کیا دین اسلام کا بھی کوئی متبادل بیانیہ ہو سکتا ہے؟

salman-anwer

وزیراعظم نوازشر یف صاحب نے ”پاکستان کے وجود میں روح کی سی حیثیت نظریہ¿ پاکستان“ مخالف بیان ہولی فیسٹیول کے موقع پر دیا وہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔ ایسے بیانات جناب نوازشریف کی شخصیت کے نمایاں پہلوو¿ں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے چار نومبر 2015ءکو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس میںخطاب کے دوران نظریہ پاکستان کی روح کے منافی کہا تھا کہ”عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے“۔اسی طرح11 2017ءمارچ کو وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے جامعہ نعمیہ لاہور اپنے خطاب میں علماء سے کہا کہ ”دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے فتوو¿ں سے آگے نکلنا اور قوم کے آگے دین کا متبادل بیانیہ رکھنا ہوگا اور مدارس کی تعلیم بھی اس کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے۔“یہاں یقینا الفاظ اور تراکیب کا درست استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ”دین کا متبادل بیانیہ“ جیسی تراکیب سے یوں تاثر ملتا ہے کہ شاید دہشت گردی، تکفیریت، عدم برداشت یہ سب اس اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں استعمار کی تاریخ کا مطالمہ ہر دور میں کم و بیش یکساں طور پر یہی بتاتا ہے کہ استعماری حکمران طبقے کو یہ خدشہ اور دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ محکوم و مغلوب قو م آزادی کے حصول کے لئے ا±ٹھ نہ کھڑی ہو جائے۔ اس لئے ا± س کی کوشش ہوتی ہے کہ مغلوب کو سلائے رکھے اور ا±س سے اپنے آبا و اجداد کے وہ تاریخی واقعات و تعلیمات جو ان کی عظمت رفتہ کی نشانیوں کے حامل ہوتے ہیں یا تو بھلائے رکھنے کے انتظامات کریں یا ا±ن کو ایسے انداز میں نئی نسلوں کو پڑھا نے اور سکھانے کے انتظامات کئے جائیں جس سے روح نکلی ہوئی ہو۔
میرے نزدیک یہ سیاسی تصادم کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل بات یہ ہے کہ مغرب سے مسلمانوں کا ٹکراو¿ ایک دوسرے میدان میں ہورہا ہے۔ یہ میدان تہذیب کا میدان ہے، روایات کا میدان ہے، اقدار کا میدان ہے، حیات و کائنات کے بارے میں نقطہ نظر کا میدان ہے۔ مسلمان دانشوروں اور اہل علم کی ساری توجہات اس وقت سیاست کے میدان میں ہیں۔
ہماری تہذیب جو خدا پرستی اور فکر آخرت کی اساس پر قائم ہے اور عفت وعصمت کے ستونوں پر کھڑی ہے، مغرب دنیا پرست اور آزاد تہذیب سے مغلوب ہونا شروع ہوگئی ہے۔چند دہائیوں کی بات ہے، اس کے بعد ممکن ہے کہ(خاکم بدائن) ہم قوم پرستی کے جذبے سے مغرب کے خلاف کھڑے ہوں، مگر ہم تہذیبی طور پر مغربی انداز فکر کو قبول کرچکے ہوں گے۔
انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اسلام کی صورت میں بہترین ضابطہ حیات اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاءحضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اپنی کامل اور اکمل ترین شکل میں عطا فرمایا۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس لگن اور ذمہ داری کے ساتھ انسانیت کو پستی سے نکال کر جس رفعت تک پہنچایا تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہمارے لئے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ایک بہترین ماڈل ہے جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی نظام وضع کیا گیا۔
پاکستان کا مفاد پرست مقتدر ٹولہ خوفزدہ ہے کہ اگر اس نظریہ و فکر کی ترویج کی گئی اور اس کا اطلاق ہوگیا تو اس سے نسل در نسل ان کے مفادات کو کاری ضرب لگ جائے گی۔یاد رکھیں! یہ وطن عزیز پاکستان بہت سے مماثلتوں سے ریاست مدینہ کی ہوبہو تمثیل ہے، ایسی تمثیل جس کا نمونہ دنیا کو گزشتہ چودہ سوبرس میں دیکھناکبھی نصیب نہیں ہوا۔
قیام پاکستان کی تحریک کے دوران جب قائد اعظم سے پاکستان کی قانون سازی کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے چودہ سو سال قبل ہو چکی ہے۔ قائد کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے وجود میں آنے والی یہ نظریاتی ریاست اب ریاست مدینہ کی عملی تصویر ہوگی۔ لیکن افسوس آج اسلامی جمہوریہ پاکستان پر جاگیرداروں، سرمایہ داروں، چور اچکوں اور بد معاشوں کا قبضہ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست پاکستان کو بھی ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی مملکت بنایا جائے تاکہ یہ ملک قائدِ اعظم کی خواہش کے مطابق پیغمبرِ گرامیءقدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریاستِ مدینہ کی جھلک دنیا کو دکھا سکے۔ اس کے لئے ہمیں شعور کی دھار سے غلامی کی زنجیر کو کاٹنا ہوگا۔

Scroll To Top