بات قیامت کی نشانیوں کی 22-08-2008

 ہیں۔ اصل بات جو میں لکھنا چاہتا ہوں وہ ایک دلچسپ فقرے کے بارے میں ہے’ جو گزشتہ رات کی ایک تقریب میں گفتگو کے دوران ایک پاکستانی بزنس مین نے ادا کیا۔ اس موقع پر پاکستان سے آئے ہوئے ایک وکیل رہنما بھی موجود تھے انہوں نے ہی یہ خبر سنائی کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پاکستان میں صدارت کے عہدے کے لئے جناب آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کی روح کو سکون پہنچانے کا اس سے بہترطریقہ اور کوئی نہیں ہوگا کہ ان کی قربانی کے صلے میں ان کے ”جیون ساتھی“ کو صدر بنادیاجائے۔
اس موقع پر متذکرہ پاکستانی بزنس مین نے برجستہ کہا”دوستو! کیا یہ قیامت کی نشانیاں نہیں ہیں؟ کیا یہ ویسی ہی بات نہیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور غروب مشرق میں ہوگا؟“
ڈنر پر موجود لوگ ہنس پڑے۔ ایک صاحب نے کہا ”یہ ساری کرشمہ سازیاں اس مفاہمتی معاہدے کی ہیں جو واشنگٹن میں طے پایا تھا“
اس موقع پر وہی پاکستانی بزنس مین بولے۔” کیا محترمہ کا دنیا سے جانا اور زرداری صاحب کا سیاست میں آنا بھی اسی مفاہمتی معاہدے میں شامل تھا؟“
”یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے میں بات الطاف بھائی، زرداری بھائی اور مشرف بھائی کے درمیان پیدا ہونے اورپروان چڑنے والے مفاہمتی جذبے کی کررہا ہوں“ وہ صاحب بولے۔
Scroll To Top