کیمیا کا نوبیل انعام نینو ٹیکنالوجی کا تصور پیش کرنے والے سائنس دانوں کو دیا گیا ہے

مالیکیول

کیمیا کے میدان میں سنہ 2016 کا نوبیل انعام ان تین سائنس دانوں کو دیا گیا ہے جنھوں نے دنیا کی سب سے چھوٹی مشینوں کا تصور پیش کیا تھا۔

اس بات کا اعلان بدھ کو سویڈن میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا گیا۔

کیمیا کے نوبیل انعام کی کل رقم 80 لاکھ کرونر (سات لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ) ہے جو یاں پیاخ ساویج، سر فریزر سٹوڈرٹ اور برنرڈ فیرنگا میں تقسیم کی جائے گی۔ یہ انعام ان تینوں کیمیا دانوں کی ان تخلیقات کا اعتراف ہے جس کے تحت انھوں نے مالیکولی سطح پر کام کرتے ہوئے نہایت باریک مشینوں کے ڈیزائن ترتیب دیے۔

ان تینوں ماہرین نے جن مشینوں کے ڈیزائن بنائے ہیں وہ انسانی بال سے بھی ہزار گنا کم باریک ہوں گی۔

یہ ننھی ننھی میشنیں اتنی باریک ہوں گی کہ انھیں انسانی جسم میں ڈالا جا سکے گا جہاں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ دوا پہنچا سکیں گی۔ مثلاً ان کے استعمال سے کینسر کی دوا ان خاص خلیوں تک پہنچائی جا سکی گی جو کیسنر سے متاثر ہوں گے۔

سٹوڈارٹImage 
پروفیسر فریزر سٹوڈارٹ

انعام پانے والے ماہرین کی تحقیق کی بنیاد پر ‘نینو ٹیکنالوجی’ کے میدان میں مستقبل میں مزید سمارٹ میٹیرئل بھی بنائے جا سکیں گے۔

کیمیا کے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے رکن اولوف رامسٹروم کا کہنا تھا کہ ان ‘تینوں ماہرین نے مالیکول کی سطح پر چیزوں کی نقل و حرکت پر عبور حاصل کیا ہے۔’

نوبیل انعام ملنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر فیرنگا کا کہنا تھا کہ ‘مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس موقعے پر کیا کہوں۔ مجھے اس انعام کا سن کر شدید حیرت ہوئی ہے۔ میں بہت جذباتی ہو رہا ہوں۔’

مالیکولر مشینوں کا تصور پیش کرنے کا سہرا اکثر مشہور ماہر طبیعیات رچرڈ فائن مین کے سر باندھا جاتا ہے۔

مالیکیول 

سنہ 1959 میں کیلیفورنیا میں لیکچر دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ‘مادے کی تہہ (مالیکول کی سطح) کو دیکھا جائے تو وہاں اب بھی کام کرنے کی بہت جگہ موجود ہے۔’

اسی مشہور لیکچر کے دوران انھوں نے یہ خیال بھی متعارف کرایا تھا کہ ایک دن طب کے شعبے میں اتنی چھوٹی میشنیں بنانا ممکن ہو جائے گا کہ جن کے استعمال سے ایسا محسوس ہو گا جیسے آپ کا سرجن آپ کے جسم میں داخل ہو گیا ہے۔

Scroll To Top