اے قوم……..! (تیسری قسط)

نسیم حجازی (مرحوم) کا خط آج کے پاکستان کے نام

au-qoum
اے قوم! مشرقی پنجاب میں جو کچھ ہوا، وہ فرقہ وارانہ فساد کا نتیجہ نہ تھا۔ تاریخ انسانی کے اس عظیم ترین قتل عام کے لیے فرقہ وارانہ فساد کا لفظ پروپیگنڈا کے فن کے ان استادوں کے دماغ کی اختراع ہے جنہوں نے دنیا کی نگاہوں کے سامنے اہنسا پرمودھرما کا نقاب ڈال کر بدترین بھیڑیوں کی فوج تیار کی تھی۔ مشرقی پنجاب، دہلی، بھرت پور، الور، پٹیالہ، فرید کوٹ ، نابھ اور کپور تھلہ کے اسٹیج پر جو خونیں ڈرامہ کھیلا گیا، اسے فرقہ وارانہ فساد سے کوئی نسبت نہ تھی۔ یہ وہ قتل عام تھا جس کی سرپرستی اور رہنمائی بھارت کی حکومت، بھارت کی فوج اور پولیس اور بھارت میں شامل ہونے والی ریاستوں کے حکمران کر رہے تھے۔ نہرو اور پٹیل سے لے کر ایک سیوا سنگھی اور بلدیو سنگھ سے لے کر ایک اکالی رضا کار تک سب مسلمانوں کے قتل عام میں شریک تھے….یہ قتل عام ہندوستان سے مسلمانوں کے مکمل استیصال کے منصوبے کی ایک کڑی تھی۔
لیکن پاکستان میں ابھی تک ایسے لوگ ہیں جو ہر حالت میں پٹیل اور نہرو کی قباﺅں سے خون کے داغ دھونا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس قوم کو پھر ایک بار تھپکیاں دے کر سلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
تقسیم سے پہلے جب کانگرس مسلمانوں پر آخر ی ضرب لگانے کے لیے ہندو اور سکھ قوم کے تخریبی عناصر کو منظم کر رہی تھی تو غلط اندیش لوگوں کا ایک گروہ مسلمانوں کو یہ کہہ کر لوریاں دیا کرتا تھا کہ ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں۔ مسلمانوں کو ہندوو¿ں کے ارادوں کے متعلق شک نہیں کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کی علیحدہ تنظیم رجعت پسندی ہے، تنگ نظری ہے، گاندھی بڑا اچھا آدمی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں…. تقسیم کے بعد ان لوگوں کی جگہ ادیبوں اور شاعروں کا ایک گروہ میدان میں آگیا ہے ۔ اب یہ لوگ ہندو فاشزم کی صفائی پیش کر رہے ہیں ۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ اوّل مشرقی پنجاب کے عبرت تاک واقعات کا ذکر نہ کیا جائے، اگر کیا بھی جائے تو پچاس فیصدی ذمہ داری ہندوو¿ں اور سکھوں پر ڈال دی جائے اور پچاس فیصدی مسلمانو ں پر۔ اس لیے کہ مسلمان مشقی پنجاب کے بھیانک واقعات سے عبرت حاصل کر کے ہندو¿ فاشزم کے مقابلہ میں اپنی اجتماعی قوت بروئے کار نہ لاسکیں۔ ہندوستان جونا گڑھ کو ہڑ پ کر چکا ہے۔ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان سے مسلمانوں کے مکمل استیصال کے منصوبہ کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے بعد پاکستان میں آخری ضرب لگانا چاہتا ہے۔
ان ادیبوں اور شاعروں کے لیے مسلمان کی عزت اور آبرو، جان اور مال کا کوئی مسئلہ نہیں۔ دس پندرہ لاکھ انسانوں کاقتل بھی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں…. قوم کی ہزاروں چھینی ہوئی بہو بیٹیوں کا مسئلہ ان کے لیے کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ یہ سیاسی ، روحانی اور اخلاقی یتیم ادب کے نام سے کوکین کے تجارت کرتے ہیں اور پاکستان کے بعض ادارے صرف ہندوستان میں چند کتابیں بیچنے کے لیے ان کو کین فروشوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
اجتماعی آلام و مصائب کا سامنا کرنے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اجتماعی جدوجہد، اجتماعی شعور ، اجتماعی فکر اور اجتماعی کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ مشرقی پنجاب کی تباہی کے بعد پاکستان مسلمان یہ محسو س کر رہے ہیں کہ اگر ہم ہندو فاشزم کی یلغار کے سامنے اپنی اجتماعی قوت بروئے کار نہ لا سکے تو پاکستان کی سرزمین پر بھی مشرقی پنجاب، دہلی اور جونا گڑھ کی تاریخ دہرائی جائے گی…. اجتماعی خطر ے کا احساس قوم کے نوجوانوں کو کشمیر کے میدا ن میں لے آیا ہے۔ یہاں وہ جنگ لڑی جارہی ہے جس پر کشمیر کے پینتیس لاکھ مسلمانوں کے علاوہ پاکستان کے آٹھ کرور باشندوں کی زندگی کا دارومدار ہے، یہاں انسانیت اور عالم اسلام کے لیے سب سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف اس خطہ¿ زمین کا مسئلہ نہیں جو جغرافیائی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ جس کی وادیوں میں پاکستان کی زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں بلکہ یہ ایک پوری قوم کی بقاءآزادی اور عزت کا مسئلہ ہے۔ یہ آگ اور خون کے اس ڈرامے کا ایک سین ہے۔ جس کا آخری ایکٹ ماﺅنٹ بیٹن، نہرو اور پٹیل پاکستان کے سٹیج پر کھیلنا چاہہتے ہیں۔ ان حالات میں قوم کے سپاہی کی تلوار اور قوم کے ادیب کے قلم کا راستہ ایک ہے۔ متحدہ قومیت کے مارفیا کا انجکشن دینے والے سیاست دانوں کی جماعت کو اس وقت تھپکیاں دے کر سلایا کرتی تھی جب اُفق پر طوفان کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ لیکن کوکین فروش قلم کے ادیبوں اور شاعروں کی یہ جماعت طوفان کی تباہ کاریوں کے سامنے بھی قوم کی آنکھوں پر پٹی باندھ رہی ہے۔ ان کے سیاسی پیش رواُونگھتے ہوئے مسلمان کو خواب آور گولیاں کھلاتے تھے اور یہ جاگتے ہوئے مسلان کے حلق میں کوکین ٹھونس رہے ہیں۔ ان کے لیے مسلمانوں کی آزادی کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں تھا اور اب ان کے اذہان کی نئی قدروں اور نئے زاویوں میں مسلمانوں کی زندگی اور موت کی کوئی حقیقت نہیں۔ نقالوں کے اس گروہ کو تقسیم سے پہلے بھی مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل سے کوئی سروکر نہ تھا۔ بلکہ ان کا نصب العین ان اخلاقی اور روحانی قدروں کی تخریب تھا جن پر دین اسلام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں ی تباہی اور بربادی کے لیے تمام کفر ایک ہو چکا تھا۔ ظلمت کے طوفان اپنی پوری تندہی اور تیزی کے ساتھ پاکستان کا محاصرہ کر رہے تھے۔ حالات نے مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ بھی ایک ہو جائیں اور ایک بار پھر توحید کے مشعل بلند کر کے اس طوفان کے سامنے کھڑے ہو جائیں لیکن یہ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان جو قوت مدافعت اسلام کے نام پر بیدار ہو گی وہ اپنے حصار کی بنیاد پر بھی اسلام کی روحانی اور اخلاقی قدروں پر رکھے گی اور پاکستان میں ایسے ادیب کے لیے کوئی جگہ نہیںرہے گی جس کا مقصدصنفی انارکی، اخلاقی بے راہ روی اور ذہنی انتشار پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے یہ لوگ نئے عزائم، نئی اُمنگوں اور نئے ولولوں کے ساتھ میدان میں آئے ہیں اور یہ عزائم، یہ اُمنگیں اور ولولے زیادہ تر پاکستان مسلمانوں کی ان لوگوں پر کوکین کی مالش کرنے تک محدود ہیں جن پر فسطائیت اپنی خنجر کی تیزی آزما رہی ہے، تاکہ خنجر اپنا کام کر جائے لیکن مسلمان کو یہ محسوس نہ ہو کہ رگیں کٹ چکی ہیں اور خو ن بہہ رہا ہے۔
ہندوستان کی بربریت کی صفائی پیش کر کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے علاوہ ان حضرات کے سامنے باقی مسائل اہل پاکستان کے پیٹ سے متعلق ہیں۔ کچھ عرصہ سے انہیں پاکستان کے عوام اور مزدو کی غربت اور بدحالی پریشان کر رہی ہے، پاکستان کے عوام مزدور کا مسئلہ یقینا انہیں نہایت اہم ہے اور ہم اسے حل کیے بغیر فلاح و ترقی کی منازل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان کے عوام اور مزدور کا مسئلہ یقینا نہایت اہم ہے اور ہم اسے حل کیے بغیر فلاح و ترقی کی منازل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان کے عوام اور مزدور اپنے ان کرم فرماﺅں سے پوچھتے ہیں۔ ”’ کیا ہمیں ہندوستانی بھیڑیوں سے اپنے بچوں اور اپنی بیٹیوں کی جانیں بچانے کا کائی حق نہیں؟ جب مشرقی پنجاب میں مسلم عوام اور مسلم مزدوروں کا قتل عام ہو رہا تھا، تم کہاں تھے؟ …. آج تمہارے سینوں میں ہمارے پیٹ کی بھوک کا درد اُٹھا ہے لیکن جب اکال سینا اور راشڑیہ سیوک سنگھ کی تلواریں ہماری ماو¿ں، بہنوں ، بیٹیوں اور بچوں کی گردنیں کاٹ رہی تھیں، تمہاری حمیت کہاں گئی تھی؟ تمہاری آنکھوں کے سامنے لاکھوں انسانوں قتل ہوئے، عصمتیں لٹیں،عورتوں کو چھینا گیا اور تم نے انسان کے سب سے بڑے دشمن کی صفائی پیش کرنے کے لیے یہ کہہ کر قصہ ختم کردیا کہ یہ فرقہ وارانہ فساد تھا…. آج ہندوستان کے ہوائی جہاز کشمیر کے مزدوروں پر بم برسا رہے ہیں لیکن تم ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کیا یہ بھی فرقہ وارانہ فساد ہے؟ کشمیر میں ہماری بقا کی جنگ لڑی جار ہی ہے لیکن تم اس سے منہ پھیر کر پاکستان کے اندر طبقاتی جنگ چاہتے ہو۔ کہیں تمہارا مقصد ہماری مشکلات حل کرنے کی بجائے ہمارے دشمنوں کی مشکلات حل کرنا تو نہیں؟
ادیبوں اور شاعروں کا دوسرا گروہ وہ ہے جن کی امنگیں اور ولولے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ابھی تک زلفوں کے پیچ و خم سے آزاد نہیں ہوئے۔ جب انگریز لال قلعہ کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے، دہلی کے شعراءکی محفلوں میں کوچہ¿ جاناں کی بھول بھلیوں کا رونا رویا جا رہا تھا۔ آج مسلمانوں کا انگریز سے کہیں زیادہ خطرناک دشمن پاکستان کو محاصرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ہمارے شعراءکے دم خم وہی ہیں جو پہلے تھے۔
ادیبوں کو وہ طبقہ جو حقائق کے بھیانے چہرے پر تصورات کے حسین پردے نہیں ڈالنا چاہتا، اب اس پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ آج قوم کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر وہ مشرقی پنجاب کے قتل عام کے بعد بھی عبرت حاصل نہ کر سکی تو قدرت کے قانون میں ا س کے لیے رحم کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔
قوم کے ادیب! تیرے سامنے راکھ کے ڈھیر ہیں۔ تیری شعلہ نوائی ان میں بجلیاں پیدا کر سکتی ہے۔ مشرقی پنجاب اور دہلی کے شہیدوں کا خون خاک میں جذب نہ ہونے دینا۔ تو اس کی روشنائی سے وہ تحریر لکھ سکتا ہے ۔ جو قوم کے جوانوں میں نئی زندگی، نئی روح اور نئی تڑپ بیدا کردے۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top