قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر اتفاق

  • وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد کے حوالے سے مختلف امورپر غور، سکیورٹی اداروں کی کار کر دگی تعریف
  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل راشد محمود، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، داخلہ بھی موجودتھے
  • زیراعظم نوانیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے صوبائی حکومتوں کا کردار اہم ہے، ہم سب کیلئے مشنری جذبے کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے،ناصر جنجوعہ
اسلام آباد،وزیراعظم نوازشریف نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد،وزیراعظم نوازشریف نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک کی اندرونی و بیرونیسیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل راشد محمود، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، داخلہ، دفاع اور خزانہ کے وزرا، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، ڈی جی ایم آئی، مشیر قومی سلامتی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی صورتحال، ڈی جی ملٹری آپریشنز نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت جب کہ سیکرٹری خارجہ نے وزیر اعظم کے دورہ امریکا و اقوام متحدہ سمیت مقبوضہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کی گئی کوششوں پر بریفنگ دی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کے کسی بھی ایڈونچر کے مقابلہ کیلئے پاک فوج پوری طرح تیار ہے۔ بھارت کا سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ بے نقاب ہو چکا اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کا مو¿ثر جواب دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا پاکستان خطے سمیت دنیا میں قیام امن کی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کشمیری عوام حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کشمیریو ں کی ہر فورم پر سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کسی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور ہم امن اور مشترکہ بہتری پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے سیاسی و عسکری قیادت اور پوری قوم متحد ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان کو کھوکھلے موقف اور جارحیت سے دھمکایا نہیں جا سکتا۔

وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کے جائزہ اجلاس میں بتایاگیا
ہے کہ ملک میں شدت پسندی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باعث شدت پسندی اور سنگین نوعیت کے واقعات میں 70 سے75 فیصد کمی آئی ہے ¾ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کےلئے پرعزم ہے ¾ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کےلئے صوبوں سے مکمل تعاون کرےگا۔وزیر اعظم آفس اسلام آباد میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے جائزے کےلئے اجلاس منعقد ہوا، جس میں گورنر خیبرپختونخوااقبال ظفر جھگڑا‘ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف‘ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ‘ وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک‘ وزیراعلی بلوچستان میر ثناءاللہ زہری‘ وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن‘وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان‘وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید‘آرمی چیف جنرل راحیل شریف ‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی‘وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ‘ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر‘ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمدچوہدری‘ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان ¾ فواد حسن فواد‘ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحرشمشاد مرزا‘ ڈی جی ایم آئی میجر جنرل ندیم ذکی منج‘ ڈی جی (سی ٹی) میجر جنرل طارق قدوس شریک ہوئے ۔اجلاس کے دوران عسکری قیادت نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال اور بھارتی جارحیت کے جواب میں کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی ¾اس کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور اور نیشنل ایکشن پلان کی ٹاسک فورس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد سے متعلق صوبوں کے مسائل پر رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں صوبوں کےساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے کا جائزہ اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف اقدامات تیز کرنے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دور ان چاروں صوبوں کے حکام نے بتایا کہ ملک میں شدت پسندی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باعث شدت پسندی اور سنگین نوعیت کے واقعات میں 70 سے75 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں۔اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے فورتھ شیڈول کے تحت 2000 سے زائد افراد کے بینک اکاونٹس منجمد کرنے کے بارے میں بتایا گیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فورتھ شیڈول کے تحت 8000 سے زائد افراد کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں جبکہ اس کے علاوہ جتنے اکاو¿نٹس منجمدکیے گئے ہیں اگر ان میں سے کوئی رقم نکلوانے کے کوشش کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ ہائی پروفائل مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔اجلاس میں اس پلان کے تحت شدت پسندوں کے خلاف کی گئی ٹارگٹیڈ کارروائیوں سے متعلق بھی بتایا گیا۔وزرائے اعلیٰ نے اپنے علاقوں میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس ضمن میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے دین کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی شرکا کو آگاہ کیا۔جلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کےلئے پرعزم ہے، وفاق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے صوبوں سے مکمل تعاون کرے گا وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کےلئے صوبائی حکومتوں کا اہم کردار ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں ملکی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بھارت کی جانب سے جارحیت کے حوالے سے بھی غور کیا گیا ۔

Scroll To Top