اس نظام کو کون تبدیل کرے گا اور کیسے تبدیل کرے گا ؟

نظام کی تبدیلی کی بات پاکستان میں ہر سطح اور ہر پلیٹ فارم پر ہوچکی ہے۔ مگر کوئی لیڈر سیاست دان یا جماعت اس سوال پر بحث کرنے یا اس کاجواب دینے کے لئے تیار نہیں کہ نظام تبدیل کیسے ہوگا۔۔۔اور نظام کی تبدیل سے مراد کیا ہے۔۔۔
کیا حکومت کرنے یا کاروبارِ مملکت چلانے کے لئے فرشتے آسمان سے اتریں گے ۔؟ یا پھر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوجائے گی کہ اِن ہی گنہگار بندوں میں سے ایسے بندے سامنے لائے جائیں گے جو کچھ کم گنہگار ہوں گے یا جنہیں گناہ کے مواقع ذرا کم ملیں گے ۔۔۔؟ یہ امر واقعہ ہے کہ ملک میں ایک ہی قسم کے لوگ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ہوئے ہیں۔ ہر جماعت میں کچھ لوگ کم گنہگار ہیں اور کچھ زیادہ گنہگار ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جماعت کے سربراہ کا کردار اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ نیچے دیگر لوگوں میں ضرور منتقل ہوتاہے۔
مثال کے طور پر پیپلزپارٹی میں آپ کو ہر سطح پر چھوٹے موٹے زرداری سرگرم عمل ضرور نظر آئیں گے۔۔۔
اور مسلم لیگ (ن)میں میا ں صاحب کی کاروباری ذہنیت کااثرجڑوں تک پھیلا ہوا ہوگا۔یہی کچھ عمران خان کی تحریک انصاف کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف میں بھی لوگ ویسے ہی ہیں جیسے دیگر جماعتوں میں ہیں لیکن وہ عمران خان کے ذاتی کردار کے اثرات قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ۔۔یا پھر ایسے لوگ اس جماعت میں گئے ہوں گے جو عمران خان کے کردار اور افکار سے متاثر ہوں گے۔۔۔ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے وہ ایک ایسی جماعت ہے جسے ہر فوجی ڈکٹیٹر نے ” حیات نو “ بخشی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی مسلم لیگ قائم کی۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنی مسلم لیگ قائم کی (جو مسلم لیگ نون کے نام سے آج برسراقتدار ہے)اور جنرل پرویز مشرف نے اپنی مسلم لیگ قائم کی جو اب صرف چوہدری برادران کی صورت میں زندہ ہے۔۔۔
صرف پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دوایسی جماعتیں ہیں جو شخصی مقبولیت یا نظریاتی کشش کی بنیاد پر پھلی پھولی ہیں۔۔۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔۔۔
بات میں نظام کی تبدیلی کی کررہا تھا جس کے بغیر یہ ملک ابن الوقتوں ` طالع آزماﺅں دولت پرستوں ` خوشامدیوں ` خوشامدپسندوں اور مفادات کی خاطر ضمیر بیچنے والوں کے شکنجے سے آزاد نہیں ہوگا۔۔۔
موجودہ نظام میں پارلیمنٹ قانون سازی بھی کرتی ہے اور حکمرانی بھی۔۔۔
وہی لوگ سیاست میں قدم رکھتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ ۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ قومی اسمبلی یا سینٹ کا رکن بننا ایک کاروبار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔۔۔ اور کاروبار کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ جو بھی سرمایہ اس پر لگایا جائے وہ کئی گنا اضافے کے ساتھ واپس آئے۔۔۔
حکمران جماعتوں کے لیڈروں کی بے انداز دولت مندی کا راز یہی ہے۔ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے سرمایہ لگاتے ہیں ۔۔۔ اور اقتدار میں آکر اپنے ” لاکھوں “ کو ” کروڑوں “ میں ” کروڑوں“ کو ”اربوں “ میں اور اربوں کو کھربوں میں تبدیل کرتے ہیں۔۔۔
اس ضمن میں یہ کہنا مشکل ہے کہ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری ہنوز اربوں میں ہی کھیل رہے ہیں یا کھربوں کی معراج پا چکے ہیں۔۔۔
لیکن یہ سمجھنا آسان ہے کہ وہ اس جمہوریت کی حفاظت کے لئے سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار کیوں نظر آتے ہیں۔۔۔
پاکستان کے پاس اِس نظام کو تبدیل کرنے کے علاو ہ کوئی اور آپشن نہیں۔۔۔
لیکن یہ نظام تبدیل کیسے ہوگا۔۔۔؟
کیا اس نظام کے فیض یافتگان اس نظام کی تبدیلی کے لئے قانون سازی کرکے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی ماریں گے ؟
پھراس نظام کو کون تبدیل کرے گا ۔۔۔اور کیسے تبدیل کرے گا؟

Scroll To Top