تھر میں ہونیوالی مسلسل ہلاکتیں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

تھر میں بدستورموت کا رقص جاری ہے۔ گذشتہ روز سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے سبب ایک خاتون اور بچی نے دم توڈ دیا چنانچہ اب قحط سالی سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو چھیاسٹھ سے تجاوز کرچکی ۔ معاملہ کا یہ پہلو تشویشناک ہے کہ ملکی وعالمی میڈیا کی جانب سے تھر میں ہونیوالی ہلاکتوں پر صوبائی حکومت کی بھرپور تنقید کے باوجود پی پی پی قیادت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ اب تک ایسے ٹھوس اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے جو تھر کے رہنے والوں میں یہ امید بیدار کردےں کہ آنے والے ماہ و سال میں تھر میں بھوک سے مرنے کے واقعات خاطر خواہ کم ہوجائینگے۔ سید قائم علی شاہ جس انداز میں جاری بحران سے نمٹ رہے ہیں اس نے ان اندیشوں کو بڑھا دیا ہے کہ وزیراعلی تھر میں مرنے والوں کو ہرگز اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ چند ہفتے قبل ہی وزیراعلی سندھ کا یہ بیان قومی اخبار کی زینت بن چکا کہ تھر میں قیام پاکستان سے قبل بھی قحط سے ہلاکتیں ہوتی رہیں چنانچہ حالیہ ” بحران” خالصتا میڈیا کا پیدا کردہ ہے جو ضرورت سے زیادہ آزاد ہوچکا ۔
ادھر سابق صدرآصف علی زرداری پنجاب کے دورے پر ہیں۔ پی پی پی کے شریک چیرمین یوم تاسیس پر لاہور میں متاثر کن اجتماع پیش کرنے پر ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کو ہدف تنقید بناتے رہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے کرتا دھرتا تاحا ل یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ تھر میں مسلسل ہونے والی ہلاکتیں پی پی پی کی مقبولیت کو شدید متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ سابق صدر زرادی کا پنجاب میں پارٹی متحرک کرنے کا فیصلہ خوش آئند مگر مطالبہیہ ہے کہ سندھ میں بہترین حکمرانی کا مظاہرہ کرکے پی پی پی شریک چیئرمین کوذہانت اور اخلاص کا مظاہرہ کرنے کا موقعہ ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہے۔

Scroll To Top