جناب آصف علی زرداری کے لئے خطرے کی گھنٹی

kuch-khabroun-ke-bary-me-web

میرے لئے آج کی دو خبریں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ سندھ حکومت یعنی پی پی پی کی اعلیٰ ترین لیڈر شپ انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ سے ایک عرصے سے ناخوش ہے۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ آئی جی صاحب زرداری صاحب کی منشاءپر اپنے فرائض کو فوقیت دے رہے ہیں۔ دو مرتبہ پہلے بھی کوشش کی جاچکی ہے کہ اِن آئی جی صاحب سے جان چھڑالی جائے لیکن بات نہیں بن سکی۔ اب بات خواجہ صاحب کی خدمات واپس وفاقی حکومت کو دینے تک جا پہنچی ہے۔ اس ضمن میں سندھ حکومت نے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔اب زرداری صاحب کا من پسند آئی جی ذمہ داریاں سنبھال لے گا۔
لیکن دوسری خبر زرداری صاحب کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے سابقہ دست ِ راست اور بعد میں بغاوت کرنے والے عزیر بلوچ کے بارے میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ عزیر بلوچ بھارت اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے بھی کام کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں حساس اداروں کو ناقابلِ تردید ثبوت بھی مل گئے ہیں۔ اِن ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ عزیر بلوچ پر مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے۔
اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اس سارے گورکھ دھندے کا کوئی نہ کوئی تعلق کلبھوشن یادیو سے بھی ہو ۔
یہ بات کوئی راز نہیں کہ عزیربلوچ اپنے اعترافی بیانات میں کہہ چکا ہے کہ بہت سارے جرائم اس نے زرداری صاحب کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے کئے۔
جب مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا تو کیاکیا انکشافات ہوں گے؟

Scroll To Top