چالیں، گھاتیں اور وارداتیں

پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں ہی ایک پیج پر۔
ایم کیو ایم کے ووٹ بنک پر شب خون۔
تاہم مال غنیمت کے زیادہ سے زیادہ حصے بٹورنے کے معاملے میں دونوں ہی بی بی لومڑی کے نقش قدم پر گامزن۔
میرے خصوصی ”آلات سماعت و بصارت“ کے مطابق البتہ سودا اِس نقطے پر کھنڈت ہونے کا خدشہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ صوبے میں اپنی اکثریتی بالا دستی کے حوالے سے مذکورہ مال غنیمت پر اپنا اجارہ چاہتی ہے۔ جبکہ نون لیگ کی پیشکش یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو اپنی ”محنت کا پھل“ کھانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ بدلے میں نون لیگ نے اپنے ایک خاص فرنٹ مین کے ذریعے دبئی میں مقیم ”اینٹ سے اینٹ بجا دینے“ کی بڑھکیں لگانے والے زردای کو پیغام بھجوایا ہے کہ شہباز حکومت میں پیپلز پارٹی کو پھر سے قدم جمانے کے لیے مطلوبہ جگہ (Space) فراہم کرے گی اور اپنی تنظیمی کمزوریوں اور اندرونی خلفشار کی شکار تحریک انصاف کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کو بھرپور مدد بھی کر ے گی۔
سیاسی شطرنج کی بساط پر کھیلی جانے والی اس چال کے پیچھے بھی کئی جال بچھے ہوئے ہیں، دونوں پارٹیاں حریف کو ان چالوں میں اُلجھانے اور گرانے کے لیے خفیہ ہتھکنڈے بروئے عمل لا رہی ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتیں کہ ماضی کے برعکس یہ عہد ان کی باریکیوں کا زیادہ ادراک رکھنے لگا ہے۔ پھر ویسے بھی مکار، عیار اور چالاک کھلاڑی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو ہی عقل کل یقین کرنے لگتا ہے اور یہی حقیقت اسے ڈھلوان کے ہلاکت خیز پاتال کی طرف لڑھکا دیتی ہے۔
دبئی سے آئی ”ہز ماسٹر وائس“ کو سیدھا مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ نے بے موقع اپنے دہن سے اُگل دیا۔ بولے ”اب یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے ناں کہ کراچی کا منتخب میئر جیل میں بند ہو“۔
یہ ایک فقرہ غور فرمایئے کس اندورنی گھات اور واردات کی غازی کرتا ہے۔ وہی جس کی میں نے سطور بالا میں نشاندہی کی ہے۔
24اگست کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں اہل کراچی میں غالب اکثریت نے وسیم اختر کو ان کے سیاسی رفقاءکو ووٹ دے کر اپنے فیصلے کا اظہار کر دیا تھا۔ تب سے لے کر اگلے پندرہ بیس گھنٹے ایک شدید تذبذب اور سوسے سے لتھڑے رہے۔ کیا وسیم اختر کو ملنے والے ووٹ ایم کیو ایم لندنے کے تھے یا اس کے کراچی ایڈیشن کے۔ دوسرے لفظوں میں کیا وہ الطاف حسین کی سابقہ کرشمہ صفتی یا ”ووٹر لیڈر رومانس“ کا شاخسانہ تھے یا نئے دولھا بھائی فاروق ستار سے لگاﺅ کا سبب تھے۔ تاہم پندرہ بیس گھنٹے تک موجود رہےنے والا یہ وسوسہ اور مخمصہ 25کی صبح جب اہل کراچی وسیم اختر کی کامیابی کی خبروں سے اَٹے پڑے اخبارات کو دیکھ رہے تھے، ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گیا۔ پورے شہر کراچی کو سال ہا سال سے لٹکتی ”الطاف حسین “ کی تصویروں سے پاک صاف کیا جارہا تھا۔ یہی نہیں صوبائی حکومت میں پھیلے ہوئے ایم کیو ایم کی اڑھائی سو سے زیادہ غیر قانونی دفاتر مسمار کرنے کی مہم شروع کردی گئی تھی۔ مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ اس غیر معمولی اور غیر متوقع پیش رفت پر کسی طرف سے کسی بھی درجے کا کوئی منفی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ اس کے بر عکس ماضی میں ایم کیو ایم کو پسند نے آنے والی کسی چھوٹی سے پیش رفت پر بھی یہ فسطائی جتھہ آسمان سر پر اُٹھا لیتا تھا۔
اس ایک حقیقت نے ایک بڑی ذہنی تبدیلی پر اصابت کی مہر چسپاں کر دی اور وہ یہ کہ ایم کیو ایم کا ووٹ اب الطاف سے زیادہ کراچی ایڈیشن، فارو ق ستار اور وسیم اختر سے جڑ چکا ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعلیٰ سند ھ مراد علی شاہ کا جملہ دوبارہ پڑھئے۔ ”اب یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے ناں کہ کراچی کا منتخب میئر جیل میں بند ہو“۔ زرداری اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کراچی کے ووٹروں کے دل جیتنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معمالہ نواز شریف کے ساتھ بھی چمٹا دِکھتا ہے۔ وہ بھی اپنی کچن کیبنٹ کے ساتھ کئے جانے والے ”ناشتہ اجلاسوں“ میں کہتے پائے جاتے ہیں۔
”….صاب کُج کراچی دا وِی سوچو“
آپ سوچتے ہوں گے کہ میٹرو بسوں اور اورنج ٹرین میں اُلجھے ہوئے میاں صاحب کو کراچی کا خیال کیسے آگیا اور دبئی سے ریموٹ کنٹرول حکومت کرنے والے زرداری کو بذریعہ مراد علی شاہ ، وسیم اختر سے محبت اور ہمدردی کیونکر ہو گئی۔
آگے بڑھنے سے پہلے بساط سیاست کو ایک اور خفیہ چال بابت آگہی پالیجئے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی بھرپور کوشش ہے کہ ایم کیو ایم کی شکستہ رُو ساخت کو مزید ضربیں لگائی جائیں اور اس میں کئی مزید دھڑیں ابھارے جائیں۔ فاروق ستار دھڑا، مصطفےٰ کمال دھڑا اور آفاق احمد دھڑا تو پہلے سے برسر عمل ہیں ۔ اب بابر غوری، فیصل سبزواری اور عامر لیاقت حسین وغیرہ وغیرہ پر بھی کام ہور ہا ہے۔ ازاں بعد ان دھڑوں کو باہمی سر پھٹول میں اس طرح اُلجھا دیا جائے گا کہ ایم کیو ایم کے ووٹ بنک کا غالب حصہ بددِل اور بدظن ہو کر دوسری جماعتوں کی طرف دیکھنے لگے گا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی اور نو ن لیگ بھرپور طور پر ایم کیو ایم کے ووٹ بنک کو اپنی طرف کھینچنے اور راغب کرنے کے لیے اپنے تیئں ایک غیر معمولی پیش رفت کریں گی۔ اسے طمانیت ، تشفی یا تالیف قلب یعنی (APPESEMENT) کے لیے اقدمات لئے جائیں گے۔ ان کے کچھ آثار تو ابھی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آنے والے ایام میں ایک مجموعی صورت حال سامنے آئے گی ۔ جسے میں ”این آر او ٹو“ کے عنوان سے انشا اللہ اپنے آئندہ کالم میں قلم بند کروں گا۔

Scroll To Top