مسیحائی کی برکات سے جگمگاتا چہرہ کب سامنے آئے گا ؟ 07-01-2011

آج پھر میرا جی وہی مانوس مقبول اور معروف جملہ دہرانے کوچاہ رہا ہے جو تقریباً چھ دہائیوں سے پاکستان کے حالات کی بڑی دیانت دارانہ عکاسی کرتارہا ہے۔
بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے کے ساتھ جو دوسرا جملہ منطقی طور پر نتھی ہوتا رہا ہے اسے بھی دہرا دیا جائے تو بہتر ہوگا۔
جملہ نمبر ایک : پاکستان جتنے بڑے بحرانی دور سے آج گزررہا ہے پہلے کبھی نہیں گزرا۔
جملہ نمبر دو: پاکستان کو ایک نہایت سنگین اورحوصلہ شکن بحران سے نکالنے کے لئے ایک مسیحا اور نجات دہندہ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔
آج کا پاکستان جس خوفناک بحران میں تقریباً گردن تک ڈوبا ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت سے محروم ہونے کے بعد حکومت کرتے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں رہا اور آئینی جواز رکھنے کے لئے اسے ایسے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے جنہیں منظور کرنے کے بعد اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز بالکل ہی ختم ہوجائے گا۔ سنگین نوعیت کی کرپشن اور بدعملی اور بداعمالی پر مبنی حکمرانی کے جن افسوسناک الزامات نے حکومت کو موجودہ بحران تک پہنچایا ہے اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی ” احتساب اور سزا“ کا عمل اپنے منطقی نتیجے پر پہنچ رہا ہوتا تو شاید صورتحال اتنی تاریک نہ ہوتی جتنی نظر آرہی ہے۔ اس ضمن میں سابق وفاقی وزیراعظم سواتی کا یہ انکشاف خاصا حوصلہ شکن ہے کہ حج سیکنڈل میں ہونے والی ہمالیائی حجم کی کرپشن کے تانے بانے وزیراعظم صاحب کے اپنے گھر سے جاملتے ہیں۔جہاں تک مسیحا اور نجات دہندہ کی ضرورت کا تعلق ہے تو بابائے قوم کی رحلت کے بعد اس قوم کی زندگی کا بیشتر حصہ کسی ایسے بطل جلیل اور رجل عظیم کے انتظار میں ہی گزرا ہے جسے قدرت نے ”مسیحائی خصوصیات“ کے ساتھ پید کیا ہو۔
اس انتظار کے نتیجے میں کبھی جنرل ایوب خان کا چہرہ سامنے آیا تو کبھی جنرل یحییٰ خان کا `کبھی مسٹر زیڈ اے بھٹو کا تو کبھی جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کا ۔مگر ” مسیحائی کا فیض “ قوم کو ہنوز نصیب نہیں ہوا۔
شاید اس بار جو چہرہ سامنے آئے وہ سچ مچ مسیحائی کی برکات سے جگمگا رہا ہو !
امید کا دامن بہرحال ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔

Scroll To Top