فوجی قیادت کے امتحانوں کا لامتناہی سلسلہ 28-10-2009

پاکستان کی فوج اور اس کی قیادت آج ایک بہت بڑی آزمائش اور امتحان کا سامنا کررہی ہے۔ سوات آپریشن کو فوج نے بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ اور اب جنوبی وزیرستان کے محاذ پر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیاہے جو خون کا خراج لئے بغیر نہیں رہے گی۔ ہمارے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درست کہا ہے کہ جس خوفناک اور خون آشام دہشت گردی کی لپیٹ میں ہماری شہری آبادیاں آئی ہوئی ہیں اس کا مکمل قلع قمع کرنے کے لئے جنوبی وزیرستان کی فوجی مہم میں کامیابی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی درست کہا ہے کہ اس فیصلہ کن مہم میں پوری قوم اپنی بہادر فوج کے پیچھے کھڑی ہے۔
ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ شہیدوں کا لہو رنگ لائے بغیر نہیں رہے گا۔
مگر بات میں اس امتحان اور آزمائش کی کررہا تھا جس کا سامنا ہماری فوجی قیادت کو ہے۔
ایک امتحان عسکری محاذ پر درست فیصلے کرنے ` درست حکمت عملی اختیار کرنے اور درست نتائج حاصل کرنے کے میدان میں ہے۔
دوسرا امتحان ہمارے بعض سیاسی اور فکری حلقوں میں پائی جانے والی اس تشویش کے حوالے سے ہے کہ کہیں سیاسی حکمرانوں کی ناکامیوں اور نالائقیوں کو جواز بناکر ہماری فوجی قیادت پھر سیاست میںمداخلت نہ کرے۔ اگرچہ فوجی قیادت اپنے رویوں سے پوری طرح واضح کرچکی ہے کہ وہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ کو کامیاب و کامران دیکھنا چاہتی ہے ` پھر بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو اس ضمن میں ہماری فوج کو ایک مستقبل نفسیاتی دباﺅ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
ایک تیسرا امتحان بھی ہے جس کا سامنا ہماری فوجی قیادت کو زیادہ شدت کے ساتھ کرنا پڑے گا۔ آج کل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فیڈریشن کے مستقبل کے حوالے سے بڑے خوفناک سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں بلوچستان کے حالات کو بالخصوص اچھالا جاتا ہے۔
میں یہاں ابراہم لنکن کے دور کا ذکر کرناچاہوں گا ۔ ایک وقت آگیا تھاکہ امریکی قیادت کو امریکی فیڈریشن بچانے کے لئے ایک خونریز سول وار لڑنی پڑی۔
کوئی بھی درد مند شخص نہیں چاہتا کہ حالات ہمیں ایسے مقام پر لے جائیں کہ ایک ” بڑا“ فیصلہ کئے بغیر فیڈریشن کا تحفظ ہمارے لئے مشکل ہوجائے۔
مگر امتحان کا وہ وقت آ بھی سکتا ہے۔
تب ہماری فوجی قیادت کو تمام بڑے فیصلوں میں شریک ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہوگا۔
تب کسی کے پاس اس قسم کا سوال اٹھانے کا جواز نہیں رہے گا کہ کیری لوگربل کے بارے میں اپنے تحفظات کے اظہار کے لئے جی ایچ کیو نے پریس ریلیز کیوں جاری کرائی ؟
پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ جمہوریت بھی ہے۔ حکومت بھی ہے۔ سیاست دان بھی ہیں۔۔۔

Scroll To Top