روایتی سیاسی حربوں سے دامن چھڑانا ہوگا

وزیراعظم نوازشریف کا یہ کہنا غلط نہیں کہ بھارت سات لاکھ فوج کے باوجود نہ تو کشمیریوںکے جذبہ حریت کو کچل سکا ہے اور نہ ہی وہ کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم رکھ سکتا ہے۔پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کے سینے چھلنی کرنے اور کے چہرے مسخ کرنے یا انھیں اندھا کرنے سے اس تحریک کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ انھوں نے نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ واقعی انقلاب چاہتے ہیں تو اپنے قول وفعل کا تضاد دور کیجیے۔نواشریف کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو مگر یہ جنگ بارود سے نہیں لڑی جاسکتی۔ “
بلاشبہ مسلہ کشمیر کو حل کرنے اور پاک بھارت کشیدیگی کے خاتمے کے تناظر میں پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس کی اپنی اہمیت ہے مگر اعتراض یہ ہے کہ حکومت کو اب اس سے آگے بڑھ کر بھی اقدمات اٹھانے ہونگے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا یہ کہنا غلط نہیں کہ مظلوم کمشیریوں کی داد رسی کے لیے حکومت کو ایسے اجلاسوں سے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں متعدد بار پارلمینٹ کے طویل اجلاس ہوئے ، خوشنما الفاظ سے مذین قرار دادیں بھی پاس ہوئیں مگر ان پر عمل درآمد کی کبھی نوبت نہ آئی۔ ابیٹ آباد میں القائدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر مارنے اور پھر اس کی لاش کو امریکی افواج کے ساتھ لے جانے کے بعد بھی پارلمینٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔ ان دنوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے طویل تقاریر کے زریعہ سماع باندھ دیا مگر ہم سب جانتے ہیں کہ پھر نہ تو اس قرادداد پر عمل درآمد ہوا اور نہ ہی ان وعدوں کے یاد دہانی کروانے کی زحمت گوارہ کی گی۔بادی النظر میں عمران خان کا موقف غلط نہیں کہ پارلمینٹ کو اپنے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے بدعنوانی سمیت ان مسائل کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے جو کروڈوں پاکستانیوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پرمتاثر کررہے۔
وطن عزیز میں رائج جمہوریت کا مسلہ یہ ہے کہ یہ کسی طور پر عوام کے ان مسائل کا مدوا کرنے کو تیار نہیں جو کئی دہائیوں سے ان کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہیں۔ خبیر تا کراچی کروڈوں پاکستانی تعلیم اور صحت کے شبعہ میں ایسی اصلاحات لانے کا مطالبہ کررہے جو ان کے اور ان کے خاندان کے لیے بہتری کی کوئی صورت پیدا کرڈالے۔ بدقسمتی کے ساتھ سیاسی اشرافیہ بڑے عوامی مسائل سے عملا لاتعلق ہے۔ یہ کسی کے لیے تشویش ناک نہیں کہ وطن عزیز میں شرح غربت میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حال ہی میں عالمی بنک اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان اور بھارت میں غربت میں کسی طور پر کمی نہیں ہورہی۔ اس سوال کا جواب ارباب اختیار کو یقینا دینے کی ضرورت ہے آخر کیونکر ترقی کے ثمرات ان پسے ہوئے طبقات تک نہیں پہنچ پارہے جن کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم نوازشریف نے نریندرمودی کو درست پیغام دیا کہ وہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشیش کریں مگر یہ سوال خود حکمران جماعت سے پوچھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے ساڈھے تین سال سے زائد عرصے میں کہا تک مذکورہ شعبوں میں بہتری کے لیے کوشیش کی۔ قومی مسائل کا زمہ دار یقینا بھارت کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بطور قوم ہمیں اس رجحان سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں اٹھائے جانے والے اقدمات ہی ہماری مشکلات کو دوچند کرگے۔ زمہ دار شخصیات کو دراصل خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے کہ کب اور کہاں ان سے کوتاہی سرزد ہوئی اور اس کا مدوا کس طرح کیا جائے۔
ایک نقطہ نظریہ ہے کہ داخلی طور پرمضبوط پاکستان ہی بھارت سمیت ان تمام بدخواہوں کا مقابلہ کرسکتا ہے جو کسی طور پر اس سرزمین کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ قومی قیادت کی زمہ داری ہے کہ وہ اہم ملکی مسائل کو ایک ایک کرکے حل کرکے عوام کی نظروں میں سرخرو ہونے کی کوشیش کرے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف جمہوریت جمہوریت کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تو دوسری طرف عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی سیاسی قوت عملا متحرک نہیں۔
عمران خان کی سیاست سے ہر شخص کو اختلاف کرنے کا حق ہے مگر پی ٹی آئی سربراہ کے اس موقف کو مسترد کرنا مشکل ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اورپاکستان پیلزپارٹی سمیت اہم سیاسی جماعتیں سٹیس کو کو برقرار رکھنے پر متفق اور متحد ہیں۔ سیاست کو اپنے ہی خاندانوں تک محدود کرنے والوں کے ذاتی کاروبار تو ملک کے اندار اور باہر تیزی سے ترقی کی کررہے ہیں مگر ملکی معیشت بہتر ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی نظر میں اہل اقتدار کے الفاظ اپنی قدر وقمیت کھو چکے۔ آج ضرورت ہے کہ روایتی جملوں سے کنارہ کش ہوکر نئے سیاسی کلچر کو نئی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ایک طرف داخلی مسائل پر قابو نہیں پایا جارہا تو دوسری جانب خارجہ محاذ پر بھی قابل زکر کامیابی ہمارا مقدر نہیں بنی ۔ مسلم لیگ ن کے ناقدین کو تو تاحال اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہونے کے باوجود حکومت اب تک وزیرخارجہ کی تقرری کیونکر عمل میں نہیں آسکی۔

Scroll To Top