سرگودھا، دربار کے متولی نے ساتھیوں کی مدد سے20مریدوں کو قتل کر دیا

  • مقتولین میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شامل، گدی نشین عبدالوحید 3ساتھیوں سمیت گرفتار ، ملزمان کا اعتراف جرم ، لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے
  • ملزم نے بتایا کہ مریدوں کو اس لئے قتل کیا کیونکہ وہ پیر علی احمد گجر کو زہر دینے کی سازش کا حصہ تھے، وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس کو 24 گھنٹے کے اندر واقعے کی تفتیش مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت

سرگودھا/لاہور (این این آئی)ضلع سرگودھا کے تھانہ کینٹ کی حدود میں واقع نواحی گاﺅں چک نمبر 95شمالی میں آستانے کے گدی نشین اور اس کے ساتھیوں نے چار خواتین سمیت 20افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا ، مقتولین میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں جبکہ تین افراد زخمی بھی ہوئے ، پولیس نے گدی نشین عبدالوحید سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا ، دور ان تفتیش ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا ،قتل کیے گئے مریدوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پولیس کو 24 گھنٹے کے اندر واقعے کی تفتیشی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ضلع سرگودہا کے نواحی گاﺅں چک نمبر 95شمالی میں واقع دربار محمد علی پرگدی نشین عبدالوحید اوراس کے چار ساتھیوں نے اپنے حجرے میں تیز دھار آلے اور ڈنڈوںسے چار خواتین سمیت20افراد کو قتل کر دیا ۔مرنے والوں میں زاہد ملنگ ، خالد جٹ ، محمد آصف ، محمد ندیم ، محمد جاوید ، محمد شاہد ، نصرت بی بی، شازیہ بی بی، رخسانہ بی بی، سیف الرحمان ، محمد ساجد ، محمد حسین ، محمد جمیل، محمد گلزار ، بابر ، محمد اشفاق اور دیگر شامل ہیں۔قتل کئے گئے11افراد کا تعلق سرگودھا ،2 کا اسلام آباد ،2 کا لیہ، ایک کا میانوالی، ایک اور شخص کا تعلق پیر محل سے ہے ،ایک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی جبکہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق مقتولین میں پیر علی احمد گجر کا بٹیا اور دربار کا متولی بھی شامل ہیں۔ سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لیاقت علی چھٹہ نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا میں آنے والی ایک زخمی خاتون نے دی تھی انہوںنے بتایا کہ یہ خاتون ان دیگر 3 زخمی افراد میں شامل تھیں جو درگاہ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ڈی سی سرگودھا کے مطابق عبدالوحید مریدین کو نشہ آور جوس پلا کر بےہوش کرتا اور پھر انھیں برہنہ کرکے لاٹھی اور چاقو کے وار سے ان کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجاتے اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو ایک کمرے میں جمع کرتا رہا۔جی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج ایک زخمی خاتون نے بتایا کہ آستانے کے گدی نشین عبدالوحید اوراس کے حجرے میں موجود دیگر ساتھیوں نے آستانے پر موجود مریدین کو ایک ایک کر کے حجرے میں بلایا اور نشہ آور مٹھائی کھلا کر خنجروں اور ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا ۔خاتون نے بتایا کہ واردات کے دوران بچوں نے خوف زدہ ہو کر چیخنا چلانا شروع کیا تو بچوں کی چیخ و پکار سن کر لوگوں نے عبدالوحید اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے کی کوشش کی تاہم وہ موقع واردات سے فرار ہوگیا میڈیار پورٹ کے مطابق واقعہ کے بعد سرگودہا پولیس نے عبدالوحید اور اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف ِ جرم کر لیا ۔پولیس کے مطابق ملزم جنونی اور نفسیاتی ہوسکتے ہیں یا یہ معاملہ درگاہ کے کنٹرول کا بھی ہوسکتا ہے تاہم درگاہ کے قریب دیہات کے رہائشیوں نے متولی کی ذہنی حالت خراب ہونے کے حوالے سے خبروں کی تردید کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق تھانہ صدر سرگودھا میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار محمد احسان نے بتایا کہ ان افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ جمعہ کی رات سے شروع ہوا تاہم پولیس کو ہفتہ شب اطلاع ملی۔ قاتل عبدالوحید ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائرڈ الیکشن کمیشن پنجاب کے عہدے پر بھی تعینات رہا۔ریٹائر منٹ کے بعد وہ دربار میں بغیر رجسٹریشن کے حلیفہ کے عہدے پر فائزہوگیا۔ دورانِ تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ پیر علی احمد گجر کو زہر دینے کی سازش کا حصہ تھے۔ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق عبدالوحید مریدوں پر تشدد کر کے کہتا تھا کہ ان کا جسم پاک ہونے لگا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم عبدالوحید الیکشن کمیشن سرگودھا کا ملازم ہے ،اس سے آفس کارڈ بھی برآمدہوا ہے۔ادھر مقامی افراد نے بتایا کہ عبدالوحید مہینے میں ایک دو بار درگاہ پر آتا تھا ، مریدوں پر تشدد کر تا تھا ، انہیں برہنہ کر کے آگ بھی لگاتا تھا۔دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پولیس کو 24 گھنٹے کے اندر واقعے کی تفتیشی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قبل ازیں ڈپٹی کمشنر سرگودہا لیاقت علی چٹھہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودہا کیپٹن(ر) سہیل چوہدری پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع واردات پرپہنچے ۔مقتولین کی نعشوں کو پولیس نے قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودہا منتقل کیاگیا جس کے بعد لاشیں ورثاءکے حوالے کر دی گئیں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیرِ علاج افراد کے بارے میں ڈاکٹر عثمان امتیاز نے بتایا کہ زخمیوں کے جسموں پر تیز دھار آلے اور ڈنڈوں کے گہرے نشانات موجود ہیں تاہم کا علاج جاری ہے ۔

Scroll To Top