اے قوم۔۔۔۔!! (دوسری قسط)

نسیم حجازی (مرحوم) کا خط آج کے پاکستان کے نام

au-qoum

اے قوم ! ہم بددیانتی اور بے انصافی کا شکار ہوئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری کمزوری اور بے بسی نے ہمیں ان عدالتوں کے فیصلوں کے سامنے سرجھکانے پر مجبور کر دیا جن سے عدل و انصاف کی امید رکھنا ایک خود فریبی تھی۔
ہم نے کفر کا اسلام کا دوست سمجھ کر صدیوں کے تاریخی حقائق کو جھٹلایا تھا۔ ماضی کی تاریخ شاہد ہے کہ غیر اسلامی نظام میں عدل و انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والوں نے ہمیشہ مظلوم کے آنسوو¿ں سے ظالم کے قہقہوں کا سامان مہیا کیا ہے۔ عدل و انصاف صرف ان کے لیے ہے…….. جو بے انصافیوں کے خلاف لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔
اے قوم! تیرے درد کا علاج بین المملکتی کانفرنسوں میں نہیں۔ تیرا دشمن حالات کے مطابق اپنا طریق کار بدلتا رہتا ہے۔ لیکن اس کے مقاصد میں تبدیلی نہیں آتی…….. وہ ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند تھا لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ ماو¿نٹ بیٹن اس کی کشتی میں بیٹھ چکا ہے اور اس کا طریق کار بالآخر تقسیم کے حقیقی مقصد کو فوت کر دے گا تو اس نے تقسیم کا اصول مان لیااور تو خوش ہوگئی کہ تجھے کسی قربانی کے بغیر پاکستان مل گیا ہے۔ دشمن نے اپنے ترکش کا نیا تیر نکالا اور دہلی سے مشرقی پنجاب کے آخری کونے تک قتل و غارت کا طوفان بپا کر دیا اور اس کے ساتھ ریڈ کلف ایوارڈ کا خنجر تیرے سینے میں گھونپ دیا گیا تیرے سپاہی باہر تھے، تیرا اسلحہ ہندوستان میں روک لیا گیا تھا اور تیرے وہ ہاتھ جو مدافعت کے لیے اٹھ سکتے تھے پہلے ہی باندھ دیے گئے تھے۔ ان حالات میں تیرے لیے تاریخ انسانی کے سب سے بڑی بے انصافی اور ظلم کے سامنے سر جھکا دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور پھر تجھے امید تھی کہ ریڈ کلف کا فیصلہ مان لینے کے بعد تیرا دشمن تیری امن پسندی اور نیک نیتی پر خوش ہو جائے گا لیکن یہ ایک اور خود فریبی تھی۔ تو یہ سمجھتی تھی کہ مشرقی پنجاب کا طوفان وہیں رک جائے گالیکن یہ طوفان دہلی میں پہنچ گیا اور پھر امن پسندوں کا ایک گروہ یہ کہہ کر اپنے آپ کوتسلیاں دے رہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کا کوئی امکان نہیں۔ یہ دونوں کے لیے خود کشی کے مترادف ہو گا….لیکن ہندوستان نے دوسرا قدم اٹھایا اور کشمیر پر حملہ کردیا …….. تو دنیا کی رائے عامہ کے سامنے دشمن کے ظلم و استبداد اور اپنی صلح جوئی اور امن پسندی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی کہ ہندوستان کی فوجیں جو نا گڑھ میں داخل ہوگئیں۔
اے قوم! تیرے فرزانےدنیا کی رائے عامہ سے اپیلیں کر رہے تھے ۔ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا تھا۔ لیکن امن عالم کے اجارہ دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ بالآخر تیرے دیوانوں کو ہوش آیا۔ مظلومیت، بے بسی اور مجبوری کی انتہا دیکھنے کے بعد تیری ڈوبتی ہوئی نبضوں میں زندگی کا خون دوڑنے لگا۔تیرے شاہین صفت جوانوں نے تیری پکار سنی، تیرے محمد بن قاسم تیری بیٹیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسوو¿ں کی تاب نہ لا سکے۔ ہندوستان میں سومنات کے نئے پجاریوں نے تیرے فرزندوں میں پھر ایک بار غزنوی کی روح بیدا ر کی …….. اور کشمیر کی وادیوں میں تیرے شیروں کی گرج سنائی دینے لگی۔ تیررے فرزانے ابھی ساحل سے محوتماشا تھے کہ تیرے دیوانے بے خطر دریا میں کود پڑے اور موجوں سے کھیلتے ہوئے منجدھار تک جاپہنچے۔
نہرو کی افواج چھ دن کے اندر اندر مجاہدین کی قوت مدافعت کچل دینے کے عزائم سے میدان میں آئی تھیں لیکن وہ تلواریں جن کی تیزی مشرقی پنجاب میں نہتے اور بے بس انسانوں کی گردن پر آزمائی گئی تھی کشمیر میں کند ثابت ہورہی تھیں۔
پٹیل، نہرو اور بلدیو ہر روز یہ اعلان کرتے تھے ۔ ”شاباش بہادرو! بھارت ماتا کو تم پر فخر ہے“۔ لیکن بھارت ماتا کے قابل فخر بیٹے حیران تھے کہ ان کے سامنے نہتوں کو کیوں نہیں ڈالا گیا۔ ہندوستانی حکومت پاکستان سے شکایت کر رہی تھی کہ اس نے قبائلی اور سرحدی رضاکاروں کو سرحد پر کیوں نہیں روکا۔ کوٹلی میر پور اور اکھنور میں ہندوستانی فوج کے دانت کھٹے ہو چکے تھے۔ اوڑی اور پونچھ کے محاذوں پر ہندوستانی فوج اپنی تعداد اور اسلحہ کی برتری کے باوجود مار کھا رہی تھی۔ مجاہدین کی بے سرو سامان فوج اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلحہ چھین چکی تھی۔ اقبالؒ کی روح کشمیر کی وادیوں اور پہاڑیوں میں غازیوں کا خیر مقدم کر رہی تھی اور ہندوستان کے مہاجن بھی کھاتے کھول کر اپنے نقصانات کا اندازہ لگا رہے تھے۔
سرحدی عقاب جموں سے صرف چند میل دور تھے کشمیر میں طار ق اور خالد پھر ایک بار اپنے اسلاف کی روایات زندہ کر رہے تھے۔ اب سنگینوں کے جواب میں احتجاج کی بجائے تلواریں تھیں۔ اب ہندوستان یو -این- او کے سامنے فریاد کر رہا تھا۔
جب پاکستان کہتا تھا کہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی عدالت کو سونپ دیا جائے تو ہندوستان پاکستان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار نہ تھا لیکن اب وہ سات سمندر پار جا کر یو-این – او کے سامنے فریاد کررہا تھا….بھیڑیے کو یہ شکایت تھی کہ اسے مشرقی پنجاب، دہلی اور جونا گڑھ کی طرح کشمیر میں بھی بھارت ماتا کی آزادی کاجشن منانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی…. …. بھیڑیوں کا نمائندہ امن عالم کے اجارہ داروں سے اپیل کر رہا تھا کہ تم پاکستان کو حکم دو کہ وہ آزاد کشمیر کی فوج کو ہماری شکار گاہ سے نکال دے۔ تم کشمیر کے پینتیس لاکھ مسلمانوں کو جکڑ کر ہمارے سامنے ڈال دو اور پھر ہمارے ہاتھ دیکھو۔
آج کشمیر کا مسئلہ سکیورٹی کونسل کے سامنے ہے۔ پاکستان کی وکالت اس کے بہترین دماغ کر رہے ہیں۔ ہندوستان دنیا کی رائے عامہ کے سامنے ننگا کھڑاہے۔ لیکن ہمیں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ، یو -این- او میں امن عالم کے اجارہ دار ہمارے ساتھ اسی صورت میں انصاف کریں گے جب کہ ہم میں بے انصافیوں کے خلاف لڑنے کی ہمت اور طاقت ہو گی۔ آج اگر یو -این-او ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی آواز بھی سن جارہی ہے، تو ہمیں ان مجاہدین کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دنیا کے سامنے کشمیر کے مسئلے کی اہمیت واضح کر دی ہے، جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہندوستان جو بین الاقوامی دھڑے بندیوں کے باعث جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک کی راہنمائی کا خواب دیکھ رہا تھا، کشمیر کی دلدل میں پھنس چکا ہے …….. لیکن ابھی کشمیر کی جنگ ختم نہیں ہوئی اور ہمیں اس خود فریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان نے کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بین الاقوامی انجمن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ہندوستان نے مجبوری کی حالت میں فقط اپنا طریق کار بدلاہے۔ گذشتہ نقصانات کے بعد اسے کشمیر پر فیصلہ کن حملے کے لیے تیاری کی ضرورت تھی …. کشمیر کی برف باری اور سردی نے اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹھنڈے کر دیئے تھے۔
سردیوں میں ہندوستانی فوج سامان رسد اور بارود کے ذخیرے جمع کر رہی تھی۔ نئے پل اور نئی سڑکیں تعمیر کر رہی تھی اور موسم بہا ر کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستان اپنی پوری طاقت کے ساتھ نیا حملہ کر چکا ہے۔ جونا گڑھ کو ہڑپ کرنے کے بعد اسے یقین ہو چکا ہے کہ امن عالم کے اجارہ دار ان فیصلوں کو رد نہیں کر سکتے جو طاقت کے بل بوتے پر منوائے جاتے ہیں۔
پاکستان کو بالآخر کشمیر کی جنگ میں کودنا پڑے گا۔ مجاہدین کشمیر تیاری کے لیے جو تھوڑا بہت موقع دے رہے ہیں، پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی مظلومیت اور بے بسی کا ڈھنڈوراپیٹ کر یو -این-او کو کشمیر کے معاملہ میں عملی مداخلت پر مجبور کر دیں گے انہیں فلسطین سے سبق حاصل کرنا چاہیے….فلسطین میں امن عالم کے اجارہ داروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمزور اقوام کو ان سے عدل یا انصاف یا رحم کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے…. عرب ممالک فلسطین پر یہود کی یلغار کے سامنے مضبوط محاذ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیکورٹی کونسل نے بھی تقسیم فلسطین کی حمایت کی….اینگلو امریکن بلاک کی یہود نوازی کے بعد دنیا کا خیال تھا کہ روس اس ناانصافی کی مخالفت کرے گا لیکن یہ پہلا فیصلہ تھا کہ جس پر کمیونسٹ اور سرمایہ دار دونوں متفق تھے۔ ایک اجنبی قوم کو مسلمانوں کے گھروں میں لا کر بٹھا دیا گیا۔
فلسطین کے مسلمانوں کا جرم یہ نہ تھا کہ ان کی منطق کمزور تھی، جرم یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت نہ کر سکے۔ ان کے پاس وہ تلوار نہ تھی جو غیر منصفانہ فیصلے کو رد کر سکتی۔
حالات اب پاکستان کو مفروضات کی دنیا میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کشمیر پر ہندوستان کے نئے حملے کی شدت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسے بھی جونا گڑھ کی طرح ایک فیصلہ شدہ امر بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے….اور تلوار کا فیصلہ منطق سے نہیں ، صرف تلوار سے ردّ کیا جاسکتا ہے…. مجاہدین نے اپنی بے سرو سامانی کے باوجود جس عزم و استقلال کا ثبوت دیا ہے، اس کی مثالیں تاریخ میں بہت ہی کم ملتی ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے۔ یہ صرف کشمیر کے پینتیس لاکھ مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کی بقاءکا مسئلہ ہے۔ یہ ہندوستان کے برصغیر میں کفر اور اسلام کا آخری معرکہ ہے۔ اس اجتماعی جنگ کی ذمہ داری صرف کشمیر کے مٹھی بھر بے سرو سامان مجاہدین پر نہیں ڈالی جا سکتی ہے۔ ہمیں مجاہدوں کے بازو شل ہوجانے اور ان کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک بہہ جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کی رائفلیںایک لا متناعی عرصہ تک دشمن کے ٹینکوں اور طیاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں…. کشمیر پاکستان کی بیرونی فصیل ہے، اگر دشمن کی یلغار کو وہاں نہ روکا گیا تو وہ کشمیر کو ختم کرنے کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
ہندوستان نے دہلی اور مشرقی پنجاب کے لاکھوں مسلمانوں کو ملک بدر کیا۔ تو وہ مغربی پاکستان آگئے۔ بہار اور مغربی بنگال کے مسلمان مشرقی پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں۔ ہندوستان نے جونا گڑھ پر چڑھائی کی تو وہاں سے مسلمانوں کے قافلے کراچی اور سندھ پہنچنے لگے۔ کشمیر میں ہندوستانی فوج داخل ہوئی تو کشمیر ی مہاجرین کے لیے مغربی پنجاب اور صوبہ سرحد میں کیمپ کھل گئے….پاکستان مہاجرین کی جائے پناہ ہے، پاکستان انصار کا قلعہ ہے۔ پاکستان وہ ساحل ہے جہاں ہم خون کے دریا عبور کرنے کے بعد پہنچے ہیں۔ پاکستان وہ منزل ہے جس کے راستوں کی کھائیاں ہم نے اپنی لاشوں سے پاٹی ہیں…. پاکستان وہ درخت ہے جسے ہم نے اپنی خون اور آنسوو¿ں سے سینچا ہے….پاکستان وہ چار دیواری ہے جس کے اندر قوم کی منتشر قوتیں جمع ہو رہی ہیں اور پاکستان کے انصار و مہاجرین کے لیے یہ سوچنے کے لیے بہت تھوڑا وقت ہے کہ اگر وہ کفر کے سیلاب کو اس چار دیواری سے دور نہ رکھ سکے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔
اب تلخ حقائق پر تصورات کے حسین پردے ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اب قوم کا دل بہلانے کے لیے لیڈروں کا یہ نعرہ کافی نہٰں کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست قائم کی ہے، بلکہ اب انہیں قوم کی آنکھیں کھولنی چاہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کا سامنا کر رہی ہے، یہ قوم کی میراث ہے، جس کے اسلاف نے آٹھ صدیاں پشاور سے لے کر راس کمار ی تک اپنی سطوت اور اقبال کے پرچم لہرائے ہیں۔ …. یہ دور زوال کی دو صدیوں میں رجعت قہقری کے بعد ہمارا آخری دفاعی مورچہ ہے…. یہ ہماری اُجڑی ہوئی محفل کا آخری چراغ ہے…. یہ ہمارے خزاں رسیدہ چمن کا آخری درخت ہے….اور اب دشمن اس درخت کی جڑیں کاٹنے اور چراغ کو بجھانے کی فکر میں ہے…. ہم اپنی تاریخ کے بھیانک ترین حوادث کا سامنا کر رہے ہیں اور ان حوادث کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم اپنی تمام قوتیں اور صلاحتیں دفاع پر مرکوز کردیں۔ پاکستان کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کو اپنی بقاءکی جنگ میں ایک متحدہ محاذ پر لانے کے لیے وہ تمام خامیاں دور کرنی پڑیں گے جو غریب کو امیر سے دور رکھتی ہیں۔ جو محنت کش اور سرمایہ دار کی متحدہ مساعی میں یا مانع ہیں۔ مر مریں ایوانوں اور جھونپڑوں میں رہنے والوں کو ایک ہی خندق اور مورچے میں کھڑا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان طبقاتی اختلافات کو دُور کریں جو اقتصادی وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے باعث پیدا ہو چکے ہیں۔
اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے پیچھے ہٹنا ہمارے لیے تباہ کن ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم محاصرے کی صورت میں ہیں اور اگردشمن کو کشمیر پر قابض ہونے کی اجازت دی گئی تو یہ گھیرا ور تنگ ہوجائے گا۔ جو قوم اپنے مورچے میں بیٹھ کر مدافعانہ طریق کار پر عمل کرتی ہے اور آگے بڑھ کر دشمن کے جارحانہ اقدام کو نہیں روکتی ہمیشہ نقصان اٹھاتی ہے۔ جنگ میں صرف دشمن کا وار روکنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی ہر ضرب کے جواب میں ضرب لگائی جاتی ہے۔
ہندوکانگرس کے ساتھ بقاءکی جنگ میں گذشتہ چند بر س سے ہمارا طریق کار یہ تھا کہ وہ ہر بار موقع ملنے پر وار کرتا رہا اور ہم روکنے پر اکتفا کرتے رہے۔ ہمارے اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان ہماری پیش قدمی کا نقطہ¿ آغاز بننے کی بجائے ہماری پسپائی کا آخری نقطہ بن گیا…. صلح اور امن کی خاطر ہم اتنا کچھ کھو کر بھی ہندوں کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کر سکے، اور اب گزشتہ تجربات کے باوجود بھی اگر ہم خوش فہمیوں اور غلط اندیشیوں کا شکار ہوئے تو ہماری حالت ان لوگوں سے مختلف نہ ہوگی جو دن کی روشنی میں آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں ، اور اب ہمیں اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ہندو اپنے ترکش سے نیا تیر نکال لے۔ بلکہ ہمیں اپنے ترکش کے تیروں کا جائزہ لینا چاہیے۔

Scroll To Top