اسلام بمقابل اسلام 05-07-2014

مسلمانانِ عالم کے لئے یہ صورتحال ایک بڑے المیے سے کم نہیں کہ دنیا کے جن خطوں میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے ان میںزیادہ تر گولیاں کھانے والے بھی مسلمان ہیں اور گولیاں مارنے والے بھی مسلمان ہیں۔دلچسپی اور ستم ظریفی کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کوئی بھی مثال ایسی نہیں کہ ایک مسلمان ملک نے دوسرے مسلمان ملک پر باقاعدہ حملہ کررکھا ہو ` جہاں جہاں بھی اور جتنی بھی خونریزی ہورہی ہے اندرونی طور پر ہورہی ہے۔ یعنی ایک ہی ریاست یا مملکت میں مسلمانوں کا ایک گروہ مسلمانوں کے دوسرے گروہ کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ عرف عام میں اس صورتحال کو خانہ جنگی کا نام دیا جاتا ہے۔زیادہ تر یہ خانہ جنگی مختلف گروہوں کے درمیان نسلی فکری یا مسلکی بنیادوں پر ہورہی ہے لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں ریاستی قوت ایسے عناصر کے خلاف برسرپیکار ہے جنہوں نے مختلف وجوہ کی بناءپر ریاستی رٹ کو اپنی خون آشامی کے نشانے پر لے رکھا ہے۔ اس نوعیت کی سب سے بڑی اور اہم مثال پاکستان کی ہے جہاں ریاستی طاقت ایسے عناصر کے ساتھ برسرپیکار ہے جن کے مقاصد میں سرفہرست وطنِ عزیز کی بنیادیں ہلانا اور اسے عدم استحکام اور عدم تحفظ کی گہرائیوں کی طرف دھکیلنا ہے۔ دہشت گردی اِن عناصر کا نصب العین نہیں ` بلکہ اِن کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ اس ملک کے وجود کے سامنے ایک خوفناک سوالیہ نشان کھڑا کر دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے حالات کو خانہ جنگی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ بنیادی طور پر یہ ایک جارحانہ حملہ ہے جو ہمارے ریاستی وجود پر کیا گیا ہے اور اس جنگ میں جو حملہ آور پاک فوج کے ساتھ بالخصوص اور پوری قوم کے ساتھ بالعموم برسرپیکا ر نظر آرہے ہیں وہ بظاہر ہماری اپنی سرزمین کے فرزند نظر آتے ہیں مگر درحقیقت جن کی تربیت اسلحہ بندی اور کمان سرحد پار سے ہورہی ہے۔ وطن ِ عزیز کا سیکولر حلقہ اس ضمن میں یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ فساد کی اصل جڑ ” اسلامی انتہا پسندی“ اور اس انتہا پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والی وہ عسکریت پسندی ہے جس کے تانے بانے ایک ” اسلامی خلافت“ کے قیام کے خواب سے جاملتے ہیں۔ اگرچہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گرد تنظیموں میں ایسے عناصر بھی موجود ہوں جو ” حبِ اسلام “ میں تباہی و بربادی کا راستہ اختیار کرچکے ہوں۔ بالکل اسی طرح جس طرح اوائل اسلام میں خوا رج نے خانہ جنگی کا راستہ اختیار کیا تھا۔۔۔مگر بنیادی طور پر یہ عناصر بھی اُن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو اسلام کو اسلام سے لڑا کر ایک طرف پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کا راستہ روکنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی مملکت کے محفوظ اور مستحکم ہونے کے بارے میں خطرناک نوعیت کے سوالات اٹھانا چاہتی ہیں۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ صہیونیت نواز مغرب کی تمام تر حکمت عملیوں کا بنیادی مقصد ایک صدی سے اسلام کے ممکنہ سیاسی احیاءکے خلاف بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ یہ موضوع بڑی جامع بحث اور تفصیلات میں جانے کا متقاضی ہے مگر یہاں میں سفرِ تاریخ کے چار ایسے مقامات کا ذکر کرنا کافی سمجھتا ہوں جہاں اور جب ” اسلام کا راستہ “ روکنے کے لئے بڑے دور رس اقدامات کئے گئے۔
آغاز یہاں میں گزشتہ صدی کے اوائل میں کی جانے والی ان حدبندیوں کا کروں گا جن کے تحت عثمانی کنٹرول سے نکلنے والے مشرق وسطیٰ کو ایسی مملکتوں میں تقسیم کردیا گیا جنہیں اپنی پسند کے حکمرانوں کے ذریعے پوری طرح ” قابو “ میں رکھا جاسکتا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ کے سیکرٹری بالفور کی نگرانی میں امریکی حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ کی جانے والی اس تقسیم یا بندر بانٹ نے سعودی عرب ` عراق ` اردن اور شام کی مطلق العنان حکمرانیوں کو جنم دیا۔ تقسیم کے اس عمل کے ساتھ ہی بالفور ڈیکلریشن کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی پشت میںاسرائیل کا خنجر گھونپ دیا گیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب آزادی اور خود مختاری کی رو چلی تو عالمِ اسلام کے ہر خطے میں مغرب کی خوشنودی کو آئین کا درجہ دینے والے حکمران اپنی مطلق العنان عملداریاںقائم کرچکے تھے۔ اس عمومی منظر نامے میں دراڑیں پہلے مصر میں جمال عبدالناصر کے انقلاب اور پھر عراق میں شاہ فیصل اور نوری السعید کا تختہ الٹے جانے سے پڑیں۔
مغرب بہرحال اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب ہوتا نظر آیا کہ اسلام کے ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کا جو امکان 1928ءمیں اخوان المسلمین کے قیام اور حسن البنیٰ کے ظہور سے پیدا ہوا تھا وہ کہیں بھی مضبوطی سے جڑیں نہ پکڑ سکے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب میں ایک طاقتور بادشاہت اور مصر میں ایک شخصی نظام کی موجودگی میں ”اسلام “ کے ایک مضبوط ” سیاسی متبادل“ کے طور پر ابھرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام نے اس دور میں اشتراکیت کے چیلنج کو بالآخر کچل دیا اور اس کے لئے جو سردجنگ لڑی گئی اس میں ” مغربی جمہوریت “ کو تمام انسانی معاشروں میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور بیماریوں کا تیربہدف علاج ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ مغرب کا خیال تھا کہ جس طرح ” جمہوریت “ کے تصور نے اشتراکیت کو ناک آﺅٹ کیا اسی طرح اس کے مقابلے میں ” اسلام “ بھی نہیں ٹھہر سکے گا ۔ یہ خیال الجزائر کے 1991ءمیں ہونے والے انتخابات میں ایک بڑے امتحان سے گزرا۔
آزادی کے بعد الجزائر کے عوام پہلی بار ایک ایسے انتخابی عمل میں ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے جس میں بہت ساری سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی تھیں۔ ان جماعتوں میں الجزائر کی جنگ آزادی جیتنے والی ایف ایل این بھی تھی جو اس وقت حکومت میں تھی اور جس کا رحجان سیکولرزم کی طرف تھا۔ ایف ایل این کی قیادت شازلی بن جدید کررہے تھے۔ ایک جماعت جنگ آزادی کے ایک اور ہیرو حسین ایت احمد کی سربراہی میں حصہ لے رہی تھی جس کا نام سوشلسٹ فورسز فرنٹ تھا۔
مگر انتخابات کے پہلے ہی مرحلے میں ان دونوں جماعتوں کا صفایا ہوگیا۔ عبدالقادر حقانی کی قیادت میں اسلام نافذ کرنے کا ایجنڈا رکھنے والے جماعت اسلامی سالویشن فرنٹ نے 231نشستوں میں سے 188نشستیں حاصل کرلیں۔ ایف ایل این کو پندرہ اور ایس ایف ایف کو 25نشستیں ملیں۔ دوسرے مرحلے میں 199نشستوں کا انتخاب ہونا تھا۔ ایوان میں واضح برتری حاصل کرنے کے لئے اسلامی سالویشن فرنٹ کو مزید صرف 28نشستوں کی ضرورت تھی۔
ان نتائج نے مغرب کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا ۔الجزائری فوج کو اشارہ دے دیا گیا کہ وہ انتخابی عمل کے مکمل ہونے سے پہلے ہی حرکت میں آجائے۔یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ جتنا انتخابی عمل مکمل ہو پایا اس میں ” اسلام “ کو 3260222ووٹ ملے۔ جنگ آزادی جیتنے والی ایف ایل این کو 1612947اور سوشلسٹ فورسز فرنٹ کو 510661ووٹ مل سکے جس کا مطلب یہ تھا کہ عوام بڑی بھاری اکثریت میں اسلام کا نفاذ چاہتے تھے۔
جمہوریت کی سربلندی کے لئے دوسرا بڑا تجربہ مغرب نے فلسطین میں کرا کے دیکھا۔ وہاں بھی اسلام پسند جماعت حماص نے یاسر عرفات کی جماعت کو ایک تاریخی شکست سے دوچار کیا۔
جمہوریت کو سربلند کرنے کی مہم میں مغرب نے تیسرا تجربہ حال ہی میں مصر کے اندر کیا۔ مغرب کے تمام تجزیہ کاروں کے اندازوں کے برعکس اخوان المسلمین نے یہاں بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کا منشور بھی اسلامی ہی تھا۔
اب یہ بات مغرب پر پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی سیکولرزم اوراسلام کے درمیان انتخاب کرنے کے لئے کہا جائے گا وہ اپنا فیصلہ اسلام کے حق میں ہی دیں گے۔
چنانچہ اب مغرب نے اسلام کو روکنے کے لئے جمہوریت کا آپشن استعمال کرنا بند کردیا ہے۔ اب مغرب کی رائے میں اسلام کو اسلام کے خلاف صف آراءکرکے ہی اسلام کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔
لیبیا ` شام اور عراق میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مغرب کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
اس حکمت عملی کو اختیار کرنے کی طرف مغرب نے پہلا قدم ” دہشت گردی “کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز کرکے اٹھایا جس کی لپیٹ میں آج کی تقریباً آدھی مسلم دنیا آچکی ہے۔ پاکستان بدقسمتی سے اس خوفناک جنگ کو بائی پاس نہیں کرسکا ۔ پاکستان کو اس جنگ کا ایک اہم حصہ بنایا جاچکا ہے اس صورتحال کے اسباب میں جانا میرا مقصد نہیں۔ میں صرف اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ اگرچہ یہ جنگ ہم نے اپنی سلامتی اور بقاءکے لئے ہی لڑنی اور جیتنی ہے ` ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی ہوگی کہ یہ جنگ ہم پر ہمارے تاریخی دشمنوں نے ایک خوفناک منصوبے کے تحت تھوپی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس جنگ میں فتح مند ہونے کے لئے ہمیں ایک طرف دہشت گردی کا ہتھیار اپنے دشمنوں کے ہاتھوں سے چھینناہوگا اور دوسری طرف اُن مذموم مقاصد کو بھی ناکام بنا نا ہوگا جن کی تکمیل کے لئے ہمارے دشمنوں نے یہ سارا سکرپٹ لکھا ہے۔
ہمارے دشمنوں کا خیال ہے کہ ” اسلام بمقابل اسلام “ کے منظرنامے کے ذریعے اسلام کے سیاسی احیا کا راستہ روکا جاسکے گا۔ مگراہل پاکستان مغرب کے اس خواب کو خاک میں ملادیں گے۔
مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خون بہنے کا سب سے زیادہ المناک منظر نامہ شام اورعراق پیش کررہا ہے۔ نائن الیون سے پہلے اس خطے میں مکمل استحکام تھا۔ اور یہ صورتحال مغرب کے اُن حکمت ساز منصوبہ بندوں کو قبول نہیں تھی جو ا سلام کے سیاسی احیاءکے تمام امکانات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معدوم کر ڈالنے کے خواہشمند تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بین الاقوامی رائے عامہ کشمیر فلسطین اور چیچنیا جیسے مقبوضہ علاقوں میں جاری مزاحمت کی تحریکوں کو آزادی کی جدوجہد کے طور پر تسلیم کررہی تھی۔ نائن الیون نے سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ دنیا بھر میں اسلام کو دہشت گردی کی علامت بنا دیا گیا۔ جہاں جہاں بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں وہاں سامراجیت کے خلاف مزاحمت کرنے والے حریت پسند دہشت گرد قرار پانے لگے۔
آج کی دنیا کا نقشہ آپ کے سامنے ہے۔ شام اور عراق میں ہونے والی خونریزی رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے۔ اب اِس خانہ جنگی نے اسلام کے دو بڑے فرقوں کے درمیان تصادم کی صورت اختیار کرلی ہے۔ صرف شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار نہیں بہت سارے سنی دھڑے بھی باہمی جنگ و جدل میں مصروف نظرآتے ہیں۔
یقینی طور پر یہ صورتحال اسلام کے مستقبل کے لئے بے حد تشویش ناک ہے۔ مگر اِس خوفناک منظر نامے کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ مغرب نے ” اسلام“ کے ہاتھ میں بندوق پکڑوا کر اپنے ہی مستقبل کے خلاف ایک خطرناک قدم اٹھایا ہے۔
ایک مرتبہ کسی مقصد کے لئے جان دینے کی عادت پڑ جائے تو پھر بات بہت دور تک جایا کرتی ہے۔

Scroll To Top