مقبوضہ وادی میں بھارتی پولیس کا اعتراف شکست !

مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کشمیر کی شکل میں بھارت یقینا مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی ظلم وستم کسی طور پر کشمیری حریت پسندوں کو ان کی جدوجہد سے باز نہیں رکھ پا رہا۔آج چانکیہ سیاست کے پیروکار لالچ اور خوف دونوں سے کام لے رہے۔ سچ یہی ہے کہ وادی میں اندھا دھند طاقت کا استمال بھی حالات کو پرامن رکھنے میں معاون ثابت نہیںہورہا۔ بھارتی حکومت کا ہر زمہ دار ماضی کی حالات کی سنگینی کا زمہ دار پاکستان کو قرار دے رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کی جاری جدوجہد تمام تر الزام تراشیوں کے باوجود مسلسل آگے بڑھ رہی۔
ادھر مقبوضہ کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان جو وادیِ کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور حریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے مقام پر پہنچ کر سکیورٹی فورسز پر پتھرا کرتے ہیں وہ دراصل خود کشی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ڈی جی پی شیش پال وید نے کشمیری نوجوانوں سے ایسا نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ‘اینکانٹر کے دوران سکیورٹی فورسز بھی گولیوں سے بچنے کے لیے گھروں یا بلٹ پروف گاڑیوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں لہذا ان حالات میں نوجوانوں کا وہاں پہنچنا دراصل خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ پولیس کے سربراہ نے حریت رہنماوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسی قوتیں ہیں جو وادی میں امن نہیں چاہتیں بعقول ان کے سیاسی مفاد کے لیے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“
بادی النظر میں یہ بیان دے کر مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی پولیس کا سربراہ عملی طور پر ان بے باک اور بے خوف نہتے کشمیری نوجوانوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف کررہا جو بھارتی بندوقوں سے خوف زدہ ہونے کو تیار نہیں۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ جب کسی قوم میں بندوق کا خوف جاتا رہا تب منزل اس سے زیادہ دور نہ رہی۔
مقبوضہ وادی میں جاری تحریک آزادی آج نئے دور میں داخل ہوچکی۔ حریت پسند سوشل میڈیا کے زریعہ بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے ساتھ اسے رجحان کو اپنی کامیابیوں کی تشہیر کے لیے بھی استمال میں لارہے ۔بتایا جاتا ہے کہ جب بھی کسی علاقے میںحریت پسندوں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑ پ ہوئی بعقول وادی کے پولیس سربراہ کے تقریبا تین سو وٹس ایپ گروپس حرکت میں آگے ، یعنی فیس بک پر بھی کشمیری نوجوانوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ کہاں کہاں پر بھارتی فوج مظالم ڈھا رہی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارتی پولیس سربراہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو گہرائی میں جاکر سمجھنے کی بجائے اسے جذباتی پن کا نام دے رہے ۔(ڈیک) بھارتی فوج دانستہ حقائق سے نظریں چرا رہی۔ بھارتی پالیسی ساز تسلیم کریں یا نہ کریں مگر حقیقت یہی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر اپنی منزل کی جانب مسلسل بڑھ رہی۔ آج کشمیری نوجوانوں کے پاس اسحلہ تو نہیں مگر وہ اپنے جذبہ حریت کو ہتھیار بنا کر ہندو انتہاپسندی کے سامنے سینہ سپر ہیں۔(ڈیک)
دراصل یہ کشمیری نوجوانوں کا جذبہ ہی ہے کہ جہاں جہاں سیکورٹی فورسز کی جھڑپ ہوتی ہے وہاں وہاں کشمیری نوجوان پہنچ کر بھارتی سپاہیوں پر پر پتھراو شروع کر دیتے ہیں۔بات سو فیصد درست ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت کشیدگی نہیں چاہتی ان کا مطالبہ محض اتینا ہے کہ بھارت انھیں حق خود اردیت دے کر اپنا وہ وعدہ وفا کرے جو اس نے کئی دہائیوں قبل کیا ۔ مقبوضہ وادی کے لوگ پرامن ہیں مگر دنیا کی کسی بھی مہذب قوم کی طرح اس بات کی اجازت دینے کو تیار نہیں کہ انھیں غلام بنا رکھا جائے۔
زیادہ دن نہیں گزرے جب چاڑورہ قصبے میں مسلح تصادم کے دوران کشمیریوں نے حریت پسندوں کو ‘بچانے’ کی کوشش کی جس کے دوران بھارتی فوج کی کی فائرنگ سے تین نوجوان شہید ہو گئے جبکہ 14 دیگر چھروں اور گولیوں سے زخمی ہوئے ۔
یہ نقطہ نظر بڑی حد تک درست ہے کہ گذشتہ برس جولائی میں نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت نے وادی میں جس غم وغصہ کو پروان چڑھایا تاحال اس میں کمی واقعہ نہیں ہورہی۔ کشمیری قوم مسلسل سراپا احتجاج ہے اور یہ احتجاج مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلارہا۔ ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ جب حریت پسند اور بھارتی فوج آمنے سامنے آرہی کشمیری نوجوان احتجاج کرتے آموجود ہوتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ مسلح تصادموں کے دوران حریت پسندوں کو بچانے کے لیے کشمیری عوام کی جانب سے احتجاج کرنے کا رجحان بڑھ گیا ۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی بھی کشمیری عوام سے اپیل کرتی نظر آتی ہیں کہ جہاں جہاں تصادم ہو وہاں عوام کسی صورت احتجاج نہ کریں۔ “
گماں یہی ہے کہ حریت پسندوں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران کشمیریوں کا احتجاج بھارت کے لیے درد سر بن چکا ۔ گماں یہی ہے کہ بھارت کی تمام تر دھونس کے باوجود بھارتی فوج سے نبرد آزما نوجوانوں کو تحفظ دینے کے لیے کشمیری قوم خود اپنے خون کا نذارنہ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک بھارت کے سوچنے سمجھنے والے حلقہ بڑی حد تک اس بات پر قائل ہوچکے کہ مقبوضہ وادی میں جاری تحریک آزادی کو بیرونی طور پر کوئی مدد نہیں دی جارہی بلکہ یہ خود کشمیری ہی ہیں جو اب بھارت کے ساتھ کسی بھی قیمت پر رہنے کو تیار نہیں۔

Scroll To Top