سے نامور سیاستدانوں کے بر عکس (جن کا سیاست کے علاوہ کوئی کام دھند ا نہیں) اپنے آپ کو پوری دنیا میں اپنے اپنے میدان میں منوانے کے بعد سیاست میں آئے ہیں۔ اور حقیقتاً یہ ہی بات اس اتحاد کے دیر پا ہونے کے کئی دفعہ آڑے بھی آچکی ہے۔
بحر حال یہ اصول پسندی اور انا پسندی اس سے پہلے کہ ”پاکستان“ کو لے ڈوبے، قوم کے وسیع ترمفاد کی خاطر، حقیقی تبدیلی کے خواہشمندوں کی خاطر، پاکستان کی نسلوں کی خاطر اور خود پاکستان کی خاطر ایسے راہنماو¿ں کا ایک ساتھ چلنا نا گزیر ہے۔
کرپشن اور ظلم کے خلاف ایک موثر اور طاقتور نظام کے ذریعے ایک بھرپور مہم چلائے بغیر کرپشن ختم کرنے کے دعوے کرنا کرپشن مکاو¿ کی بجائے کرپشن بچاو¿ کے زمرے میں ہی آئیگا۔ جب تک ہم بدعنوانی اور فرسودہ نظام کے خلاف موجودہ رویوں اور خراب نیتوں کے ساتھ لڑتے رہیں گے تب تک نتیجہ صفر بٹا صفر ہی رہے گا اور ہم کرپشن کے ہاتھوں اسی طرح پٹتے رہیں گے۔

Scroll To Top