سابق آئی جی سندھ کے حق میں احتجاج، پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی، فکس اٹ کے عالمگیر خان سمیت متعدد کارکنان گرفتار

کراچی پولیس سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر ٹوٹ پڑی، لاٹھی چارج اور شیلنگ، واٹر کینن کا بھی استعمال، فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا۔

کراچی: اے ڈی خواجہ کی برطرفی کے خلاف مظاہرہ کرنے پر فلاحی تنظیم فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان سمیت متعدد کارکنان کو پولیس نے حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا، ایس ایس پی ویسٹ کہتے ہیں ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے، خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو برطرف کرنے کے خلاف فکس اٹ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا۔

پریس کلب پہنچنے پر عالمگیر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک واک کی جائے گی جبکہ پولیس نے فکس اٹ کے بانی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے وہ اپنا مظاہرہ یہی کرلیں۔

فکس اٹ کے بانی نے پولیس افسران سے مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی کال ایک ہفتے قبل دی گئی تھی، اب نہ مذاکرات ہوں گے اور نہ ہی احتجاج مؤخر کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ فکس اٹ بانی کے ساتھ مذاکرات کے لیے پہنچے مگر پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم ہوگیا، پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والے راستوں پر بھاری نفری تعینات کردی۔

بعد ازاں پولیس نے عالمگیر خان سمیت فکس اٹ کے متعدد کارکنان کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا، ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سندھ پولیس سے سیاست کے خاتمے اور پولیس گردی کے خلاف فکس اٹ مہم کی ریلی کے مظاہرین کو واٹر کینن سے دھو ڈالا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا اور فکس اٹ کے عالمگیر خان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اعلیٰ حکام نے واضح کیا تھا کہ فکس اٹ کی ریلی کو کسی صورت وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے نہیں دیا جائے گیا۔

تفصیلات کے مطابق فکس اٹ مہم کی جانب سے پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ریلی کے انعقاد کیلئے فکس اٹ مہم کے عالمگیر خان اور دیگر پریس کلب پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں تعینات تھی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پولیس کو غیر سیاسی کرو سمیت مختلف نعرے درج تھے۔ ریلی نے جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں روکنے کیلئے واٹر کینن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اس موقع پر پولیس نے فکس اٹ مہم کے عالمگیر خان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس سے قبل فکس اٹ مہم کے عالمگیر خان نے پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پولیس گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت ہوتی ہے۔ پولیس میں سیاست کے خاتمے کے حوالے سے ایک ہفتے قبل ریلی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے ملاقات کی دعوت ملی ہے جس میں احتجاج اور ریلی موخر کرنے کی اپیل کی گئی ہے، تاہم ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج ضرور کریں گے، اس کے بعد ملاقات کا فیصلہ کریں گے۔

Scroll To Top