نظریہ پاکستان کی حیثیت پاکستان کے وجود میں روح کی سی ہے

salman-anwer

گذشتہ دنوں وزیراعظم محمد نواز شریف نے ہولی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذہبی مخالفت میں قائم نہیں ہوا بلکہ کسی بھی تصادم کو روکنے کیلئے وجود میں آیا، مذہب کی بنیاد پر فرق روا رکھنا کسی طور بھی درست نہیں، انہوں نے کہا کہ” ہم اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے خدا کی اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔ کوئی اللہ کہتا ہے۔ کوئی خدا کہتا ہے۔ کوئی بھگوان کہتا ہے لیکن تمام مذاہب کا ایک ہی درس ہے۔“
میں جناب وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب کو حقائق سے دوبارہ روشناس کراتا چلوںکہ اللہ اور بھگوان کو(نعوذ باللہ) ایک صف میں کھڑا کرنے سے پہلے اور دین اسلام کو ہندو مت کے ساتھ ملانے سے پہلے انہیں زمینی، الہامی ، مذہبی اور فکری اقدار کا احاطہ کرنا چاہیے تھا۔ بلاشبہ اسلام انسانیت کا دین ہے ۔ اور اسلام سے زیادہ انسان کی تعظیم و اس کے حقوق کوئی اور مذہب نہیں دیتا ہے۔
وزیراعظم صاحب! پہلے تو آپ یہ تعین و تخصیص کریں کہ بھگوان کہنا کس کو ہے۔ ہندو¿ کو پتھر کی مورت میں بھگوان نظر آتا ہے، تو کبھی گائے میں صورت میںبھگوان نظر آتا ہے۔ہر اچھی چیز بھگوان نظر آتی ہے، ہر طاقتور چیز کو بھگوان بتاتے ہیں۔ سورج، چاند، آگ، پانی، پہاڑ پربت، ہوا، سانپ، شیر، گائے وغیرہ سب کچھ بھگوان نظر آتے ہیں۔ لیکن قادر مطلق ” اللہ“ خالق کائنات وہ ہے جو ایک ہے ، اس کے جیسا کوئی نہیں، نہ اس کو کسی نے جنم دیا اور نہ اس نے کسی کو جنم دیا، وہ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔اس لیے ہرگز تمام مذاہب کا درس ایک جیسا نہیں ہے۔
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولﷺاور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔
نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ”ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
مفکر اسلام مفکر پاکستان شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے قیام پاکستان کی جو فکر اور نظریہ پیش کیا یہ وہی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر مدینہ منورہ جیسی ناقابل تسخیر ریاست معرض وجود میں آئی۔ جس کا دستور پوری دنیا کے لئے قابل عمل ٹھہرا۔ عدل و انصاف، مساوات اور خدمت انسانی جیسے کاموں میں اس نے نمایاں نام کمایا جس کی روشن کرنوں نے دنیا کے ظلم کدوں کو شمع توحید سے منور کیا، جہالت کو ختم اور علم کو عام کیا۔ انسانی تاریخ میں انقلابی تبدیلی آئی، لوگ تنزلی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے اور کرہءارض کے مثالی انسان اور مومن و مسلمان بنے۔ انہی لوگوں نے انسانیت کی آزادی کے لئے پاکیزہ جدوجہد کرتے ہوئے ہجرت و جہاد سے تعلق جوڑا، گھر، کاروبار چھوڑا، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ سے جنتوں کا سودا کیا جو بڑا ہی کامیاب سودا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں آج اگر خرابیاں، کرپشن، لوٹ مار، رشوت و سود، رسہ کشی دونمبری، نوسر بازی، بے راہ روی، قتل و غارت اور مار دھاڑ موجود ہے تو نظریہ کی وجہ سے نہیں لوگوں کے غلط نظریات، برے اقدامات کے سبب ہے۔ وطن عزیز کی اسمبلیوں، سینٹ اور پارٹیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انڈیا کی بولی بولتے اور ان کے ایجنڈے کو لے کر چلتے ہیں۔بھارت کی خوبیاں اور پاکستان کی خامیاں بیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے کر تجارت کو فروغ دے کر پاکستان کو اقتصادی طور پر اپاہج بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام ایک نظریے کے تحت عمل میں آیا۔ نظریہ پاکستان کی حیثیت پاکستان کے وجود میں روح کی سی ہے جس کے بغیر پاکستان کے قیام کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان ہند شعوری طور پر ایک نظریے کے تحت آزاد مسلمان مملکت کے قیام کی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ آج ہمارے تعلیمی نظام کی بے ثمریت، ریاستی و ادارتی بے مقصدیت اور قومی سطح کی بے شعوری کے باعث قیام پاکستان کے تقریباًپون صدی بعد نظریہ پاکستان پر تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے اور یہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نظریہ پاکستان کو تلاش کریں، اس کی تعریف متعین کریں ۔
حریت رہنما سید علی گیلانی نے 23مارچ کے موقع پر پیغام دیا ہے کہ پاکستان مسلم اُمہ کی امیدوں کا مرکز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام جغرافیائی نہیں نظریاتی بنیادوں پر عمل میں آیا ہے، ہر پاکستانی کو اس کے بنیادی اصولوں اور نظریے کی حفاظت کےلئے اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے۔رہی بات پاکستان کو اسلامی، فلاحی اور ماڈرن ملک بنانے کی، تو ایسا حکیم الامت علامہ اقبالؒ اور حضرت قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ اسلئے تو جب پاکستان حاصل ہو چکا تو بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے اسلامیہ کالج پشاور میں 13 جنوری 1948ءکو اپنے خطاب میں کیا۔
”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک قطعہ اراضی حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top